جوہری ہتھیاروں سے متعلق تجویز قطر کے ذریعے امریکا کو بھیج دی گئی ہے، سینئر ایرانی عہدیدار
ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی،محسن رضائی کا دوٹوک مؤقف
فوٹو: رائٹرز
ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے تجاویز قطر کے ذریعے امریکا کو بھیج دی گئی ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات ایران کی تمام سات شرائط پوری ہونے کے بعد ہی ہوں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سینئر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں نے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو مسترد کرنے سے گریز کیا، جبکہ ایران نے جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں وسیع پیمانے پر جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ سفارتی سطح پر ہم نے امریکا کے سامنے سات شرائط رکھ دی ہیں۔ جب تک امریکا ہماری تمام شرائط پر عمل نہیں کرتا، نہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی اور نہ ہی مذاکرات ہوں گے۔
واضح رہے کہ ایران پہلے ہی اپنے مطالبات پیش کرچکا ہے، جن میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں جوہری ہتھیاروں کا معاملہ بھی زیر غور آنا چاہیے۔
خبر کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026ء کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، کویت، بحرین، عراق سمیت دیگر ممالک کو بھی نشانہ بنایا تھا۔