عوام کو اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے سرکاری بانڈز خریدنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
آئی ایم ایف کا ایکشن پلان، ستمبر 2028 تک ڈیڈ لائن مقرر، شفافیت بڑھانے پر زور
عوام کو اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے سرکاری بانڈز کی خرید و فروخت کی اجازت دینے کے منصوبے کی فائل فوٹو
عوام کو سرکاری ٹی بلز اور بانڈز کی اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے خرید و فروخت کی اجازت دینے کا نیا منصوبہ سامنے آگیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت پاکستانی روپے میں بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کے لیے ایک تفصیلی ایکشن پلان جاری کر دیا گیا ہے، جس کے نفاذ اور عمل درآمد کے لیے ستمبر 2028 تک کی مختلف ڈیڈ لائنز مقرر کی گئی ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری بانڈز کی مارکیٹ کو زیادہ شفاف، فعال اور عام سرمایہ کاروں کے لیے آسان بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بانڈ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے اور خرید و فروخت کے عمل کو مزید بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ دستاویز کے مطابق اس وقت بینک حکومت کی 78 فیصد سیکیورٹیز اپنے پاس رکھتے ہیں، جبکہ حکومتی بانڈز بینکنگ سیکٹر کے کل اثاثوں کا تقریباً 62 فیصد ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت اہل صارفین اپنے متعلقہ بینکوں کے ذریعے اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ سرکاری سیکیورٹیز کی باآسانی خرید و فروخت کر سکیں گے۔ اس پورے عمل کی نگرانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) مشترکہ طور پر کریں گے۔ اس کے علاوہ حکومت اور اسٹیٹ بینک مالی سال 28-2027 کے لیے پرائمری ڈیلرز کے نظام کو بھی مزید بہتر بنائیں گے۔
وزارت خزانہ کا ماننا ہے کہ بانڈ مارکیٹ کی اس بہتری سے حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت اور مالیاتی خطرات کو کم کرنے میں نمایاں مدد ملے گی، جس سے ملک میں نجی شعبے کے لیے قرض اور سرمایہ کاری کی ایک بہتر اور مستحکم بنیاد فراہم ہوگی۔