شارع فیصل کال سینٹر چھاپے میں 339 لیپ ٹاپ ضبط، غیرملکیوں کا ڈیٹا بھی ملا،این سی سی آئی اے
ضبط شدہ لیپ ٹاپس میں ہزاروں غیرملکی شہریوں کا ڈیٹا،منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے شواہد بھی سامنے آگئے
شارع فیصل کال سینٹر چھاپے میں 339 لیپ ٹاپ ضبط، غیرملکیوں کا ڈیٹا بھی ملا، این سی سی آئی اے
کراچی: ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) شہزاد اکبر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں اندازاً 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کام کررہے ہیں، جبکہ حال ہی میں شارع فیصل پر واقع ایک کال سینٹر کے خلاف کارروائی کے دوران 100 خواتین اور 42 کم عمر افراد سمیت 273 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ ملک میں سائبر کرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ حالیہ کارروائی شہر کی تین بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے خلاف کی گئی، جبکہ شارع فیصل کال سینٹرز کا ایک بڑا مرکز ہے جہاں قائم ایک بڑی کمپنی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی میں صرف کال سینٹرز کے مالکان کو گرفتار کرنے سے یہ نیٹ ورک ختم نہیں ہوسکا تھا، کیونکہ ایک گروپ کے مالک کی گرفتاری کے بعد اس کے رشتے دار نام تبدیل کرکے دوسری کمپنی قائم کرلیتے اور دوبارہ یہی سرگرمیاں شروع کردیتے تھے۔ اس نوعیت کی جعل سازی میں بعض اوقات ملازمین بھی مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں، اس لیے اب کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
شہزاد اکبر کے مطابق شارع فیصل پر واقع کال سینٹر پر ماضی میں بھی چھاپہ مارا جاچکا ہے، تاہم کارروائی کے بعد دوبارہ اسی نوعیت کا کام شروع کردیا گیا تھا۔ پہلے صرف مالکان کے خلاف کارروائی کی جاتی تھی، لیکن اب پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران تقریباً 100 خواتین اور 42 کم عمر افراد سمیت 273 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جن بچوں کی عمر تعلیم حاصل کرنے کی ہے، ان سے مبینہ طور پر اسکیمنگ اور دیگر غیرقانونی کام لیے جارہے تھے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فونز اور 4 سی پی یوز قبضے میں لیے گئے۔ ضبط کیے گئے ہر لیپ ٹاپ پر مختلف جعلی آن لائن آئی ڈیز بنائی گئی تھیں، جبکہ ان میں کریڈٹ کارڈ رکھنے والے افراد کی اہم مالی معلومات بھی موجود تھیں۔
ان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر مختلف پرکشش آفرز اور دیگر جھانسے دے کر کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کی تفصیلات حاصل کرتے اور ان کے اکاؤنٹس سے رقوم نکال لیتے تھے۔
شہزاد اکبر نے انکشاف کیا کہ کال سینٹرز کی سرگرمیوں میں منی لانڈرنگ، حوالہ ہنڈی اور مرچنٹ نیٹ ورکس کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ضبط کیے گئے لیپ ٹاپس سے ہزاروں غیرملکی شہریوں کا ڈیٹا بھی ملا ہے، جس کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کال سینٹرز کے ذریعے صرف بین الاقوامی سطح پر ہی فراڈ نہیں کیا جارہا بلکہ مقامی شہریوں کو بھی مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ریٹائرڈ افراد کو بھی دھوکا دہی کے ذریعے لوٹنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ کارروائی سے قبل تمام اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور آپریشن مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ادارے کا مقصد خواتین اور بچوں کو بلاجواز تنگ کرنا نہیں بلکہ انہیں جرائم پیشہ سرگرمیوں سے بچانا ہے، تاہم ملازمین کا مجرمانہ ریکارڈ مرتب کیے بغیر اس طرح کی جعل سازی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
شہزاد اکبر نے والدین کو بھی تنبیہ کی کہ اگر وہ اپنے بچوں کو ایسے غیرقانونی کاموں میں ملوث ہونے سے نہیں روکتے تو انہیں بھی قانون کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے، اس حوالے سے دفعہ 109 کے تحت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے حالیہ دنوں میں ڈارک ویب سے متعلق ایک کیس میں متاثرہ بچی کو بازیاب کرانے سمیت دیگر اہم کارروائیاں بھی کی ہیں۔
ان کے مطابق یونیورسٹیوں میں آن لائن منشیات کی فراہمی اور استعمال کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں، اس سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں آن لائن ویب سائٹس کے ذریعے منشیات کی سپلائی اور گولیوں کے استعمال کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔
شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں آن لائن منشیات کی فراہمی کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ آن لائن ملازمتوں کے نام پر فراڈ کے واقعات کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ جاز کیش کے ذریعے بھی مختلف طریقوں سے مبینہ جعل سازی کی رقم منتقل کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
آخر میں ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہا کہ ادارہ سائبر کرائم کے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی شخص کو محض اس بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی کہ وہ کال سینٹر کا ملازم ہے یا مالک۔