وطن، والدین اور مذہب سے بھاگتی نوجوان سعودی لڑکیاں- گمراہ کس نے کیا!

سعودی عرب کی ایک 18 سالہ لڑکی رہف محمد القنون دو دن تک تھائی لینڈ کے بنکاک ایئرپورٹ کو خود کو ایک کمرے میں بند رکھنے کے بعد بالآخر اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر سے تحفظ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ تھائی حکام نے وعدہ کیا ہے کہ وہ رہف القنون کو ڈی پورٹ نہیں کریں گے۔

یہ نوجوان سعودی لڑکی نہ صرف اپنے وطن اور والدین سے بھاگ کر یہاں پہنچی تھی بلکہ اس نے اسلام ترک کرنے یعنی ارتداد کا اعلان بھی کیا ہے۔

سعودی عرب سے بھاگنے والی رہف واحد لڑکی نہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی لڑکیاں انتہائی اقدام اٹھا چکی ہیں اور ان میں سے کئی کی پراسرار حالات میں موت بھی ہوگئی۔ اس سلسلے میں بالخصوص سعودی سفارت خانوں پر شک کیا جاتا ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر صحافی جمال خشقجی کے لرزہ خیز قتل کے بعد اس شک میں اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب کے شہری اس سلسلے میں کچھ عناصر، عوامل اور افراد کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

رہف بنت محمد القنون- جس کی حمایت میں پوری دنیا سرگرم

اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق رہف القنون کا تعلق سعودی عرب کے شمالی شہر حائل سے ہے۔ اس کے والد محمد القنون سعودی حکومت میں ایک اعلیٰ سرکاری افسرہیں۔ وہ حائل کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی۔ چند روز قبل وہ اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں منانے کویت پہنچی اور پھر اتوار کو وہاں سے تنہا طیارے میں بیٹھ کر بنکاک پہنچ گئی۔

رہف القنون

رہف کا کہنا ہے کہ اس کا ارادہ آگے آسٹریلیا جانے کا تھا۔ اس کے پاس آسٹریلیا کا ویزا بھی تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ بنکاک ایئرپورٹ پر اتری تو سعودی سفارتخانے کے ایک اہلکار نے اس کی مدد کرنے کے بہانے پاسپورٹ اس سے لے لیا۔ کچھ دیر بعد وہی اہلکار تھائی سیکورٹی اہلکار کے ساتھ واپس آیا اور اسے واپس ترکی بھیجنے کی کوشش کی۔

رہف کو ایئرپورٹ کے اندر ہی ایک ہوٹل کے کمرے میں لے جایا گیا جہاں اس نے خود کو بند کرلیا۔ اس کے بعد اس نے سوشل میڈیا پر اپنے حالات بیان کردیئے۔ فوراً ہی اے بی سی نیوز، بی بی سی سمیت مغربی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے اس سے رابطہ کیا۔ رہف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں گھر کے اندر اس پرتشدد کیا جاتا ہے، اس مرتبہ اس نے بال کٹوا لیے تو چھ ماہ تک اسے قید رکھا گیا۔

بی بی سی اور اے بی سی نیوز کےمطابق رہف نے یہ بھی بتایا کہ وہ اسلام چھوڑ چکی ہے اور اگر اسے واپس بھیجا گیا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اے بی سی نیوز کی رپورٹر صوفی میک نیل بنکاک ایئرپورٹ میں رہف کے کمرے تک پہنچ گئی۔ اس نے خود کو کئی گھنٹے رہف کے ساتھ کمرے میں بند رکھا تاکہ تھائی حکام سعودی لڑکی کو ساتھ نہ لے جاسکیں۔ اس دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین(یو این ایچ سی آر) متحرک ہوگئے۔ یو این ایچ سی آر کے نمائندے ایئرپورٹ پہنچے۔ تھائی حکام سے مذاکرات ہوئے جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ رہف کو ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کی شب  تھائی پولیس نے رہف کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا۔ یو این ایچ سی آر آئندہ پانچ روز میں اسے آسٹریلیا بھیجنے کا انتظام کرے گا۔

رہف القنون کا ایک نیا ٹوئٹر اکائونٹ اتوار کو ہی بنا ہے۔ یہ اکائونٹ بظاہر صوفی میک نیل ہی استعمال کر رہی ہیں۔ اس اکائونٹ سے جاری ہونے والے بیانات میں رہف نے بتایا کہ اسے کون کون سے عالمی قوانین کے تحت پناہ کا حق حاصل ہے۔ صوفی میک نیل نے ہوٹل کے کمرے سے رہف کی تصاویر بھی جاری کیں۔ ایک تصویر میں رہف فون پر مصروف ہے۔ کمرے کو اندر سے لاک لگا ہوا ہے۔ صوفی کے بقول اس وقت کویت ائرلائن کے حکام دروازے پر موجود تھے۔

اس 18 سالہ لڑکی کی وجہ سے سعودی حکام سخت مشکل میں ہیں۔ جب ان کی جانب سے  رہف کو سعودی عرب کے بجائے ترکی کا شہری قرار دینے کی کوشش کی گئی تو اس لڑکی نے حائل یونورسٹی کے اپنے اسٹوڈنٹ کارڈ کی تصویر شیئر کردی۔ رہف کے والد بھی بنکاک پہنچے ہوئے ہیں۔

سعودی سفارتخانے یہ وضاحت جاری کرنے پر مجبور ہوگیا کہ اس کی جانب سے نہ تو رہف کا پاپسورٹ قبضے میں لیا گیا نہ ہی اس نے اسے ڈی پورٹ کرانے کی کوشش کی ہے۔ رہف نے پہلے پاسپورٹ واپس ملنے اور پھر دوبارہ لے لیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

رہف کے مطابق وہ آسٹریلیا میں مقیم ایک سعودی خاتون سے رابطے میں تھی جس نے اس کی مدد کرنی تھی۔ اب اس لڑکی کی حمایت میں آسٹریلیا میں کافی لوگ کھڑے ہو گئے ہیں جو اسے پناہ دینے اور ہنگامی دستاویزات جاری کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

روتانا اور تالا فارع – امریکہ میں پناہ مانگنے کے بعد پراسرار موت کا شکار

رہف القنون کا مستقبل اب بھی غیریقنی ہے۔ کچھ لوگ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تھائی حکام سعودی سفارتخانے کے ساتھ مل کر اسے واپس بھیج دیں گے۔ رہف پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اسے ترکی بھیجا گیا تو وہاں اس کے خاندان کے افراد یا سعودی حکام اسے قتل کر دیں گے۔

22 سالہ روتانا فارع(دائیں) اور اس کی بہن 16 سالہ تالا فارع کی لاشیں نیویارک کے دریائے ہڈسن سے ملی تھیں
22 سالہ روتانا فارع(دائیں) اور اس کی بہن 16 سالہ تالا فارع کی لاشیں نیویارک کے دریائے ہڈسن سے ملی تھیں۔ نیویارک پولیس کی جاری کردہ یہ تصاویر عرب ٹی وی الجزیرہ پر نشر ہوئیں۔

خاندان سے فرار ہوکر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے کا اقدام پہلے بھی کئی نوجوان سعودی لڑکیاں اٹھا چکی ہیں۔ گذشتہ برس ستمبر میں امریکہ میں دو سعودی بہنوں 16 سالہ تالا اور 22 سالہ روتانا نے سیاسی پناہ مانگی تھی۔ ایک روز بعد ہی ان کی لاشیں نیویارک کے دریائے ہڈسن سے اس حالت میں برآمد ہوئیں کہ دونوں کو ڈک ٹیپ سے ایک دوسرے کے ساتھ باندھا گیا تھا۔ اگرچہ امریکی حکام نے کئی وجوہات کی بنا پر ان کے قتل کا امکان مسترد کیا۔ ان کا کہناتھا  کہ ٹیپ بہت ڈھیلی تھی اور بظاہر دونوں پانی میں جانے سے پہلے تک زندہ تھیں۔ ایک عینی شاہد نے بھی انہیں چند گھنٹے پہلے اس جگہ تنہا دیکھا تھا۔ تاہم امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ سعودی سفارتخانے نے ان دونوں بہنوں کی والدہ کو امریکہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔

ان دونوں بہنوں کی کہانی رفتہ رفتہ سامنے آئی۔ یہ اپنے والدین کے ساتھ سعودی عرب چھوڑ کر امریکہ مقیم ہوئیں تھیں۔ موت سے ایک  برس قبل یہ اپنے گھر سے بھاگ گئیں۔ تلاش کیے جانے پر انہوں ںے والدین پر تشدد کا الزام لگا کر واپس جانے سے انکار کردیا۔ انہیں شیلٹر یا درالامان میں بھیج دیا گیا۔ ستمبر 2018 میں یہ وہاں سے بھی بھاگ نکلیں۔ ان کے پاس خاصی رقم تھی جس سے یہ مہنگے ہوٹلوں میں قیام اور خریداری کرتی رہیں۔ موت سے کچھ دن پہلے ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے تھے۔

دریائے ہڈسن میں ان کی پراسرار موت اور سعودی سفارتی مشنز میں تعلق جوڑنے کی امریکی اخبارات نے بہت کوشش کی لیکن اس کے باوجود ان کی موت کو قتل قرار نہیں دیا جاسکا۔

دینا علی اور شھد المحیمید – ایک جیسے واقعات مختلف انجام

رہف القنون کا مستقبل کیا ہوتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے لیکن اسی کے انداز میں دو لڑکیاں پہلے سعودی عرب سے بھاگ چکی ہیں۔ 2017 میں 24 سالہ دینا علی نے فلپائن کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش کی تھی۔

رہف کی طرح دینا علی بھی کویت سے نکلی تھی لیکن اس کے خاندان والے اسے منیلا ایئرپورٹ سے واپس لے جانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ دینا نے ایک آسٹریلوی سیاح کے فون کے ذریعے ٹوئٹر پر ایک پیغام اور وڈیو جاری کی تھی کہ اسے واپس پہنچتے ہی قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد دینا علی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

شھد المحیمید اب ٹوئٹر پر سرگرم ہیں
شھد المحیمید اب ٹوئٹر پر سرگرم ہیں

دینا علی کے برعکس ایک اور لڑکی شھد المحیمید کا انجام اچھا ہوا۔ 16سالہ شھد اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے اگست 2016 میں ترکی گئی تھی۔ وہاں سے وہ جارجیا بھاگ گئی۔ رہف کی طرح سعودی حکام نے پہلے شھد کے بھی سعودی شہری نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس دوران اس کے سوئیڈن جانے کی خبریں آئیں۔ تاہم 2017 میں شھد اپنی مرضی سے واپس سعودی عرب آگئی۔ واپسی کے بعد وہ انسانی حقوق کے لے آواز اٹھانے لگی۔ اتوار کو اس نے رہف کے حق میں بھی بیان جاری کیا۔

حقوق نسواں کی علمبردار خواتین

رہف القنون کے فرار پر متعدد سعودی شہریوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے والدین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے جب کہ رہف پر تنققید کی گئی۔ کئی لوگوں نے اس کے بھاگنے کی ذمہ داری حقوق نسواں کی علم بردار خواتین پر ڈالی ہے۔

اسی طرح کی باتیں شھد المحیمید کے فرار کے بعد بھی کہی گئی تھیں۔ اس وقت بھی شھد کو گمراہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں تین خواتین سے تفتیش کی اطلاعات بھی آئی تھیں جنہوں نے اسے بھگانے میں مدد دی۔ ان پر لڑکی ’اکسانے‘ کا الزام تھا۔ جبکہ یہ خبر بھی آئی کہ شھد سوئیڈن میں مقیم کسی خاتون سے بھی رابطے میں تھی۔

شھد کی طرح رہف کو بھی کئی لوگوں نے متنبہ کیا ہے کہ بیرون ملک اس کا جنسی استحصال کیا جائے گا اور وہ ذلیل و خوار ہوگی۔

الحاد کے دعوے میں دلچسپی

رہف کے معاملے پر تبصرے کرنے والے سعودی شہریوں نے اس کے الحاد یا ارتداد کے دعوے کو زیادہ اہمیت نہیں تھی تاہم مذہب بیزار حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک پاکستانی نژاد کینیڈین طارق فتح بھی ہیں۔

تبصرے بند ہیں.