ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حق خودارادیت کی تحریکیں دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، پاکستان
بعض بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں سنسرشپ اور نگرانی کے نظام کے ذریعے اطلاعات کے بہاؤ اور عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حق خودارادیت کی تحریکیں دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے، پاکستان
نیویارک: پاکستان نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ کی بندش اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے حق خودارادیت کی جائز تحریکوں کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے پریس قونصلر امانت علی نے جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں سنسرشپ اور نگرانی کے نظام کے ذریعے اطلاعات کے بہاؤ اور عوامی رائے پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں اور سخت قوانین کے ذریعے اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے ساتھ زمینی حقائق کو بھی مسخ کیا جاتا ہے۔ ان اقدامات سے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت جیسے رجحانات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اختیار اور غیر شفاف پالیسیوں کے حوالے سے جواب دہی کا نظام بھی ضروری ہے۔
امانت علی نے خبردار کیا کہ غلط معلومات، گمراہ کن پروپیگنڈا اور نفرت انگیز مواد معاشروں میں تقسیم پیدا کرنے اور عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ تنازعات کے دوران یہ عناصر رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت کی افادیت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور معلومات کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے اس کے لیے شفاف عالمی ضابطہ کار تشکیل دینا ضروری ہے۔
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات پر بھی زور دیا کہ مختلف زبانوں میں مستند معلومات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے مزید وسائل مختص کیے جائیں تاکہ دنیا بھر کے عوام تک متوازن اور قابلِ اعتماد اطلاعات پہنچ سکیں۔