میرا بھانجا ایک گھنٹے تک تڑپتا رہا ، ڈاکٹر غائب تھے ، نورعالم خان کا شکوہ
گورنر فیصل کریم کنڈی کو میسج کیا،ڈیڑھ گھنٹے بعد جواب آیا، میں نے کہا اب کیا فائدہ، میرا بھانجا تو مر گیا!نور عالم خان
فائل فوٹو
پشاور : سابق رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے شکوہ اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بھانجے فہد خان کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ایک گھنٹے تک کوئی طبی امداد نہیں دی گئی کیونکہ ڈاکٹر نہیں تھا۔
نور عالم خان کا کہنا تھا کہ فہد خان کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن ایک گھنٹے تک وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسے کوئی طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت آپریشن کر کے اندرونی خونریزی (Internal Bleeding) کو روک لیا جاتا تو ان کے بھانجے کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
میرے بھانجے فہد خان کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ایک گھنٹے تک کوئی طبی امداد نہیں دی گئی کیونکہ ڈاکٹر نہیں تھا اگر بروقت آپریشن ہو جاتا تو انٹرنل بلیڈنگ روکی جا سکتی تھی میں نے فیصل کریم کنڈوم کو میسج کیا تو ان کے ملٹری سیکرٹری نے ڈیڑھ گھنٹے بعد جواب دیا میں نے کہا اب کیا… pic.twitter.com/Wn8gkRPXLh
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) November 8, 2026
انہوں نے رابطہ اور ردعمل میں تاخیر پر نالاں ہوتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فوری مدد کے لیے فیصل کریم کنڈی کو میسج کیا، لیکن ان کے ملٹری سیکریٹری کی جانب سے ڈیڑھ گھنٹے بعد جواب موصول ہوا۔ اس تاخیر پر نور عالم خان نے دلبرداشتہ ہو کر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب کیا فائدہ، میرا بھانجا تو مر گیا!
اسپتال انتظامیہ کی اس مبینہ غفلت اور تاخیر پر ورثا اور عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف سخت اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔