شاداب کے معاملے پر توصیف احمد اور ثقلین مشتاق آمنے سامنے،ایک دوسرے پر الزامات
توصیف کا فیور کا الزام، ثقلین کا ریکارڈنگ سامنے لانے کا مطالبہ
فائل فوٹو
پاکستان کے ماضی کے دو مایہ ناز اسپنرز توصیف احمد اور ثقلین مشتاق، قومی ٹیم کے اسپن آل راؤنڈر شاداب خان کی قومی ٹیم میں شمولیت کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے۔
توصیف احمد نے سوشل میڈیا کے ایک پروگرام میں ثقلین مشتاق پر الزام عائد کیا کہ انہیں اپنے داماد شاداب خان کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور فیور کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔
توصیف احمد نے ثقلین مشتاق کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں فون کیا گیا اور کسی سے کہلوایا بھی گیا، جس کی ریکارڈنگ ان کے پاس موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط بات غلط ہے۔
شاداب خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے توصیف احمد نے کہا کہ باہر سے آکر کنٹریکٹ لے لیتے ہو، جبکہ شان مسعود جو کپتان ہے، اسے سی یا ڈی کیٹیگری دی جاتی ہے، کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان فٹ ہوکر یہاں بھی چلے جاتے ہو اور وہاں بھی، اور بیٹھ کر فیور کر رہے ہیں۔
توصیف احمد نے کہا کہ وہ سب کی بات نہیں کر رہے، لیکن جن گریٹ پلیئرز نے اچھی کرکٹ کھیلی، وہ کوچنگ میں آکر فیل ہوگئے۔ ان کے مطابق جب کھلاڑی اچھا نہیں کر رہا ہو اور آپ فیور کریں تو یہ بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سفیان مقیم کا کیا قصور ہے؟
دوسری جانب ثقلین مشتاق نے سوشل میڈیا پر توصیف احمد کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا ہے کہ آپ کے پاس ریکارڈنگ موجود ہے، تو اسے ثابت کریں اور عوام کے سامنے جاری کریں۔
ثقلین مشتاق نے کہا کہ انہوں نے توصیف احمد کو احترام کے ساتھ فون کیا تھا کیونکہ وہ انہیں اپنا سینئر سمجھ کر عزت دیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹ نہ بولیں، حقائق نہ چھپائیں اور نہ ہی معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش کریں۔ ثقلین مشتاق کے مطابق ان کے پاس بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے، اس لیے توصیف احمد اپنا ریکارڈ جاری کریں، وہ بھی اپنا ریکارڈ عوام کے سامنے لے آئیں گے۔
ثقلین مشتاق نے کہا کہ عوام کو خود سچ سننے اور حقیقت جاننے دیا جائے۔