آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے، عالمی سطح پر تیل و گیس کی قلت کا خدشہ

کشیدگی میں اضافہ، 4 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، برطانوی ادارے کی تصدیق۔

September 30, 2026 · اہم خبریں
آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتحال معمول پر آنے کے بجائے مزید بگڑتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل و گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یوکے ایم ٹی او) کے مطابق آبنائے ہرمز میں 29 ستمبر کو 3 تجارتی بحری جہاز نامعلوم سمت سے آنے والے گولہ نما حملوں کی زد میں آئے۔

دستاویزات اور رپورٹس کے مطابق نشانہ بننے والے جہازوں میں ایک خام تیل بردار جہاز، ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز اور ایک تیسرا تجارتی بحری جہاز شامل تھا۔ اس سے قبل 28 ستمبر کو بھی ایک اور مائع قدرتی گیس سے بھرے ٹینکر کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کی اطلاع بعد میں ملی۔ برطانوی ادارے نے ان واقعات کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خام تیل بردار جہاز کے بائیں جانب نامعلوم گولہ لگا، تاہم حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی نوعیت اور حملہ آوروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

متعلقہ حکام اور برطانوی میری ٹائم حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کسی بڑے جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایک اور بحری جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد جہاز میں لگنے والی آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا، جس کے بعد جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا اور عملے کے تمام ارکان محفوظ رہے۔ حکام نے اس واقعے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو انتہائی محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب سینٹ کام کے ترجمان نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران اس اہم گزرگاہ کو کنٹرول نہیں کر رہا اور حالیہ مہینوں کے دوران ہزاروں جہاز آزادانہ طور پر اس راستے سے گزر چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا انتہائی حساس اور اہم ترین راستہ ہے، اس لیے ان پے در پے حملوں کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی اور رسد کے تسلسل کو لے کر خدشات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔