عالمی ستم ظریفی، مصنوعی ذہانت کے حق میں اعلامیے پر امریکہ کا نام غلط درج ہو گیا
وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں اسپیلنگ کی غلطی سامنے آگئی، سوشل میڈیا پر بحث شروع
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ اعلامیے اور اس پر موجود دستخط کی دستاویز
ڈیجیٹل دنیا میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے فروغ اور ذمہ داری سے متعلق ایک اہم سرکاری دستاویز پر خود امریکہ کا نام غلط درج ہو گیا۔ وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ آفیشل بیان اور دستاویزات کے مطابق اس معاہدے کا مقصد مصنوعی ذہانت کی ترقی میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ “وائٹ ہاؤس ایکارڈ آن سپر انٹیلی جنس” (White House Accord on Super Intelligence) کے عنوان سے جاری اس مشترکہ اعلامیے میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں اور امریکی صدر کے دستخط موجود ہیں۔ دستخطی صفحے پر جہاں امریکی صدر کا عہدہ درج ہے، وہاں “President of the Unites States” کے الفاظ لکھے گئے ہیں جس میں “United” کے ہجے کی بجائے “Unites” درج ہو گیا ہے، جو کہ ایک نمایاں املا کی غلطی ہے۔
White House Accord on Super Intelligence pic.twitter.com/NVNkHmLcbk
— The White House (@WhiteHouse) September 30, 2026
دستاویز کے متن کے مطابق، یہ معاہدہ امریکی عوام اور دنیا کے لیے ایک مثبت مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں طے پایا ہے، جس کے تحت ہر کمپنی اپنی ٹیکنالوجی کو محفوظ طریقے سے تیار کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس معاہدے میں 4 اہم تہوں پر مشتمل کنٹرول اور آڈٹ کے نظام کو نافذ کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ سائبر سیکیورٹی اور دیگر خطرات سے نمٹا جا سکے۔ اس دستاویز پر گوگل کے سندر پچائی، اینتھروپک کے ڈاریو اموڈی، میٹا کے مارک زکربرگ، اوپن اے آئی کے گریگ بروک مین، ایکس اے آئی کے ایلন مسک اور انویدیا کے جینس ہانگ کے دستخط بھی ثبت ہیں۔
Maybe it's the intern-intelligence, not "Supper Intelligence" that drafted it.😂 pic.twitter.com/gruKhkjaC7
— Shen Shiwei 沈诗伟 (@shen_shiwei) October 1, 2026