کراچی میں نمازی کا بھیس بدل کر گاڑیاں چرانے والا 57 سالہ کار لفٹر گرفتار
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت کی اور کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا۔
کراچی میں نمازی کا بھیس بدل کر گاڑیاں چرانے والا 57 سالہ کار لفٹر گرفتار
کراچی: کراچی پولیس نے ایک ایسے 57 سالہ مبینہ کار لفٹر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مسجد میں نمازی کا روپ دھار کر باہر کھڑی گاڑیوں کو نشانہ بناتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا تعلق گھوٹکی سے ہے اور اس کے خلاف مختلف مقدمات کا ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے۔
اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) کے مطابق گلشن اقبال کے ایک علاقے میں چند ماہ قبل مسجد کے باہر سے گاڑی چوری ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تھی۔ فوٹیج میں ایک شخص کو مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد باہر آکر ایک مہران گاڑی لے جاتے دیکھا گیا تھا۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت کی اور کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا۔ گرفتار شخص کی شناخت انصاف علی ولد میر خان کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم مبینہ طور پر سال 2000 سے جرائم میں ملوث رہا ہے اور اس کے خلاف 14 مقدمات کا ریکارڈ ملا ہے۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ گاڑی چوری کرنے کے لیے گھوٹکی سے کراچی آتا اور واردات کے بعد چوری شدہ گاڑی کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ منتقل کرکے فروخت کرتا تھا۔
ایس ایس پی اے وی ایل سی خالد مصطفیٰ کورائی کے مطابق ملزم فجر کی نماز کے اوقات میں گاڑیوں کو نشانہ بناتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ صبح ہونے سے پہلے چوری شدہ گاڑی کراچی سے باہر منتقل کردی جائے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کراچی میں زیادہ دیر قیام نہیں کرتا تھا اور واردات کے بعد گھوٹکی واپس چلا جاتا تھا۔ تفتیش کے دوران چوری شدہ گاڑیوں کے مبینہ خریدار سے متعلق معلومات بھی حاصل ہوئی ہیں، جس کی گرفتاری کے لیے اے وی ایل سی کی ٹیم کوئٹہ روانہ کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کے دوران سامنے آنے والے دیگر ممکنہ کرداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ایس ایس پی اے وی ایل سی کے مطابق گزشتہ 9 برس کے دوران گاڑی چوری کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، جبکہ رواں سال 700 سے زائد چوری شدہ گاڑیاں برآمد کی جاچکی ہیں۔
پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ قیمتی گاڑیوں میں دو ٹریکرز نصب کیے جائیں، کیونکہ گاڑی چوری کرنے والے گروہ عموماً ایک ٹریکر کو ناکارہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دوسرا ٹریکر گاڑی کا سراغ لگانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔