جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کا نیٹ ورک پکڑا گیا، 9 افراد کے خلاف مقدمہ

قومی خزانے کو تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔

November 6, 2026 · قومی
جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کا نیٹ ورک پکڑا گیا، 9 افراد کے خلاف مقدمہ

جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کا نیٹ ورک پکڑا گیا، 9 افراد کے خلاف مقدمہ

لاہور: پنجاب بھر کی عدالتوں میں جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کی تیاری اور فروخت کے مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس کے ذریعے قومی خزانے کو تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی ہدایت پر معاملے کی تحقیقات کے دوران اینٹی کرپشن حکام نے لاہور کی ضلع کچہری کے مختلف دفاتر میں کارروائیاں کیں۔ اس دوران جعلی کورٹ فیس ٹکٹ تیار کرنے والی مشینیں اور لاکھوں کی تعداد میں مبینہ جعلی ٹکٹ برآمد کر لیے گئے، جبکہ متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

اینٹی کرپشن حکام نے سول کورٹ کی کاپی برانچ کے انچارج زمان اللہ، ماڈل ٹاؤن کچہری کے ریکارڈ کیپر اعجاز احمد سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دیگر ممکنہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ عدالتی دستاویزات کی مصدقہ نقول حاصل کرنے کے لیے بھی مبینہ طور پر جعلی کورٹ فیس ٹکٹ استعمال کیے جاتے رہے۔ حکام کے مطابق سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی کورٹ فیس اور عدالتوں میں ہونے والے کام کے حجم کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔

تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ صرف لاہور کی عدالتوں سے روزانہ تقریباً 15 لاکھ روپے کورٹ فیس کی آمدن متوقع ہے، تاہم سرکاری ریکارڈ میں جمع ہونے والی رقم اور عدالتی سرگرمیوں کے تناسب میں واضح تضاد پایا گیا ہے۔

سال 2025 اور 2026 کے دوران عدالتی کام اور قومی خزانے میں جمع کرائی گئی کورٹ فیس کے اعدادوشمار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے مبینہ جعلسازی میں ملوث سرکاری اہلکاروں اور دیگر کرداروں کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق ریکارڈ کی چھان بین اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا حتمی تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے، جبکہ تحقیقات میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔