سعودی عرب میں تیل سپلائی بحال، عالمی قیمتوں میں کمی
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 7 سینٹ کمی کے بعد 98.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی
سعودی عرب میں تیل سپلائی بحال، عالمی قیمتوں میں کمی
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ میں اس کمی کی اہم وجوہات میں سعودی عرب کی جانب سے ایک اہم تیل پائپ لائن کی بحالی اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کے امکانات شامل ہیں۔
آج برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 7 سینٹ کمی کے بعد 98.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 35 سینٹ کم ہوکر 89.27 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
سعودی عرب نے اپنی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل پائپ لائن پر دوبارہ کام شروع کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 11 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد یہ پائپ لائن بند کردی گئی تھی، جس سے ینبع بندرگاہ کے ذریعے خام تیل کی برآمدات متاثر ہوئی تھیں۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل بحیرۂ احمر کی جانب منتقل کر رہا تھا۔ یہ مقدار عالمی تیل سپلائی کے تقریباً 4 فیصد کے برابر بتائی جاتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کی صورتحال چند ہفتے قبل کے مقابلے میں بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے نمائندوں کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقات سے بھی مارکیٹ میں سفارتی مذاکرات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں، جس نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کیا۔
دوسری جانب عراق نے بھی خام تیل کی برآمدات بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق ملک اس وقت روزانہ 30 لاکھ بیرل سے زائد تیل برآمد کر رہا ہے، جبکہ ترکی کے راستے برآمدات کو یومیہ 6 لاکھ بیرل سے زیادہ تک بڑھانے کی توقع ہے۔
امریکا میں بھی خام تیل کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ صنعتی اعداد و شمار کے مطابق 18 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 18 لاکھ بیرل اضافہ ہوا، جبکہ مارکیٹ ماہرین نے ذخائر میں کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔
امریکی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ کے سرکاری ہفتہ وار اعداد و شمار بھی مارکیٹ کی توجہ کا مرکز رہے، کیونکہ ان اعداد و شمار سے عالمی تیل منڈی میں آئندہ قیمتوں کے رجحان کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔