بھگڈر کے بعد روپوش مسٹر پتلو کا ویڈیو بیان، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مریم نواز سے اپیل کردی
حادثے کے وقت میں اسپتال میں تھا، میرا کیا قصور ہے، میں نے اپنی فوج کو ڈیفینڈ کیا ہے، انصر محمود
مسٹر پتلو کے ویڈیو بیان سے لی گئی تصویر، دوسری جانب اسٹڈیم کے مناظر جہاں بھگڈر مچی
سیالکوٹ میں اپنی مہندی کی تقریب میں لوگوں کو انعامات لینے کے لیے بلانے والے ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو نے روپوشی سے اپنا بیان جاری کردیا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کردی ہے۔ مسٹر پتلو نے دو افراد کی ہلاکت اور درجن سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا سبب بننے والی بھگڈر کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے وقت وہ اسپتال میں تھا اور یہ کہ تقریب کے لیے این او سی لیا تھا لیکن پھر اس نے خود ہی منسوخ کردی تھی۔
مسٹر پتلو نے روپوشی کےدوران اپنی طبعیت خراب ہونے اور اپنے والد کی خراب صحت کا بھی حوالہ دیا اور اس کہا کہ وہ کپڑے بھی تبدیل نہیں کرسکا۔
انصر محمود عرف مسٹر پتلو کے بیان کا متن یہ ہے۔
’’میں یہ بڑی مشکل سے ویڈیو بنا رہا ہوں، میری طبیعت بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ سب سے پہلے تو میں ان کے غم میں شریک ہوں جن کا بچہ اس دنیا سے چلا گیا، اور جو لوگ زخمی ہیں، میں ان کے غم میں بھی برابر کا شریک ہوں۔
’’دو باتیں کلیئر کرنے کے لیے میں یہ ویڈیو بنا رہا ہوں، اور اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ آپ لوگ ویڈیو پوری دیکھیں۔ پلیز! پچھلے تین دن سے آپ لوگوں کو پتہ ہے میں کن کپڑوں میں پھر رہا ہوں۔ میری شادی تھی، سات تاریخ کو میرا ولیمہ تھا، پانچ کو مہندی اور چھ کو بارات تھی۔ یہ ایک ایونٹ میں نے عوام کے لیے رکھا تھا کہ میں عوام کی مدد کروں گا، جو غریب بچیاں ہیں ان کی شادی کروں گا، عوام کو کچھ راشن اور تحائف دوں گا۔
’’یہ ویڈیو میں نے دس پندرہ دن پہلے بنائی تھی کہ جو بھی آئے اپنے سامان کی خود حفاظت کرے، اپنا سیلف ڈیفنس خود کرے، کسی کو دھکا نہ مارے، کسی کو کچھ نہ کرے اور اپنی لائن کا خیال رکھے۔ اس چیز کی پراپر میں نے این او سی (NOC) لی تھی، اس کے بعد میں نے یہ ایونٹ کیا۔
’’جب ایونٹ سے ایک دن پہلے میں اسی گراؤنڈ میں موجود تھا، تو کرکٹ کھیلتے ہوئے میری بیک کی ڈسک ہل گئی تھی۔ ولف صاحب نے ویڈیو دیکھی ہوگی کہ جب بیک کی ڈسک ہل گئی تھی تو میں سیدھا ہسپتال چلا گیا، میں وہیں گر گیا تھا اور مجھے چار بندوں نے اٹھا کر گاڑی میں رکھا۔ اس کے بعد سارا دن میری تکلیف رہی، اور صبح اٹھ کر جب میں ہسپتال گیا تو مجھے بتایا گیا کہ پیچھے بھگدڑ کی وجہ سے یہ معاملات ہو گئے ہیں۔ تو میں نے اس لیے ویڈیو پروگرام کینسل کرنے کا جاری کیا تھا، کیونکہ ایک مسئلہ بن گیا تھا۔ اب اتنے رش میں کوئی اس طرح کا حادثہ ہو جاتا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میں نے تو پراپر این او سی لے کر یہ کام کیا تھا۔ میں نے ادھر اپنے ملک کے چار جھنڈے لگائے تھے، اپنے پاکستان کا ترانہ چلایا تھا، اور پچھلے پانچ سالوں سے میں اپنے ملک کو ڈیفینڈ کر رہا ہوں۔
’’میں پچھلے دو دن سے غائب ہوں اور مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں۔ مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے جتنا ان کی ماں، بہنوں اور بھائیوں کو ہے، مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ اب یہ دیکھیں میری کیا حالت ہے، نہ مجھ سے اٹھا جاتا ہے اور نہ مجھ سے چلا جاتا ہے، واش روم میں نیچے زمین کو پکڑ کر جاتا ہوں۔ اور یہ ایک حادثہ ہے، لیکن ایف آئی آر میرے اوپر دے دی گئی ہے۔ اس ایف آئی آر میں یہ لکھا ہے کہ میں اسٹیڈیم میں موجود تھا، جبکہ تب میں بشیر ہسپتال میں اپنی ایم آر آئی کروا رہا تھا تو میں ادھر کیسے موجود ہو سکتا تھا؟ آپ کیمرے دیکھیں، سارا ریکارڈ چیک کریں، انوسٹی گیشن کریں۔ میرے دوست باہر سے آئے تھے، ان سب کو اس معاملے کا پتہ ہے۔ اس معاملے کے بعد عوام ساری میرے گھر اور میرے فارم ہاؤس پر چلی گئی، ساری چیزیں ادھر ادھر درہم برہم ہو گئیں۔ وقتی طور پر پولیس پہنچی اور انہوں نے معاملات کو سنبھالا، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
’’اس کے بعد اب میرا بابا لاسٹ اسٹیج پر ہے، مجھے نہیں پتہ وہ کدھر ہیں۔ میں نے اپنی خوشی کے لیے یہ سارا کچھ کیا تھا، میری شادی تھی اور میں نے عوام کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا۔ میں چھپ کر دنیا کے کسی بھی کونے میں شادی کر سکتا تھا، پوری دنیا کے کسی ملک میں بھی شادی کر سکتا تھا، لیکن میں ایک پاکستانی ہوں اور میں نے یہ سوچا کہ میں اپنے ملک میں شادی کروں اور عوام کے لیے کروں تاکہ لوگوں کو بتاؤں کہ میں اپنے ملک کو ریپریزنٹ کرتا ہوں اور پوری دنیا کو ایک میسج جائے۔ وہاں جو لوگ گئے تھے، سب گواہ ہیں کہ میں نے اسٹیج کے اوپر اپنے ملک کے چار جھنڈے لگائے تھے اور میں نے اسٹیج سیکرٹری کو بولا تھا کہ سب سے پہلے اپنے ملک کا ترانہ چلاؤں گا، نغمے چلاؤں گا، پھر اپنے ملک کی بات کروں گا اور اس کے بعد ہمارا کنسرٹ ہوگا۔
’’میرا قصور یہ ہے کہ میں نے غریب بچیوں کی شادی کروانے کا اعلان کیا تھا۔ میرا قصور یہ ہے کہ مجھے جو سلامیاں ہوئیں اور لوگوں نے جو تحائف دیے، وہ میں نے عوام میں بانٹ دیے، یہی میرا قصور ہے!
’’میری ریکوئسٹ ہے میڈم مریم نواز سے، ہمارے فیلڈ مارشل اور عاصم منیر صاحب سے کہ پلیز یہ دیکھیں، یہ ایک حادثہ ہے۔ میں ایک غریب گھر سے ادھر تک آیا ہوں، یہ ایک حادثہ تھا جس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے، میں نے کچھ نہیں کیا، اللہ کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں ادھر تھا ہی نہیں۔ اگر آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں، کوئی بات نہیں، آپ مجھے مار سکتے ہیں۔ خیر ہے، میں نے جتنی زندگی جی لی ہے، کوئی بات نہیں، جب میں صحیح ہو جاؤں گا تو میں خود پیش ہو جاؤں گا۔ مجھ سے تو چلا بھی نہیں جا رہا، میں چل نہیں سکتا، یہ دیکھیں میں ادھر لیٹا ہوں۔
’’میرا اس گراؤنڈ میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا، میں نے ایسا کچھ نہ سوچا تھا اور نہ ہی یہ میرے ذہن میں تھا۔ میرے گھر میں کتنی خوشیاں تھیں، میں نے اپنی خوشیاں غریب لوگوں کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کی تھی، اس میں میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ ایسا حادثہ ہو جائے گا۔ لوگوں کی بدقسمتی کی وجہ سے یہ معاملات پیش آئے ہیں۔ اب صحیح پوچھیں تو اللہ کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میرا خود جینے کو دل نہیں کر رہا، میں نے سوچا کچھ تھا اور واقع کچھ ہو گیا۔ میرے سب ہمدرد مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اس وقت سب میرے پاس آتے تھے، مجھ سے یہ آؤٹ کرتے تھے، مجھے جدھر بولتے تھے میں جاتا تھا، آج ایک حادثہ پیش آیا تو سارے لوگ میرے اگینسٹ آ گئے۔ یہ سارے بڑے بڑے لوگ جو مجھے کہتے تھے میں کرتا تھا، میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ میں کس حالت میں ہوں، ایک دن میں مر جاؤں گا تو کوئی بات نہیں، آپ مجھے مار دیں، میں مرنے کے لیے تیار ہوں!
’’لیکن پلیز یہ بات بھی سمجھیں کہ میں نے کچھ نہیں کیا، میری اماں کا پتہ نہیں ہے، میرا ابا کا پتہ نہیں ہے کہ وہ کدھر ہیں۔ آپ تھوڑا سا خیال کریں کہ میں نے اس میں کیا دیکھنا تھا، اس میں میرا کون سا قصور ہے؟ اللہ کو حاضر ناضر جان کر سوچیں، میں ادھر تھا ہی نہیں، میں اس وقت اپنے ہسپتال میں تھا۔ پچھلے دو سالوں سے پوری دنیا کو پتہ ہے کہ میں اپنے ملک کی بات کرتا ہوں، اپنی فوج کو ڈیفینڈ کیا ہے، اپنی گورنمنٹ کو ڈیفینڈ کیا ہے۔ اب یہ ایک حادثہ ہوا ہے اور ان صاحب نے میرے اوپر یہ سارا کچھ ڈال دیا ہے، میرے بھائیوں پر ایف آئی آر دے دی ہے، میرے اوپر دے دی ہے۔
’’میں خود پیش ہو جاؤں گا لیکن اللہ کی قسم، میں اس وقت چل نہیں سکتا۔ میں نے ہمیشہ سچ بولا ہے، کبھی جھوٹ نہیں بولا، سب کو پتہ ہے میں نے بڑی غربت دیکھی ہے، اسی لیے میں نے غریب بندوں کا سوچا تھا۔ میں پوری دنیا میں کہیں بھی جا کے شادی کر سکتا تھا، میں نے بڑا سوچا تھا غریب بندوں کا کہ ان کو راشن دوں گا، پیسے دوں گا، جو میری سلامیاں ہوں گی وہ میں غریب بندوں کو دوں گا۔ جو کالم میرے ساتھ کھڑے تھے، اللہ کی قسم کوئی مدد نہیں، میں اکیلا کسی گاؤں میں پڑا ہوں، دیکھ لیں سب چھوڑ کے چلے گئے۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں خودکشی کر لوں، اگر میری کوئی ویڈیو نہ آئے تو یہ میری آخری ویڈیو ہوگی۔ اللہ کی قسم میرا اب جینے کو دل نہیں کر رہا، کل تک میں کیا تھا اور آج دیکھو میری حالت، میں نے کچھ نہیں کیا، میں ادھر تھا ہی نہیں۔
’’میری ریکوئسٹ ہے، فیلڈ مارشل صاحب سے کہ میں نے ہمیشہ آپ کو اور آرمی کو ڈیفینڈ کیا ہے، ملک کو ڈیفینڈ کیا ہے۔ میرے روزگار کو، ہر چیز کو، یہ سارا ملبہ میرے اوپر ڈال رہے ہیں، یہ میرے اوپر ڈال رہے ہیں سارا کچھ۔ میں ریکوئسٹ کرتا ہوں میڈم سی ایم سے کہ اللہ کو حاضر ناضر جان کر دیکھیں، اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے، یہ ایک ایکسیڈنٹ ہے، میں نہیں تھا ادھر۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری شادی پر ایسا ہو، جس کے ساتھ میری شادی ہوئی ہے وہ بیچاری رو رہی ہے، میں دو دن سے سب سے معذرت چاہتا ہوں، میں بالکل نہیں چاہتا تھا کہ ایسا کچھ ہو۔
’’خدا کے لیے، میں ایسے زمین کے ساتھ لگ کر، واش روم میں جاتا ہوں، میرے ساتھ کوئی بندہ نہیں ہے، اس وقت میں اکیلا ہوں۔ میری ماں ہوتی تو مجھے ایسے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اگر میری… اگر میری ویڈیو نہ آئی تو سمجھ لینا کہ میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔’’