ایف بی آر نے اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی پر سیلز ٹیکس سخت کردیا

نیا نوٹیفکیشن جاری، فی یونٹ ٹیکس بڑھا دیا گیا، نفاذ فوری ہوگا

September 30, 2026 · اہم خبریں
ایف بی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد اور اسٹیل انڈسٹری کا عکاسی کرتا منظر

ایف بی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد اور اسٹیل انڈسٹری کا عکاسی کرتا منظر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک کے اسٹیل سیکٹر کے لیے سیلز ٹیکس کی نئی اور سخت شرحوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس ضمن میں ایس آر او 1245 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء میں اہم ترامیم کی گئی ہیں تاکہ بجلی کے استعمال پر ٹیکس کی وصولی کو مکمل طور پر یقینی بنایا جا سکے۔

دستاویز کے مطابق درآمدی یا مقامی خام مال سے اسٹیل بار تیار کرنے والے ری رولرز کو اب بجلی کے فی یونٹ استعمال پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اسی طرح سابق فاٹا اور پاٹا میں مقامی ری میلٹیبل اسکریپ استعمال کرنے والے اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس پر 20 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق اگر ان علاقوں کے یونٹس میں درآمدی خام مال یا ری میلٹیبل اسکریپ کا استعمال 70 فیصد سے زائد ہوگا تو وہ 5 روپے فی یونٹ کی شرح سے ٹیکس ادا کریں گے۔ نئے قائم ہونے والے یا دوبارہ شروع کیے جانے والے اسٹیل یونٹس کے لیے 5 روپے فی یونٹ رعایتی سیلز ٹیکس کا معیار سہ ماہی درآمدات یا خریداری سے مشروط کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ قواعد کی رو سے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول شدہ سیلز ٹیکس کو ایڈوانس تصور کیا جائے گا، جسے مینوفیکچررز اپنے آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس سے ایڈجسٹ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر کے پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم سے تصدیق کے بعد ہی کسی اسٹیل مینوفیکچرر کی کیٹیگری تبدیل کی جا سکے گی، جبکہ لیز، ملکیت یا کاروبار کی نوعیت میں تبدیلی کے باوجود بجلی کا کنکشن برقرار رہے گا۔