فلسطینی سرزمین پر صہیونی دعویٰ مذہبی نہیں نسل پرستانہ بنیاد پر ہے، خواجہ آصف

September 20, 2026 · اہم خبریں
فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلسطینی سرزمین پر صہیونی دعویٰ مذہبی نہیں بلکہ نسل پرستانہ بنیاد پر قائم ہے۔

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سامی (Semitic) ایک لسانی درجہ بندی ہے، نسلی نہیں۔ عرب اور یہودی دونوں ہی نسلی و لسانی لحاظ سے سامی اقوام میں شامل ہیں، اور اس تعریف کے رو سے یہود دشمنی (Antisemitism) عربوں اور یہودیوں دونوں پر لاگو ہوتی ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کے معروف مؤرخ شلومو سینڈ (Shlomo Sand) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شلومو سینڈ نے سامی کو ایک لسانی و ثقافتی اصطلاح قرار دیا ہے نہ کہ نسلی زمرہ۔ ان کے مطابق یہودی ایک مذہبی گروہ ہیں نہ کہ کوئی الگ قوم، اور یہودیت کی شناخت ایک مذہب ہے، بالکل عیسائیت یا اسلام کی طرح۔
خواجہ آصف کی ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ آشکنازی یہودی (Ashkenazi Jews) آٹھویں اور نویں صدی میں وسطی ایشیا سے مشرقی یورپ ہجرت کرنے والے خذری ترک (Khazar Turkic) قبائل کی نسل سے ہیں۔ 70 عیسوی میں قدیم اسرائیل سے جلاوطن ہونے والی ایک متحد یہودی قوم اور 2000 سال بعد ان کی واپسی کا نظریہ انیسویں صدی میں صہیونی مؤرخین کی طرف سے گھڑا گیا ایک فسانہ ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ سامی کوئی الگ قوم نہیں ہیں، اور آج جو لوگ خود کو یہودی کہتے ہیں وہ مختلف مقامات اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے نومسلموں کی طرح مختلف پس منظر کے حامل افراد ہیں۔ صہیونی مؤقم کا مقصد فلسطینی سرزمین پر نسلی بنیاد پر حق جتانا ہے، جبکہ یہ تجزیہ صہیونیوں کے اس دعوے کے فریب کو آشکار کرتا ہے اور اس کا ہدف کوئی فرد، خاندان یا سیاسی گروہ نہیں ہے۔