کراچی میں جعلی پولیس مقابلے کا مقدمہ،اہلکار شہریار کو سزائے موت،دو ساتھیوں کو عمر قید
عدالت نے تینوں سزا یافتہ اہلکاروں کو مقتول کے ورثا کو فی کس پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے
کراچی میں جعلی پولیس مقابلے کا مقدمہ،اہلکار شہریار کو سزائے موت،دو ساتھیوں کو عمر قید
کراچی کی ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے شہری عامر حسین کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پولیس اہلکار شہریار کو سزائے موت جبکہ اس کے دو ساتھی اہلکاروں ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے تینوں سزا یافتہ اہلکاروں کو مقتول کے ورثا کو فی کس پانچ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس مقدمے میں پولیس اہلکاروں کے خلاف دسمبر 2022 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جبکہ عدالت نے 30 اکتوبر 2026 کو فیصلہ سنایا۔
یہ واقعہ 27 دسمبر 2022 کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پیش آیا تھا۔ 26 سالہ عامر حسین اپنے مفلوج والد کے لیے ادویات خریدنے گھر سے نکلے تھے۔ ان کے ساتھ ایک کم عمر بچی بھی موجود تھی۔
اطلاعات کے مطابق، الہٰ دین پارک کے قریب شاہین فورس کے اہلکار معمول کی اسنیپ چیکنگ کر رہے تھے۔ اس دوران پولیس اہلکاروں نے عامر حسین کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم ان کے نہ رکنے پر اہلکاروں نے موٹر سائیکل پر ان کا تعاقب شروع کر دیا۔
تعاقب کے دوران عامر حسین نعمان ایونیو نامی رہائشی عمارت کے قریب پہنچ گئے۔ استغاثہ کے مطابق، وہ موٹر سائیکل سے اتر کر اپنے والدین کے گھر کی جانب جا رہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ گولیاں لگنے کے نتیجے میں عامر حسین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے اسے مقابلے کا نتیجہ قرار دیا گیا اور عامر حسین کو مبینہ مجرم کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔
اہل خانہ کا کہنا تھا کہ عامر حسین کسی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے بلکہ اپنے مفلوج والد کے لیے ادویات لینے نکلے تھے۔ عامر کی والدہ نے بھی پولیس کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کا بیٹا ڈکیتی کے لیے جا رہا تھا تو اس کے ساتھ کم عمر بچی کیوں موجود تھی؟
مقدمے کے دوران ایک عینی شاہد نے بھی بیان دیا کہ پولیس اہلکاروں نے رہائشی عمارت کی سیڑھیوں پر لوگوں کے سامنے عامر حسین کو گولیاں ماری تھیں۔
واقعے کے بعد پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور تین اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دسمبر 2022 میں ابتدائی عدالتی کارروائی کے دوران تفتیشی افسر نے بھی عدالت کو بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں پولیس اہلکاروں کا یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہوا کہ انہوں نے ایک ڈاکو کو مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔
تقریباً چار سال تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کے بعد اب ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے اہلکار شہریار کو سزائے موت اور اس کے دو ساتھی اہلکاروں ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے تینوں کو مقتول کے ورثا کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
یہ فیصلہ کراچی میں پولیس مقابلوں کی شفافیت، شہریوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے احتساب سے متعلق ایک اہم مقدمے کا اختتام ہے۔