گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو بھرپور مزاحمت کریں گے،بیرسٹر گوہر

دہشت گردی کی بنیاد پرگورنر راج نہیں لگ سکتا،نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی ہونی چاہیے

September 29, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

 چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو بھرپور مزاحمت کریں گے، دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج نہیں لگ سکتا۔

داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 4 اکتوبر کو مارچ کی کال فی الوقت قائم ہے۔ آج جوائنٹ اپوزیشن کی صورت میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی، پیپلز پارٹی نے مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت سے آگاہ کرنے کا کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال، خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور صوبوں کے معاملے پر بات چیت ہوگی۔ اراکین پارلیمنٹ کی پکڑ دھکڑ سنجیدہ معاملہ ہے، تمام جماعتوں کو متفق ہونا چاہیے کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو جو اندیشہ ہے اسے روک دینا چاہیے اور صوبائی خودمختاری پر کوئی ضرب نہیں آنی چاہیے۔ کے پی حکومت اس نہج پر ہے کہ ہمارے ہی وزراء کو اٹھایا جا رہا ہے، یہ حکومتی رٹ اور صوبائی خودمختاری پر بڑی قدغن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں آپ نے ووٹ لے لیے اور کے پی میں سارے اختیارات لے لیے، اگر آج کے پی کی صوبائی خودمختاری متاثر ہوئی تو کل پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی بھی ہوگی۔ صوبائی خودمختاری پر حملے سے وفاق کمزور ہوگا، کسی ایک کو دیوار میں چننے سے وفاق پر ضرب پڑ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی کہا حکومتیں اشاروں سے نہیں بلکہ عوام کے نہ چاہنے سے ختم ہونی چاہئیں۔ سب کو کہتا ہوں کہ غیر آئینی اقدامات سے باز رہیں۔ کے پی میں ہماری حکومت ہے لیکن وفاقی حکومت بھی کچھ نہ کچھ کر رہی ہے، ہمارے وزراء پر فائرنگ کی گئی، دیوار پر لکھا سب کچھ نظر آ رہا ہے، آئینے کے پیچھے کوئی اور ہے۔ غیر جمہوری رویے سے غیر جمہوری قوتوں کو اسپیس ملے گا اور وہ مضبوط ہوں گی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27 ستمبر کو مارچ کی کال دی تھی اور سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر اسے 4 اکتوبر تک موخر کیا۔ لانگ مارچ کو متفقہ طور پر موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہمارا مطالبہ ہے ملاقاتیں اور علاج کراؤ، یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم نے یقین دلایا ہوا ہے کہ نہ ہم دھاوا بولیں گے نہ حملہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں مینڈیٹ عمران خان کا ہے، سہیل آفریدی کو انہوں نے ہی وزیراعلیٰ بنایا ہے، جب تک بانی کی حمایت سہیل آفریدی کو حاصل ہے وہی وزیراعلیٰ رہیں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نورین نیازی سے منسوب جتنی خبریں آئیں، میرے سمیت فیملی نے بھی سب کی تردید کی۔ مشکل حالات میں سب کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عمران خان نے سہیل آفریدی پر ابھی تک عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر راج کس بنیاد پر لائیں گے، سارے اختیارات تو آپ نے پہلے ہی لے لیے ہیں، آپ ایمرجنسی کس بنیاد پر لگائیں گے؟ ایمرجنسی لگا کر کیا آپ پختون مینڈیٹ پر جھاڑو پھیرنا چاہتے ہیں؟

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان وزیراعلیٰ کے پی ہی کریں گے۔ میں نے علامہ راجہ ناصر یا اچکزئی صاحب کو کہا لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کریں۔ اچکزئی صاحب کو وزیراعظم کا خط آیا ہے، ملاقات بھی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی دہشت گردی کے واقعے میں زخمیوں کی عیادت کے لیے گئے تھے۔ سہیل آفریدی نے سابق وزیراعلیٰ سے بھی ملاقات کی، سہیل آفریدی اور علی امین کی ملاقات میں کوئی خاص بات نہیں جس پر بات کی جائے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے، دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج نہیں لگ سکتا۔ واضح کر چکے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد چاروں صوبوں اور پاکستانی عوام کے دشمن ہیں۔ دہشت گردی کے اوپر بیک ڈور چینل سے بھی جب کبھی ملاقات ہوئی، ہم نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ہم کبھی حائل نہیں ہوئے۔ شہداء ہمارا فخر ہیں، ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، شہداء کے جنازوں پر کبھی سیاست نہیں کی، ان کے جنازوں پر بھی جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پس پردہ قوتوں کا نام لینے کی ضرورت نہیں لیکن صوبائی حکومت کے خلاف بھی سازش نہیں ہونی چاہیے۔ وفاقی وزراء کے ٹولے کا بیانیہ غلط ہے، انہی کے بیانات سے آج آزاد کشمیر میں کیا صورتحال ہے، یہ فیڈریشن کو کمپرومائز کر رہے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تقریباً ایک سال پورا ہونے کو ہے ملاقات نہیں ہو رہی، فیملی سے ملاقات پر پابندی اور وکلاء تک رسائی سے محروم کرنا غیر انسانی سلوک ہے۔ بانی سے ملاقاتوں سے بہت سارے معاملات بہتر ہو جائیں گے۔