محسن نقوی کے مولانا فضل الرحمان پر الزامات، ایوان میں ہنگامہ

وزیر داخلہ کا مؤقف،حکومت میں حصہ نہ ملنے پر ریاست کے خلاف بات کرنے کا الزام

October 29, 2026 · قومی

مولانا فضل الرحمان کو ریاست میں اب نوکری نہیں ملے گی، محسن نقوی کی شدید تنقید

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے مولانا کا دل سے احترام کرتے تھے، تاہم ریاست سے متعلق ان کے حالیہ بیان کے بعد ان کے دل میں مولانا کے لیے کوئی عزت باقی نہیں رہی۔

سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ان کے خلاف مسلسل مہم چلائی جارہی ہے اور ان کے دور ایران کے حوالے سے یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے گئے تھے، حالانکہ اس دورے کا دفاعی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ وہ وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے خصوصی ٹاسک پر موجودہ بحران کے سلسلے میں ایران گئے تھے،جب وزیر دفاع سے اس دورے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہیں اس لیے علم نہیں تھا کیونکہ دورے میں دفاع سے متعلق کوئی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔

محسن نقوی نے کہا کہ انہیں بیرون ملک جانے کا کوئی شوق نہیں، وہ وزیراعظم کی ہدایت پر اپنی ذمہ داری ادا کرنے گئے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مولانا کا بہت احترام کرتے تھے، لیکن جب انہوں نے ریاست کے حوالے سے نامناسب الفاظ استعمال کیے تو ان کے دل میں موجود احترام ختم ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے کئی روز سے ان پر تبصرے کیے جارہے ہیں، تاہم تنقید کرنے والوں کو جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔
محسن نقوی نے جے یو آئی کی قیادت پر الزام عائد کیا کہ جب انہیں حکومت میں حصہ ملتا ہے تو سب کچھ درست دکھائی دیتا ہے، لیکن حکومت میں کردار نہ ملنے پر ریاست کے خلاف باتیں شروع کردی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض لوگ اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

وزیر داخلہ کے ان سخت الفاظ پر سینیٹر کامران مرتضی نے اعتراض کیا، جبکہ خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان نے بھی ہنگامہ آرائی کی۔

محسن نقوی نے اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اب آپ کو ریاست سے پیسے ملیں گے نہ نوکری۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج سے قبل یہی لوگ بعض شخصیات سے جان چھڑانے کی باتیں کرتے تھے، لیکن اب ان کا مقف تبدیل ہوگیا ہے۔