حماس قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کا ٹاسک دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔فائل فوٹو
حماس قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کا ٹاسک دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔فائل فوٹو

’’حماس قیادت کو ٹھکانے کیلیے اسرائیل نے کمانڈ سیل قائم کردیا‘‘

علی مسعود اعظمی:
غزہ کو فتح کرنے اور تحریک آزادی فلسطین کو کچلنے کیلیے اسرائیلی افواج، انٹیلی جنس اور کابینہ سمیت پارلیمانی/ کنسیٹ کمیٹی نے مشترکہ فیصلہ کے تحت حماس کی اعلیٰ قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کا آپریشن بحال کردیا جس کیلیے باقاعدہ کمانڈ سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حماس کی قیادت کو ہر قیمت پر نشانہ بنانے کا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حماس کی ٹاپ لیڈر شپ لسٹ میں غزہ کے آئینی حکومتی سربراہ اسماعیل ہانیہ، حماس سیاسی پولٹ بیورو کے سربراہ خالد مشعل، سابق غزہ وزیر اعظم محمود الظہار، غزہ حماس کے سربراہ کمانڈر یحییٰ السنوار، پولیٹیکل بیورو کے ڈپٹی چیف موسی ابو مرذوق، حماس ملٹری کمانڈر محمد ضیاف سمیت 12 رہنما شامل ہیں۔

اسرائیلی سدرن کمانڈ کے عسکری سربراہ جنرل ایلائزر تولیڈانو جو اس وقت بھی غزہ پر کمانڈ کر رہے ہیں، نے کہا ہے کہ حماس قیادت کی ٹارگٹ کلنگ کا ٹاسک دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اولیں اور ترجیحی اہداف میں عزالدین القاسم بریگیڈ کے کمانڈر محمد ضیاف اور حماس غزہ کے ملٹری چیف یحییٰ السنوار ہیں، جن کو ٹریس اور ٹارگٹ کرنے کیلیے اسپیشل ٹیمیں مقرر اور ایجنٹس متعین کئے گئے ہیں۔

یہودی وزیر دفاع بینی گانتز کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ آپریشن میں حماس کی زیر زمین سرنگوں کو تلاش اور تباہ کرنے کیلئے امریکی حکومت کی جانب سے خاص آلات غزہ کی سرحدوں پر نصب کر دیئے گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق بدنام زمانہ اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے سابق سربراہ نے تسلیم کیا تھا کہ عزالدین القاسم بریگیڈ کے کمانڈر محمد ضیاف اسرائیل پر میزائلوں اور راکٹ باری کے مرکزی کردار ہیں۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو نے ایک نشری رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ یا کنیسٹ کے 20 اراکین نے کابینہ، انٹیلی جنس اور وزیر اعظم بن یامین یاہو سے قرارداد کی شکل میں مطالبہ کیا تھا کہ حماس کو ختم کرنے اور غزہ پر مکمل قبضہ ہی اسرائیل کی اصل کامیابی ہوگی۔ اس لیے دوست ممالک کی مشاورت سے فلسطینی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی ٹاپ قیادت اور بالخصوص غزہ کی پٹی میں حماس غزہ کے سربراہ یحییٰ السنوار اور حماس عسکری ونگ عزالدین القاسم بریگیڈ کے سربراہ محمد ضیاف کی ٹارگٹ کلنگ کا آپریشن بحال کیا جائے۔

یاد رہے کہ 2014ء میں بھی اسرائیلی قیادت نے حماس کی قیادت کو ختم کرنے کیلئے ملٹری، انٹیلی جنس آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ لیکن ایسے تمام حملے ناکام ہوئے تھے۔ عبرانی جریدے یدیعوت احرونوت نے لکھا ہے کہ اراکین کنیسٹ اور خارجہ و سیکیورٹی کمیٹی کے رکن موتی یوگیو نے ایک اشتعال انگیز بیان میں وزیر اعظم یاہو کو مخاطب کرکے مطالبہ کیا کہ حماس غزہ کے سربراہ یحییٰ السنوار اورعزالدین القاسم بریگیڈ کے آپریشنل کمانڈر محمد الضیاف طویل عرصے سے اسرائیل کی سلامتی کیلیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس لئے تمام حماس قیادت کو بالعموم اور یحییٰ السنوار اور ضیاف کو بالخصوص نشانہ بنانے کیلئے آپریشن منظور کیا جائے۔

اسرائیلی جریدے ہارٹز کے تجزیہ نگاروں کا بھی ماننا ہے کہ حماس کیخلاف جنگ فلسطینیوں کے نقصان کی صورت میں خود اسرائیل کا عالمی امیج خراب کر رہی ہے۔ اس لئے صرف حماس قیادت کو ٹارگٹ کیا جائے۔ کیونکہ یہ نہ صرف اسرائیل بلکہ غزہ کے بھی مفاد میں ہے۔ اسرائیلی رکن پارلیمنٹ موتی یوگیو نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو یحییٰ السنوار اور محمد الضیاف کو قتل کرنے کیلیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اسرائیلی انٹیلی جنس کے بہترین دماغوں کو حماس قیادت کو نشانہ بنانے کیلئے پلاننگ کا بلیو پرنٹ بنا کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس نے یحییٰ السنوار کو شہید کرنے کیلیے ٹھیک تین دن پہلے ایک کارروائی کی تھی۔ جس میں انٹیلی جنس کو ’’خبریوں‘‘ نے یقین دلایا تھا کہ رات کے کسی پہر السنوار لازمی گھر پر آئیں گے۔ لیکن سنوار مقررہ وقت سے پہلے ہی گھر آکر چلے گئے۔ فضائی حملوں میں السنوار تو بچ گئے۔ لیکن ان کا گھر میزائلوں سے مٹی کا ڈھیر بن گیا۔ صہیونیوں کو قلق ہے کہ گزشتہ جمعہ کو یحییٰ السنوار نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس اور افواج کی چڑھائی اور فلسطینی و عرب مسلمانوں پر تشدد کے بعد یہودیوں کو انتباہ کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں بد معاشی نہ روکی اور غزہ کی پٹی پر فوج کشی کی حماقت کی تو غزہ کو صہیونی ا فواج کا قبرستان بنا دیں گے۔ 2014ء کی نسبت آج ہماری طاقت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ ہم مسلسل چھ ماہ تک ہر پانچ منٹ کے بعد ایک میزائل اسرائیل پر پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ادھر جریدے یدیعوت احرونوت نے تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ کی پٹی پر حالیہ حملے میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کا پلڑا بھاری ہے۔ اگرچہ اسرائیلی انفینٹری، آرٹلری اور فضائیہ نے غزہ کی پٹی پر شدید ترین بمباری کرکے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ مگر اس کے باوجود جنگ میں حماس کا پلڑا بھاری ہے۔ حماس کے راکٹس اور میزائلوں کی برسات کو روکا نہیں جاسکا۔ جبکہ اعلان کے باوجود غزہ پر اسرائیلی مسلح افواج کی زمینی کارروائی یا آپریشن کو شروع بھی نہیں کیا جاسکا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی افواج کسی بھی سرکردہ حماس رہنما یا ملٹری سربراہ کو ہلاک نہیں کرسکی۔ اس کے مقابلے میں حماس نے اپنی حکمت عملی سے اسرائیلی عربوں کو اپنا ہم نوا بنا لیا۔ جبکہ حماس کے عزالدین القاسم بریگیڈ نے بیت المقدس کے اطراف، دار الحکومت تل ابیب، حیفا، اشدود، اشکیلیون سمیت درجن بھر شہروں میں زندگی کے معمولات کو یکسر معطل و مختل کردیا ہے۔ ایک ہی وقت میں چھ چھ شہروں پر میزائلوں اور راکٹ باری کرکے اسرائیل کے بن گوریان سمیت رامون ہوائی اڈوں پر مقامی و عالمی پروازیں معطل کردی ہیں۔

جریدے یدیعوت احرونوت کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تزویراتی طور پر حماس جو کچھ چاہتی تھی اسے حاصل ہوچکا۔ جبکہ غرب اردن اور القدس، غزہ، مغربی کنارے، راملہ، الخلیل سمیت پورے عرب خطہ اور پوری دنیا میں فلسطینیوں اور مسلمانوں کی نظر میں حماس کی مقبولیت اور بھی بڑھ چکی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ڈپٹی کمانڈر موسیٰ ابو مرزوق نے روسی میڈیا کو دیئے جانے والے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ یورپی یونین کے کئی ممالک نے حماس سے رابطہ کیا ہے کہ اسرائیل کیخلاف فوری طور پر ملٹری ایکشن اور میزائل و راکٹ باری کو روک دے لیکن جب تک اسرائیل مسجد اقصیٰ میں عمل دخل اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر ترک نہیں کرتا، شیخ جراح بستی کے فلسطینی مکینوں کی بے دخلی نہیں روکتا اور فلسطینیوں کیخلاف تشدد آمیزکارروائیاں نہیں بند کرتا۔ اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ پائیدار امن کی گفتگو لایعنی ہوگی۔