خیبرپختونخوا کی پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد یا قندھار سے نہیں، فیصل کریم کنڈی

دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشنز ضروری ہیں۔

November 8, 2026 · قومی
خیبرپختونخوا کی پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد یا قندھار سے نہیں، فیصل کریم کنڈی

خیبرپختونخوا کی پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد یا قندھار سے نہیں، فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ صوبے سے متعلق فیصلے اسلام آباد سے ہوں گے، جلال آباد یا قندھار سے نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشنز ضروری ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سابقہ پی ٹی آئی حکومت سنجیدہ نہیں تھی۔ ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں واپسی کی گنجائش نہیں، شکست ہمارے لیے کوئی آپشن نہیں۔

گورنر کے پی کا کہنا تھا کہ افغانستان فرار ہونے والے دہشت گردوں کو دوبارہ یہاں آباد کیا گیا۔ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

اس موقع پر سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا امجد علی نے بتایا کہ صوبے میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے وسائل بڑھائے جائیں گے۔ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، اسلحے اور ضروری آلات سے لیس کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے لیے 10 ارب 30 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ پولیس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پولیس شہداء کے لیے معاوضے کا پیکیج بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

امجد علی کے مطابق سابقہ حکومت نے 22 اضلاع کے لیے 6 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے تھے، تاہم اس میں سے صرف ایک ارب روپے جاری کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ایک ہزار سے زائد فوجی جوان شہید ہو چکے ہیں۔

سیکرٹری داخلہ نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے ملک دشمن ہیں۔ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی نگرانی بہتر بنائی جا رہی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ سابقہ حکومت افغان مہاجرین کی واپسی میں تعاون نہیں کر رہی تھی۔