امریکا ایران جنگ، عالمی تیل کی ترسیل متاثر، قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں
ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکی بحریہ کی معاونت سے بعض آئل ٹینکروں کے ذریعے ترسیل جاری ہے۔
امریکا ایران جنگ، عالمی تیل کی ترسیل متاثر، قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں
امریکا ایران جنگ سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر، قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے لگی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری جہازوں کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔
برطانوی بحری سلامتی کے ادارے کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی علاقوں میں بحری جہازوں پر 12 حملے رپورٹ ہوئے، جبکہ رواں ہفتے حملوں کے بعد دو مال بردار جہاز بھی ڈوب گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکی بحریہ کی معاونت سے بعض آئل ٹینکروں کے ذریعے ترسیل جاری ہے۔
دوسری جانب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات نے باب المندب کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اس صورتحال سے خصوصاً ایشیائی ممالک متاثر ہو رہے ہیں، جو سعودی عرب سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چین سمیت بعض ممالک نے تیل کی کھپت اور درآمدات میں کمی کی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوگئی تو عالمی منڈی میں تیل کی رسد مزید متاثر ہوسکتی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافے اور مختلف ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔