پاکستان کا ایران پر امریکی پابندیوں کی پاسداری کا اعادہ،صومالیہ واقعے پر افسوس:ترجمان دفتر خارجہ

اہم پیش رفت، دفتر خارجہ نے وضاحتی بیان جاری کر دیا،صومالی شہریوں کی وطن واپسی جاری ہوگی۔

October 1, 2026 · قومی
پاکستان کا ایران پر امریکی پابندیوں کی پاسداری کا اعادہ، صومالیہ واقعے پر افسوس

پاکستان کا ایران پر امریکی پابندیوں کی پاسداری کا اعادہ، صومالیہ واقعے پر افسوس

ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق ایران پر عائد تمام قابلِ اطلاق امریکی پابندیوں کے نظام پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان سے منسوب سابقہ ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا، جن کی وضاحت ضروری تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہونے کی حیثیت سے کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام سے بھرپور وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل اور تعمیری رابطے میں ہے اور دونوں فریقین کے درمیان سفارتی سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران اور امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں کیونکہ مذاکرات اور سفارتکاری ہی تنازع کے پرامن حل کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے تمام رکن ممالک کے نیشنل کوآرڈینیٹرز کے اجلاس میں بھارت کے نمائندے کی اسلام آباد آمد ہوئی ہے، جو دو سال سے زائد عرصے بعد بھارت کے کسی سینیئر عہدیدار کا پاکستان کا ایک اہم دورہ ہے۔

دوسری جانب صومالیہ کے ساحل پر یرغمال بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے آپریشن کے دوران جانی نقصان پر دفتر خارجہ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری دستاویزات اور بیانات کے مطابق جہاز کی بازیابی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 3 پاکستانی شہری رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔

واقعے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 3 پاکستانی شامل ہیں، جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر کے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق جبوتی میں قائم پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم متاثرہ شہریوں کی معاونت کے لیے بندر بیلا روانہ ہو چکی ہے جبکہ جاں بحق افراد کی میتیں ایتھوپین ائیرلائنز کے ذریعے پاکستان منتقل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔