بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں اضافہ کر دیا
بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 9 میں سے 8 ارکان نے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی
بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں اضافہ کر دیا
برطانیہ کے مرکزی بینک، بینک آف انگلینڈ نے تقریباً تین سال کے وقفے کے بعد بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 3.75 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کر دیا ہے۔
بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے 9 میں سے 8 ارکان نے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی، جبکہ کمیٹی کی رکن کیتھرین مان نے شرح سود میں مزید اضافے کی تجویز دیتے ہوئے اسے 4.25 فیصد کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
شرح سود میں اضافے سے خصوصاً ان افراد کے مالی اخراجات بڑھ سکتے ہیں جنہوں نے متغیر شرح سود یا ٹریکر مارگیج پر گھر خریدنے کے لیے قرض حاصل کر رکھا ہے۔ ایسے صارفین کی ماہانہ اقساط میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
اس کے برعکس بینکوں اور بلڈنگ سوسائٹیوں میں رقم جمع کرانے والے صارفین کو اپنی بچت پر زیادہ منافع ملنے کی توقع ہے۔
بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ حالیہ اضافہ مسلسل شرح سود بڑھانے کے کسی نئے سلسلے کا آغاز نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق تنازع برقرار رہا اور توانائی کی قیمتوں کے باعث مہنگائی میں کمی نہ آئی تو مستقبل میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ توانائی کی بلند قیمتیں طویل عرصے تک برقرار رہنے سے اجرتوں اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔
تاہم کمیٹی کے بعض ارکان کا کہنا تھا کہ اگر معاشی سرگرمیوں میں سست روی پیدا ہوئی یا توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آگئی تو شرح سود میں مزید اضافے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
برطانیہ میں اس وقت مہنگائی کی سالانہ شرح 3.5 فیصد ہے، جبکہ بینک آف انگلینڈ نے اسے 2 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
بینک کے مطابق مستقبل میں شرح سود کا فیصلہ کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت نہیں بلکہ مہنگائی، اجرتوں، توانائی کی قیمتوں اور مجموعی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔