مکہ مکرمہ پر حملے کیخلاف کراچی میں احتجاج کی عرب میڈیا میں خصوصی کوریج

عوامی غصے کے ساتھ ساتھ سرکاری بیانات کو بھی رپورٹنگ کا حصہ بنایا گیا، نظریں پاکستان پر لگ گئیں

September 18, 2026 · اہم خبریں
عوامی غصے کے ساتھ ساتھ سرکاری بیانات کو بھی رپورٹنگ کا حصہ بنایا گیا، نظریں پاکستان پر لگ گئیں

عوامی غصے کے ساتھ ساتھ سرکاری بیانات کو بھی رپورٹنگ کا حصہ بنایا گیا، نظریں پاکستان پر لگ گئیں

مشرقِ وسطیٰ کے ذرائع ابلاغ نے کراچی میں ہونے والے عوامی مظاہروں کو حوثی ملیشیا کی جانب سے مکہ مکرمہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کے خلاف مسلم دنیا کے شدید ردعمل اور سعودی عرب کے ساتھ عوامی یکجہتی کے ثبوت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ ایم بی سی نیٹ ورک سمیت خلیجی اور عرب میڈیا چینلز نے ان مظاہروں اور پاکستان کے سرکاری ردعمل پر تفصیلی رپورٹس اور ویڈیو بلیٹنز نشر کیے ہیں۔

مقدس مقامات کے تقدس اور عوامی غصے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے نشریاتی اداروں نے کراچی کی سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین کے جذبات کو پیش کیا۔ میڈیا رپورٹس میں اس اقدام کو ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے قبلہ اور مقدسات پر کھلے حملے سے تعبیر کیا گیا۔ رپورٹس اور تبصروں میں کہا گیا کہ ایک طرف حوثی ملیشیا اسلامی مقاصد کے دفاع کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ دوسری جانب ان کے ڈرونز اور میزائل قبلۂ اول اور حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

میڈیا چینلز نے ان مظاہروں کو پاکستان کے سرکاری موقف کے ساتھ ملا کر کور کیا۔ رپورٹس میں وزیراعظم شہباز شریف کے حوثی حملے کی شدید مذمت کے بیان اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس مؤقف کو نمایاں کیا گیا کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور پاکستان دفاعی معاہدوں اور اخلاقی بنیادوں پر سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

مڈل ایسٹ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مخصوص ہیش ٹیگ کے تحت کراچی کی احتجاجی ویڈیوز گردش کرتی رہیں، جنہیں سعودی اور خلیجی صارفین نے سراہتے ہوئے دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تاریخی و قلبی رشتوں کی علامت قرار دیا۔