کراچی کی نئی فوڈ واک پر بیٹھنے کے 600 روپے، شہریوں اور تاجروں کا احتجاج

سندھی مسلم فوڈ واک پر سیٹنگ چارجز، پارکنگ اور ٹریفک مسائل زیرِ بحث، ٹاؤن انتظامیہ نے وصولیوں کی تردید کردی

November 7, 2026 · قومی

فیس بک اسکرین شاٹ/ سعیدغنی، پی پی پی

کراچی: کراچی کی سندھی مسلم فوڈ واک پر بغیر کچھ کھائے پئے صرف کرسی پر بیٹھنے کے 600 روپے وصول کرنے کے دعوے نے شہریوں میں تشویش پیدا کردی، جبکہ نئی فوڈ واک کو مختلف مسائل اور تنقید کا سامنا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اگر کوئی شہری فوڈ واک پر صرف گھومنے کے بجائے کچھ دیر بیٹھنا چاہے اور کھانے پینے کا کوئی آرڈر نہ دے تو اسے بھی 600 روپے ادا کرنے کا کہا جاتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ریسٹورنٹ کے عملے نے دعویٰ کیا کہ یہ 600 روپے ٹیبل اور کرسیوں کے وہ چارجز ہیں جو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) کی جانب سے ریسٹورنٹس سے ماہانہ وصول کیے جاتے ہیں۔

فوڈ واک پر ٹیبل اور کرسیاں اسی پاتھ وے پر لگائی گئی ہیں جسے منصوبے کے تحت بہتر بنا کر آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شہریوں کے بیٹھنے کے لیے مختص کیا گیا ہے، جہاں لوگ پیدل چلنے کے ساتھ بیٹھ کر کھانے پینے سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹر نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے سیٹنگ چارجز کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سے سوال اٹھایا۔
ٹاؤن انتظامیہ کی چارجز وصولی کی تردید

ٹی ایم سی چنیسر ٹاؤن نے ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ فوڈ واک کا مقام اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم نہ ٹی ایم سی چنیسر ٹاؤن اور نہ ہی کے ایم سی ریسٹورنٹس سے اس جگہ کے استعمال کے کوئی چارجز وصول کر رہی ہے۔

انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ اگر کسی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کے حوالے سے شکایت ہو تو تحریری درخواست یا تصویر کے ذریعے آگاہ کیا جائے، جس پر متعلقہ ریسٹورنٹ سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

رپورٹر کی پوسٹ پر ایک سوشل میڈیا صارف نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ان سے کرسیوں پر بیٹھنے کے 600 روپے مانگے گئے، جس پر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔

صارف نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا خاندان، جو کھانے پینے پر اضافی خرچہ برداشت نہیں کرسکتا، اس فوڈ واک پر نہیں آسکتا؟
تاجروں کے بھی تحفظات سامنے آگئے

دوسری جانب ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو ڈیجیٹل کو بتایا کہ معاملہ صرف ٹیبل اور کرسیوں تک محدود نہیں، بلکہ نیویارک اور ترکیے کی شاہراہوں کی طرز پر فوڈ واک میں بل بورڈز لگانے کے لیے بھی تاجروں پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ ٹاؤن انتظامیہ کے ساتھ ہی معاہدے کریں۔

ذریعے نے مزید دعویٰ کیا کہ فوڈ واک کے افتتاح کے بعد سے ریسٹورنٹس کی فروخت میں کمی آئی ہے، جس کی ایک وجہ پارکنگ کا نظام ہے۔
ٹریفک کے باعث علاقہ مکین بھی پریشان

فوڈ واک کی نئی تبدیلیوں سے صرف تاجر ہی نہیں بلکہ علاقہ مکین بھی مشکلات کا شکار ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی ایچ ایس کے رہائشی غلام حسن نے بتایا کہ ٹریفک کی آمدورفت کے لیے ایس ایم سی ایچ ایس کی فوڈ اسٹریٹ بند کرنے کا نقصان اب علاقہ مکینوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

غلام حسن کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور یہ کوئی نئی فوڈ اسٹریٹ نہیں ہے۔ اس کی تعمیر نو کے دوران بھی علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ سڑک کھدی ہوئی تھی اور اس وجہ سے شہریوں کے لیے اس راستے سے گزرنا اور ریسٹورنٹس تک پہنچنا مشکل ہوگیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ تعمیر نو کے بعد صورت حال بہتر ہوگی، لیکن افتتاح کے دن سے ہی یہ شاہراہ مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ٹریفک کے دباؤ کے باعث گاڑیوں کا رش اب پی سی ایچ ایس کی گلیوں اور اطراف میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

علاقہ مکین نے سکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ واک کے افتتاح کے موقع پر موبائل فون چوری ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ اس سرگرمی کے باعث علاقے میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ نہ ہوجائے۔

شہریوں کی تفریح کے لیے بنائی گئی نئی فوڈ واک اب سیٹنگ چارجز، تاجروں کے تحفظات، ٹریفک اور سکیورٹی کے مسائل کے باعث مختلف سوالات کی زد میں ہے