کوئٹہ میں گیس بلوں میں اضافے کی اصل وجہ سامنے آگئی

سردی کا آغاز اور اوگرا ٹیرف، سوئی سدرن کا مؤقف، ہیلپ ڈیسک قائم کر دیا گیا

November 1, 2026 · اہم خبریں
کوئٹہ میں گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں اور اوگرا کی جانب سے آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں اور اوگرا کی جانب سے آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں گیس کی قیمتوں اور بلوں میں اضافے کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئیں ہیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے کوئٹہ میں گیس کے بلوں میں غیر معمولی اضافے سے متعلق تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سردی کے آغاز اور گیس کے زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ اوگرا کے مقرر کردہ ٹیرف کے باعث بھی صارفین کے بلوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ترجمان ایس ایس جی سی کے مطابق بڑے بلوں سے بچنے کے لیے بعض صارفین میٹروں کو ٹیمپر کرتے ہیں، اور ایسے ٹیمپر شدہ میٹرز کی بلنگ کنیکٹڈ لوڈ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ کمپنی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ میٹر تبدیلی یا لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، اور اگر ٹیسٹ میں اضافی چارجز ثابت نہ ہوں تو وصول شدہ رقم فوری طور پر واپس کر دی جاتی ہے۔ مزید برآں، صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے بلوچستان ریجنل آفس میں ایک خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے جو کوئٹہ ریجنل منیجر کی نگرانی میں فعال ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ شدید مالی نقصانات کے باوجود کوئٹہ کے شہریوں کو گیس کی فراہمی کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا جا रहा ہے۔

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ماہ اکتوبر کے لیے درآمدی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں 13 سے 15 فیصد تک کا نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ڈسٹری بیوشن سسٹم کے لیے آر ایل این جی کی قیمت میں 14.01 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 17.32 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ڈسٹری بیوشن سسٹم کے لیے قیمت میں 15.27 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور نئی قیمت 16.39 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔ اوگرا کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا یہ تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے 2 درآمدی کارگوز کی بنیاد پر کیا گیا ہے جن کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہو چکا ہے۔

ادھر گیس کے نئے کنکشنز کے حوالے سے بھی صورتحال کشیدہ ہے کیونکہ سوئی گیس کمپنی نے گھریلو گیس کنکشنز پر پابندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ماہ سے کمرشل تندوروں اور ہوٹلوں سمیت دیگر نئے کنکشنز کا اجراء بھی معطل کر دیا گیا ہے جبکہ ہزاروں شہری ارجنٹ فیسیں جمع کروانے کے باوجود کنکشنز سے محروم ہیں۔ سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ کنکشنز پر پابندی کی ہدایت وزارت پیٹرولیم کی جانب سے دی گئی ہے اور گیس کا شارٹ فال بڑھنے کے باعث یہ اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔