سیاسی جماعت کو دباؤ سے ختم کرنے کی کوشش غلط فہمی ہے، پوری قوم اکٹھی ہوگی تو امن آئے گا، اسد قیصر
پی ٹی آئی رہنما کا کارکنوں کی رہائی، گورنر راج کے خاتمے اور عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ
سیاسی جماعت کو دباؤ سے ختم کرنے کی کوشش غلط فہمی ہے، پوری قوم اکٹھی ہوگی تو امن آئے گا، اسد قیصر
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری بند کرنے اور تین ایم پی او کے تحت گرفتار تمام کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک پُرامن اور جمہوری جماعت ہے اور اپنی جدوجہد عدم تشدد کے راستے پر جاری رکھے گی۔
اپنے ویڈیو بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی، جنید اکبر، اراکین اسمبلی اور وزرا کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، انہیں فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کرکے صوبائی حکومت بحال کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امن قائم کرنا ہے تو وہ مذاکرات اور امن کے لیے دو قدم آگے بڑھنے کو تیار ہیں، تاہم خیبرپختونخوا کے عوام کی رائے کو اہمیت دینا اور انہیں عزت دینا ہوگی۔
اسد قیصر نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو دباؤ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ پوری قوم اکٹھی ہوگی تو ملک میں امن آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے پہلے ہی بند ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 160 ارب روپے کے پیکج کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم پہلے صوبے کے واجبات ادا کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 153 ارب روپے کے بقایا جات ادا نہیں کیے جا رہے، نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور گیس رائلٹی بھی نہیں مل رہی، جبکہ سابق فاٹا کے ساتھ سالانہ ایک ہزار ارب روپے کی مالی معاونت کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ صوبے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بھی مناسب حصہ نہیں دیا جا رہا۔
اسد قیصر نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ، اسپیکر، صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی کو غیر واضح قانونی حیثیت میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ شخصیات کی موجودگی اور قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
عمران خان کی صحت پر تشویش، الشفا اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ
عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ وکیل سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر 190 سے 192 تک پہنچ گیا تھا، جس پر پارٹی کو شدید تشویش ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمران خان کو کوئی سنگین طبی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟
اسد قیصر نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عمران خان کو فوری طور پر الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مناسب طبی معائنہ اور علاج ہوسکے۔