اپ ڈیٹ: سیٹلائیٹ تصاویر سے بالاکوٹ حملے کی حقیقت سامنے آگئی

پاکستان میں فضائی دراندازی کے بعد جیش محمد کیمپ پر حملے اور 350 افراد کی ہلاکت کے بھارتی دعوے کی حقیقت سٹیلائیٹ تصاویر سے سامنے آگئی ہے۔ یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ بھارتی طیاروں نے بالاکوٹ کے قریب جابہ ہل ٹاپ پر بم مارے تھے یا پھر بھاگتے ہوئے عجلت میں پے لوڈ پھینکا تھا۔

اہم بات یہ ہے کہ ان سٹیلائیٹ تصاویر پر رپورٹ خود بھارت کے میڈیا نے شائع کرنا شروع کردی ہیں۔ ان میں معتدل سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ بھی شامل ہیں اور بھارتی اسٹیبشلمنٹ کے ترجمان اخبارات و جرائد بھی۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے منگل کو بھارتی حملہ ناکام بنانے کے کچھ ہی دیر بعد پریس کانفرنس میں دنیا کو پیشکش کی تھی کہ وہ سٹیلائیٹ سے حقیقت معلوم کر لے۔

بھارت کے نسبتاً معتدل آن لائن جریدے دی وائر نے ہفتہ کوآسٹریلین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے شائع رپورٹ میں بتایا کہ امریکی کمپنی پلانٹ لیب انکارپوریشن نے27 فروری کو حملے کے مقام کی سٹیلائیٹ تصاویرلی تھیں جب کہ حملے سے ایک دن پہلے یعنی 25 فروری کی تصاویر بھی موجود ہیں اور ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بم اپنے مجوزہ ہدف سے 150 سے 200 میٹر دور گرے۔

دی وائر نے مذکورہ سٹیلائیٹ تصاویر بھی شائع کیں۔

بھارتی اسٹیلشمنٹ کے ترجمان اخبار ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنی سٹیلائیٹ تصاویر کے ماہرین نے کہا ہے کہ بالاکوٹ میں کسی ’تنصیب‘ یا عمارت کو نقصان پہنچنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹیلائیٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالا کوٹ میں جابہ ٹاپ پر ’تنصیب‘ کو نقصان پہنچنے کے کوئی آثار نہیں ہیں، بھارتی بم ’’بیرکوں/عمارتوں‘‘ سے 150 سے 200 گز دور رہے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت اور میڈیا کا دعویٰ ہے کہ جہاں بم گرے وہاں جیش محمد کا 6 ایکڑ پر پھیلا ٹریننگ کیمپ تھا جو تباہ ہوگیا اور 350 لوگ مارے گئے۔ جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں کئی کیمپ نہیں ہے۔ وہاں مولانا مسعود اظہر سے وابستہ واحد چیز ایک چھوٹا دینی مدرسہ ہے اور وہ بھی بند ہوچکا ہے۔

سٹیلائیٹ تصاویر سامنے آنے سے یہ بات بھی ثابت ہو رہی ہے کہ جس جگہ حملہ کیا گیا وہاں کوئی تربیتی مرکز نہیں ہے۔ اگرچہ بھارتی میڈیا نے بم گرنے کے مقامات کے قریب واقع عمارتوں کو بدستور جیش محمد سے جوڑنے کی کوشش کی تاہم صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ اس پہاڑی چوٹی پر مجموعی طور پر 7 گھر نظر آرہے ہیں۔ ضلع مانسہرہ میں پہاڑوں پر تقریباً تمام آبادیوں میں مکانات اسی طرح کچھ فاصلے پر بنے ہیں۔

اورکسی بھی صورت میں یہ جگہ نہ تو 6 ایکڑ پر پھیلا کیمپ دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں سے مطابقت رکھتی ہے کہ مذکورہ کیمپ فائیو اسٹار ہوٹل کی طرح ہے جہاں ہر قسم کی لگژری سہولیات میسر ہیں۔

بھارتی بم ’ہدف‘ پر کیوں نہیں گرے۔ نئی بھارتی منطق

نئی معلومات اور حملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہونے کے اعتراف کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنے ملک کو شرمندگی سے بچانے کیلئے نئی منطق ڈھونڈی ہے۔

یہ بات پہلے سامنے آچکی ہے کہ بالاکوٹ میں گرنے والے بھارتی بم اسرائیلی ساختہ SPICE-2000 تھے۔

 

بالاکوٹ حملے سے ایک دن پہلے 25 فروری کو لی گئی جابہ ٹاپ کی تصویر۔ دائروں میں وہ مقامات ہیں جہاں بعد ازاں بھارتی بم گرے
بالاکوٹ حملے سے ایک دن پہلے 25 فروری کو لی گئی جابہ ٹاپ کی تصویر۔ دائروں میں وہ مقامات ہیں جہاں بعد ازاں بھارتی بم گرے

آسٹریلین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ گائیڈڈاپنے طے شدہ ہدف پر اتنا ٹھیک ٹھیک مار کر سکتے ہیں کہ ان کی غلطی کا دائرہ بھی صرف 3 میٹر ہوتا ہے۔ جب کہ یہ ہدف پہلے سے پروگرام شدہ ہوتا ہے اور بم میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کو آرڈینیٹ پہلے سے طے کیے جانے کے ساتھ ساتھ بم پر آپٹیکل سینسرز بھی لگے ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنے ہدف کو خود پہچان سکے۔ یہ تمام حساب کتاب اتنا اہم ہے کہ مذکورہ بم مخصوص طیاروں سے ہی گرایا جا سکتا ہے۔ بھارت کے پاس موجود میراج 2000 طیارے اس کے لیے موزوں تھے لیکن میراج سے زیادہ جدید سخوئی 30 طیارہ یہ بم نہیں لے جاسکتا۔

سٹیلائیٹ تصویر میں جابہ ٹاپ پر موجود گھروں کو ہی جیش محمد کیمپ قرار دینے پر اصرار کرتے ہوئے لکھا گیا کہ یہ ممکن ہے کہ بھارت حملہ کرکے ایک طرف تو اپنے عوام کو مطمئن کرنا چاہتا تھا اور دوسری طرف اس نے کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا۔

بالاکوٹ حملے کے بعد 27 فروری کو امریکی سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر
بالاکوٹ حملے کے بعد 27 فروری کو امریکی سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر

یاد رہے کہ اس سے قبل بھارتی حکومت دعوے کرتے رہی ہے کہ اس نے فوجی اور سویلین جانی نقصان سے بچنے کی کوشش کی تاہم حملے میں جیش محمد کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ بھارت پر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ نگار ابھیجت مترا اور دیگر کہتے رہے ہیں کہ بھارت نے میراج 2000 جیسے قیمتی طیارے پاکستان میں بھیجنے کا خطرہ اسی لیے مول لیا کہ اگر یہ شدت پسند بھارت میں داخل ہوجاتے تو اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچاتے جو بھارتی طیارے مار گرائے جانے کی صورت میں ہونا تھا۔

لہذا بھارتی میڈیا یا آسٹریلین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی یہ قیاس آرائی درست معلوم نہیں ہوتی کہ بھارت نے جان بوجھ کر ’عسکریت پسندوں‘ کی جانیں بخش دیں۔

بم ہدف پر نہ گرنے کی پاکستانی منطق

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی حملے کے بعد بریفنگ میں کہا تھا کہ بھارتی طیارے 4 سے پانچ میل تک پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اورپاکستانی طیارے جب ان کی طرف بڑھے تو وہ عجلت میں اپنے پے لوڈ پھینک کر واپس چلے گئے۔

بھارت کے لیزرگائیڈڈ بم اپنے ’مجوزہ ہدف‘ پر نہ لگنے سے پاک فوج کی ترجمان کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے اور اس بیان کا ذکر دی وائر نے بھی کیا۔

بھارتی طیارے اگر بم باقاعدہ فائر کرتے تو لیزر گائیڈڈ ہونے اور آپٹیکل سینسرز کی موجودگی نے وہ ضرور ہدف پر لگتے۔ تاہم بم فائر کرنے اور پے لوڈ jettison کرنے میں تکنیکی طور پر بہت فرق ہوتا ہے۔

بھارتی طیاروں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے عجلت میں پے لوڈ سے جان چڑائی اور اس پے لوڈ میں شامل یہ بم جنگل میں گرے۔

فوجی ترجمان کا منگل کو بریفنگ میں یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں کسی بھی مدرسے پر بمباری کرکے شہید طلبہ کو دہشت گرد قرار دینا چاہتا تھا۔

ملکی اور غیرملکی میڈیا کی رپورٹوں اور وفاقی وزیر شیخ رشید کے بیان سے سامنے آچکا ہے کہ جابہ ٹاپ پر جیش محمد کا کوئی تربیتی کیمپ تو نہیں ہے تاہم ایک مدرسہ موجود ہے جس کے بورڈ پر مولانا مسعود اظہر اور ان کے بہنوئی یوسف اظہر کے نام تحریر ہیں۔ یہ مدرسہ بھی بند ہوچکا ہے۔

تصاویر موجود ہونے کا دعویٰ

بالاکوٹ حملے میں عسکریت پسندوں کو مارنے کے دعوے کا پول کھلنے کے باوجود بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو شرمندگی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بالاکوٹ میں حملے سے درختوں کو نقصان پہنچا
بالاکوٹ میں حملے سے درختوں کو نقصان پہنچا

ٹائمز آف انڈیا نے کہاکہ بھارت کی ’دفاعی اسٹیبلشمنٹ‘ کا اب بھی دعویٰ ہے کہ جیش محمد کے تربیتی مرکز کو نقصان پہنچایا گیا اور اس کا ثبوت سینتھیٹک اپرچر ریڈار (سار) سے بنی تصاویر ہیں۔ واضح رہے کہ سار تصاویر ریڈار سے ملنے والی معلومات کی بنا پر تیار کی جاتی ہیں۔ ریڈار سے نظر آنے والے تین جہتی مناطر کو دو جہتی تصویر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

بھارتی اخبار نے یہ بھی لکھا کہ حملے میں استعمال ہونے والے میراج 2000 طیاروں پر ایسے کیمرے نہیں ہوتے جو بادلوں کے پار سے سار تصاویر بنا سکیں اور صبح سے پہلے ہونے والے حملے کے وقت آسمان پر بادل تھے۔ البتہ میراج طیاروں کے ساتھ دفاع کے لیے جانے والے سخوئی 30 طیاروں پر سار کیمرے موجود تھے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دفاعی اسٹیبشلمنٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ثبوت بھارتی حکومت کے حوالے کردیئے ہیں اور اب حکومت پر ہے کہ وہ انہیں جاری کرتی ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی فضائی کے ایئر وائس مارشل آر جی کے کپور نے جمعرات کو کہا تھا کہ بالاکوٹ میں ہلاکتوں کی تعداد کی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

بالاکوٹ میں درخت گرانے پر بھارت کیخلاف پاکستان اقوام متحدہ جائے گا

منگل کو حملے کے چند گھنٹے کے اندر ہی مقامی لوگ اور صحافی موقع پر پہنچ گئے تھے جب کے اس کے اگلے روز غیرملکی صحافیوں نے بھی وہاں کا دورہ کیا۔ تاہم کسی نے بھی حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہونے کی اطلاع نہیں دی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.