گیس فراہمی بہتر بنانے کیلئے نجی شعبے کو ایل این جی درآمد کی اجازت دینے پر غور

غیر استعمال شدہ ٹرمینل گنجائش کی نیلامی کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز زیرغور

September 30, 2026 · قومی

فائل فوٹو

وفاقی حکومت گیس کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کو ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق مارچ سے ملک کے 2 ایل این جی درآمدی ٹرمینلز بڑی حد تک غیر فعال ہیں، جب مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ کے باعث پاکستان کے سب سے بڑے ایل این جی فراہم کنندہ قطر سے ترسیل تقریباً رک گئی تھی۔

موجودہ قوانین کے تحت سرکاری ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے علاوہ دیگر خریداروں کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو خریدنا آسان نہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے ٹرمینلز کی غیر استعمال شدہ گنجائش کو نیلام کرنے کا دائرہ وسیع کرنے اور نجی کمپنیوں کو براہِ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔

ایل این جی کے ایک درآمدی ٹرمینل کو چلانے والی کمپنی پاکستان گیس پورٹ لمیٹڈ طویل عرصے سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اس جیسی سرکاری ملکیت سے باہر کی کمپنیوں کو بھی براہِ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔