ایران میں امریکی حملوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ، واشنگٹن نے الزامات مسترد کردیئے

واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، جبکہ مکمل امریکی تحقیقاتی نتائج تاحال منظرعام پر نہیں آئے۔امریکی حکام

September 18, 2026 · اہم خبریں
ایران میں امریکی حملوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ، واشنگٹن نے الزامات مسترد کردیئے

ایران میں امریکی حملوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ، واشنگٹن نے الزامات مسترد کردیئے

ایران میں امریکی حملوں سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن کی رپورٹ پر امریکا نے جنگی جرائم کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

واشنگٹن: اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی مشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں 28 فروری کو ہونے والے دو امریکی حملوں کے حوالے سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے لیے معقول بنیادیں موجود ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس نے رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی حکومت کو جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران کے شہر میناب میں شجَرہ طیبہ پرائمری اسکول کو بھی امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے شامل تھے۔ تحقیقاتی مشن کا کہنا ہے کہ اسکول ایک واضح شہری تنصیب تھا اور اسے فوجی ہدف قرار دینے کے لیے مطلوبہ تصدیق نہیں کی گئی

رپورٹ میں ایران کے شہر لامرد کے ایک اسپورٹس کمپلیکس پر ہونے والے حملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق 22 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔ مشن نے دونوں واقعات میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق سنگین سوالات سے جوڑا ہے

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے میناب اسکول پر حملے کی ذمہ داری براہ راست قبول نہیں کی۔ امریکی حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، جبکہ مکمل امریکی تحقیقاتی نتائج تاحال منظرعام پر نہیں آئے۔

اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں ایرانی حکام پر احتجاجی مظاہروں کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ یوں تحقیقاتی مشن نے امریکی حملوں اور ایرانی حکام کے اقدامات سے متعلق الگ الگ نتائج پیش کیے ہیں