سکیورٹی چیک دکھا کر رقم وصول نہیں کی جا سکتی،لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
جسٹس عاصم حفیظ نے محمد احتشام کی درخواست پر چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے نظامی فیڈز کی اپیل مسترد کر دی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سکیورٹی چیک دکھا کر رقم وصول نہیں کی جا سکتی،لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض سکیورٹی چیک پیش کرکے اس کی رقم وصول نہیں کی جا سکتی، بلکہ دعویٰ کرنے والے فریق کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ متعلقہ رقم واقعی واجب الادا ہے۔
جسٹس عاصم حفیظ نے محمد احتشام کی درخواست پر چھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے نظامی فیڈز کی اپیل مسترد کر دی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق متعلقہ چیک کی پشت پر اسے سکیورٹی چیک درج کیا گیا تھا، جس کی بینک افسر نے بھی عدالت میں تصدیق کی۔
عدالت نے 39 لاکھ 50 ہزار روپے کی وصولی کا دعویٰ ناکافی شواہد کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مدعی فریق اصل حسابی کھاتے پیش کرنے میں ناکام رہا اور صرف ان کی نقول جمع کرائیں، جبکہ مال کی خریداری کے آرڈرز بھی ریکارڈ پر پیش نہیں کیے گئے۔
فیصلے کے مطابق حسابی کھاتہ ایم اے فارم کے نام پر تھا، جبکہ چیک دوسرے فریق کے ذاتی بینک اکاؤنٹ سے متعلق تھا۔ عدالت نے چیک کی رقم کی وصولی کے ساتھ دوسرے فریق کی جانب سے دائر ہرجانے کا دعویٰ بھی مسترد کر دیا۔
جسٹس عاصم حفیظ نے تمام متعلقہ اپیلیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقدمے کے اخراجات کوئی بھی فریق ادا نہیں کرے گا۔