سندھ ہائیکورٹ؛نواز شریف کی گھر اسکیم کی 12 ایکڑ زمین کا تنازع،سیکریٹری طلب
وفاقی حکومت اور درخواست گزار کے درمیان زمین کی ملکیت کا تنازع، عدالت نے ریکارڈ طلب کرلیا
سندھ ہائیکورٹ؛ نواز شریف کی گھر اسکیم کی 12 ایکڑ زمین کا تنازع، سیکریٹری طلب
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی گھر اسکیم کے لیے مختص 12 ایکڑ زمین کی ملکیت کے تنازع سے متعلق درخواست پر آئندہ سماعت پر سیکریٹری لینڈ یوٹیلائیزیشن کو طلب کرلیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت کے دوران پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے 1962 میں حکومت سندھ سے 80 ایکڑ زمین خریدی تھی، جسے پی آئی اے اور ایک کینیڈین کمپنی کے حوالے پولٹری پراجیکٹ کے لیے کیا گیا تھا۔
وکیل کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک میں گوشت کی پیداوار کی کمی کو پورا کرنا تھا۔ بعدازاں پولٹری منصوبہ ختم ہونے پر 1999 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے یہ زمین عوام کے لیے گھر اسکیم کے تحت مختص کردی تھی۔
پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے وکیل کا کہنا تھا کہ زمین وفاق نے حکومت سندھ سے خریدی تھی اور اس کی ملکیت بھی وفاق کے پاس تھی، اسی لیے اسے وزیراعظم کی گھر اسکیم کے تحت استعمال میں لایا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار محمد اقبال نے 10 جنوری 1996 کو حکومت سندھ کو 12 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کے لیے درخواست دی تھی، جس پر حکومت سندھ نے 14 جنوری کو مذکورہ زمین انہیں الاٹ کردی۔
مزید بتایا گیا کہ زمین کی الاٹمنٹ کے بعد درخواست گزار نے اسی زمین کو 15 کروڑ روپے قرض کے عوض بینک میں گروی رکھوا دیا، جبکہ درخواست گزار 1996 سے 2024 تک غائب رہا۔
دوسری جانب ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ زمین وفاقی حکومت کی ملکیت ہے، لہٰذا درخواست ناقابل سماعت ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آئندہ سماعت پر سیکریٹری لینڈ یوٹیلائیزیشن کو طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ مذکورہ 12 ایکڑ زمین کے دعویدار محمد اقبال نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔