جامعہ کراچی میں ملازمین دورانِ ڈیوٹی رکشے چلانے کاانکشاف، رجسٹرار کا سخت نوٹس
متعلقہ ملازمین کو دفتری اوقات کے دوران رکشے چلانے اور دیگر تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جامعہ کراچی میں ملازمین دورانِ ڈیوٹی رکشے چلانے کاانکشاف، رجسٹرار کا سخت نوٹس
کراچی: جامعہ کراچی کے بعض ملازمین کی جانب سے دفتری اوقات کے دوران اپنی سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے کیمپس میں رکشے چلانے اور انہیں کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر رجسٹرار نے سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔
رجسٹرار ڈاکٹر عمران احمد نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس میں متعلقہ ملازمین کو دفتری اوقات کے دوران رکشے چلانے اور دیگر تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جامعہ کراچی کے مختلف ملازمین مسلسل دفتری اوقات میں کیمپس کے اندر رکشے چلا رہے ہیں اور انہیں کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف ان کی سرکاری ذمہ داریاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ ادارے کی کارکردگی اور نظم و ضبط پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔
رجسٹرار کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ ملازمین اپنی تمام تر توجہ تفویض کردہ سرکاری فرائض کی انجام دہی پر مرکوز رکھیں۔ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جامعہ کے قواعد و ضوابط کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انجمن اساتذہ کے حالیہ سالانہ عشائیے سے خطاب میں انہوں نے بتایا تھا کہ دفتری اوقات میں رکشے چلانے والے بعض ملازمین کو متعلقہ شعبوں کے سربراہوں کی جانب سے این او سی جاری کیے گئے ہیں اور ان اجازت ناموں کے عوض ماہانہ 6 ہزار روپے جمع کرائے جاتے ہیں۔
وائس چانسلر کے مطابق یونیورسٹی کے کئی مالی بھی اپنی اصل ڈیوٹی انجام دینے کے بجائے بعض افسران یا اساتذہ کے گھروں پر کام کر رہے تھے، تاہم ایسے ملازمین کو اب واپس یونیورسٹی میں ڈیوٹی پر بلا لیا گیا ہے۔