مالیاتی اداروں اور اہم تنصیبات پر اے آئی سائبر حملوں کا خطرہ،ایڈوائزری جاری

بینکنگ نظام،بجلی کے نیٹ ورکس،تیل و گیس تنصیبات اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ممکنہ خطرات سے خبردار کردیا گیا

November 6, 2026 · قومی

بینکوں کےکور بینکنگ سسٹمز، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز نشانے پر ہو سکتے ہیں: ایڈوائزری/ فائل فوٹو

اسلام آباد: مالیاتی اداروں اور اہم انفرااسٹرکچر پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے ذریعے سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ابھرتے ہوئے اے آئی سائبر خطرات سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی ہے۔

جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق بینکوں کے کور بینکنگ سسٹمز، ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارمز، تیل و گیس کی تنصیبات، واٹر یوٹیلیٹیز، بجلی کے نیٹ ورکس، بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام، مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے ممکنہ سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ بینکوں کے ظاہر کردہ اکاؤنٹ بیلنس میں ردوبدل کے ذریعے صارفین میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکتا ہے۔ اے آئی، خودکار بوٹس، بوٹ نیٹس اور ایجنٹک ٹولز کے استعمال سے سائبر حملوں کی رفتار اور پیچیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ بینکوں کے ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئیز)، ادائیگی کے نظام اور صارفین کی ایپلی کیشنز پر بھی حملوں کا خدشہ ہے۔

ایڈوائزری میں متعلقہ اداروں کو خودکار لاگ اِن کی کوششوں، بار بار ناکام تصدیق، اسناد کی بھرمار، غیر معمولی اے پی آئی ریکویسٹس، ایپلی کیشنز کی کنفیگریشن میں تبدیلیوں اور غیر معمولی لین دین کے پیٹرنز کی مسلسل نگرانی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ایڈوائزری میں یورپ کے سپرمارکیٹس کے ریفریجریشن اور فریزر سسٹمز پر ہونے والے سائبر حملوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن کے باعث منسلک آپریشنل سسٹمز پر حملوں کے جسمانی اور تجارتی نتائج سامنے آئے۔ تاہم یورپ میں پیش آنے والے ان واقعات میں اے آئی کے ملوث ہونے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ صارفین کی ایپلی کیشنز اور کور بینکنگ ریکارڈ میں ڈیٹا کی درستگی اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے انٹیگریٹی چیکس کیے جائیں۔

اس کے علاوہ آزادانہ طور پر لین دین کی جانچ، بوٹس کے ذریعے چلائی جانے والی کوششوں کی نگرانی اور خودکار اے آئی سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے اداروں کی تیاری کا جائزہ لینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔