پولینڈ میں اعلیٰ عدلیہ کی حکومت کے خلاف ڈرامائی بغاوت، صدر طیارہ واپس موڑ کر عدالت پہنچ گئے
عدالت کے سربراہ اور ان کے نائب کو معطل کرنے کے فیصلے کے بعد سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ عدالت کے باہر حکومت اور اپوزیشن کے حامی آمنے سامنے آگئے
پولینڈ میں اعلیٰ عدلیہ کی حکومت کے خلاف ڈرامائی بغاوت، صدر طیارہ واپس موڑ کر عدالت پہنچ گئے
اس سیاسی اور عدالتی بحران میں سب سے حیران کن پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی نے سینیگال کا سرکاری دورہ ادھورا چھوڑتے ہوئے اپنا طیارہ واپس وارسا موڑ دیا اور براہ راست آئینی عدالت پہنچ گئے۔ صدر نے نہ صرف حکومت کے مقرر کردہ ججوں کے اقدام کو غیرآئینی قرار دیا بلکہ عدالت کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔
تنازع کی بنیادی وجہ آئینی عدالت کے سربراہ بوگدان شویونچکووسکی اور ان کے نائب بارتلومی سوچانسکی کی معطلی ہے۔ حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے ججوں کے ایک گروپ نے دونوں اعلیٰ عدالتی عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد عدالت کے انتظامی معاملات اور اس کی قانونی حیثیت پر پہلے سے موجود اختلافات ایک نئے بحران میں تبدیل ہوگئے۔
اس فیصلے کے خلاف پولینڈ کی دائیں بازو کی اپوزیشن جماعت لا اینڈ جسٹس پارٹی نے سخت ردعمل دیا۔ جماعت کے رہنما یاروسلاو کاچینسکی نے اسے آئینی عدالت پر حملہ قرار دیتے ہوئے فیصلے کی مخالفت کی۔ دوسری جانب معطل کیے گئے ججوں کے حامیوں نے عدالت کے باہر احتجاج شروع کر دیا، جس میں اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ سمیت سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔
احتجاج کے دوران صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بعض مظاہرین نے عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کے لیے باڑ توڑنے کی کوشش کی اور پولیس اہلکاروں کی جانب اشیا پھینکیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اقدامات کیے اور جھڑپوں کے بعد تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
تاہم اس پورے معاملے میں سب سے اہم سیاسی کردار پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی کا رہا، جو اس وقت سینیگال کے سرکاری دورے پر روانہ ہو چکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اپنا دورہ ادھورا چھوڑ کر طیارہ واپس وارسا کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا اور جمعہ کی رات عدالت پہنچ گئے۔
صدر نے وہاں موجود پولیس حصار عبور کرکے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں حکومت کے مقرر کردہ ججوں کو آئینی عدالت کا قانونی حصہ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور الزام عائد کیا کہ ملک کے آئینی نظام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک اہم قومی ادارے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدر نے سیکیورٹی فورسز سے عدالت کی عمارت خالی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ تنازع محض دو ججوں کی معطلی تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں تقریباً ایک دہائی پرانی ہیں۔ پولینڈ کی آئینی عدالت میں ججوں کی تقرریوں اور ان کے اختیارات پر سیاسی اختلافات کا آغاز 2015 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ہوا تھا۔ اس وقت مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اس بات پر اختلاف پیدا ہوگیا تھا کہ عدالت میں ججوں کی تقرری کا اختیار کس طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے اور کون سی تقرریاں قانونی حیثیت رکھتی ہیں۔
اس کے بعد لا اینڈ جسٹس پارٹی نے تقریباً آٹھ سال تک اقتدار میں رہتے ہوئے عدالتی نظام میں متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔ ان اصلاحات پر ملک کے اندر اپوزیشن اور قانونی حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی، جبکہ یورپی یونین نے بھی پولینڈ کے عدالتی نظام میں حکومتی مداخلت اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ یورپی اداروں کا مؤقف تھا کہ عدالتی تقرریوں اور اداروں کے اختیارات سے متعلق تبدیلیاں قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
2023 میں ڈونلڈ ٹسک کی قیادت میں نئی حکومت برسراقتدار آئی تو اس نے متنازع عدالتی اصلاحات واپس لینے اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا وعدہ کیا۔ تاہم حکومت کو ان اصلاحات پر عمل درآمد میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا رہا، کیونکہ صدر کے پاس بعض قانونی فیصلوں کو ویٹو کرنے سمیت اہم آئینی اختیارات موجود ہیں۔
عدالت کا موجودہ بحران اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب صدر کارول ناوروکی نے موجودہ پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کیے گئے پانچ ججوں سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کے باعث ججوں کی تقرریوں اور آئینی عدالت کی قانونی تشکیل سے متعلق اختلافات مزید گہرے ہوگئے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے مؤقف کو آئینی اور قانونی قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب یورپ کے قانون کی حکمرانی سے متعلق مشاورتی ادارے وینس کمیشن نے رواں ماہ اپنے مؤقف میں کہا کہ صدر کے حلف لینے سے انکار کے باوجود منتخب ججوں کو اپنے عہدے سنبھالنے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ اس رائے نے پولینڈ میں جاری عدالتی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
عدالت کے سربراہ اور ان کے نائب کی معطلی کے قانونی جواز پر بھی ماہرین قانون کے درمیان اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ معروف ماہر قانون مارسن ماتچاک نے اس معطلی کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے لیے قانونی جواز موجود نہیں۔ تاہم حکومتی اور اپوزیشن حلقے اس معاملے پر ایک دوسرے کے مؤقف کو مسترد کر رہے ہیں۔
یوں پولینڈ میں ججوں کی تقرریوں سے شروع ہونے والا تنازع اب اعلیٰ عدلیہ، حکومت، صدر اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف حکومت عدالتی نظام میں تبدیلیوں کو آگے بڑھانا چاہتی ہے تو دوسری جانب صدر اور اپوزیشن ان اقدامات کو آئینی اختیارات سے تجاوز قرار دے رہے ہیں۔
صدر کا بیرون ملک سرکاری دورے سے طیارہ واپس موڑ کر عدالت پہنچنا، عدالت کے باہر مظاہرے، پولیس کی تعیناتی اور اعلیٰ عدالتی عہدیداروں کی معطلی نے پولینڈ کے آئینی بحران کو بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ حکومت، صدر اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی یہ کشمکش کس قانونی اور سیاسی راستے پر ختم ہوگی۔