پاکستان اورافغان طالبان نے کمیشن کے قیام سے متعلق کسی قسم کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔فائل فوٹو
پاکستان اورافغان طالبان نے کمیشن کے قیام سے متعلق کسی قسم کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔فائل فوٹو

یورپ نے طالبان کی طاقت کو تسلیم کرلیا

محمد قاسم:
یورپی یونین نے افغان طالبان کی طاقت کو تسلیم کرلیا۔ قطر میں یورپی یونین نے طالبان رہنمائوں سے مذاکرات کرکے اپنے سفارتکاروں، این جی اوزکے اہلکاروں سمیت ماہرین کی سیکیورٹی طلب کی ہے۔ جس پر طالبان نے یورپی یونین کے وفد کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کرادی ہے۔ یورپی یونین کے وفد سے مذاکرات کو طالبان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب طالبان نے سرنڈر کرنے والے سینکڑوں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ان کے گھروں کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔ افغانستان میں طالبان کی فتوحات اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد یورپی یونین نے طالبان کے ساتھ اپنے سفارتکاروں، ماہرین اور این جی اوز کے اہلکاروں کی سیکیورٹی کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے۔ جو کامیاب رہے۔

افغان طالبان نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ یورپی یونین کے افغانستان کیلیے نمائندہ خصوصی ٹوماس نکلس نے قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے طویل ملاقات کی اور ان سے کہا کہ طالبان یورپ کے ساتھ غیر ملکی این جی اوز، سفارتی اہلکاروں اور فلاحی اداروں کی سکیورٹی کے حوالے سے مذاکرات کریں۔ جس پر طالبان نے یورپی یونین سے وابستہ سفارتی اہلکاروں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے یورپی یونین کے نمائندے کو کہا کہ این جی اوز کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ماہرین کی حفاظت طالبان کی ذمہ داری ہو گی۔ تاہم سفارتکار سفارتی ذمہ داری، این جی اوز کے اہلکار اپنی ذمہ داریوں اورغیر ملکی ماہرین جو یونیورسٹیوں میں پراجیکٹ پر کام کرتے ہیں، پراجیکٹ تک محدود رہیں۔ وہ طالبان یا حکومت کے کاموں میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی فریق کی طرف داری کریں گے۔ اس شرط پر طالبان ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لینے کیلیے تیار ہیں۔ اس پر یورپی یونین نے طالبان رہنمائوں کا شکریہ ادا کیا اور اس حوالے سے معاہدہ کرنے کی درخواست کی جس پر طالبان نے رضا مندی ظاہرکردی۔

ادھر یورپی یونین کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے بعد افغان حکومت نے یورپی یونین پر تنقید کی ہے کہ اس طرح سیکورٹی مانگنے سے بد دلی پیدا ہوگی اور یہ طالبان کو مزید طاقتور بنادے گی۔ دوسری جانب طالبان نے ہتھیار ڈالنے والے سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کو گھروں کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔ افغانستان کے شمالی صوبہ فاریاب کے شرین تگاب ضلع میں خود کو طالبان کے حوالے کرنے والے تین سو بیس سیکیورٹی اہلکاروں کو گھروں کو جانے کی اجازت دی گئی۔

طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ افغان سیکورٹی اہلکار بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ طالبان کے پاس اس وقت اتنے وسائل نہیں کہ ان تمام فوجیوں کو اپنے ساتھ ملاکر حکومت پر دھاوا بول دیں۔ لہذا جو فوجی اپنے گھر واپس جانا چاہتے ہیں انہیں واپسی کی اجازت ہے اور جو رضاکارانہ طور پر طالبان کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف لڑائی میں حصہ لینا چاہتے ہیں انہیں ساتھ رکھا جارہا ہے۔ افغان حکومت کے پاس اب کوئی اخلاقی جواز نہیں کہ وہ عوام پر حکومت کرے۔

طالبان بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں کابل انتظامیہ سے منسلک ملازمین خاص طور پر پولیس اور فوجیوں کی بڑی تعداد افغان طالبان میں شامل ہورہی ہے اور اپنے مراکز، کیمپ، بٹالین، تمام جنگی وسائل اور اسلحہ وغیرہ مجاہدین کے حوالے کر رہے ہیں۔ کابل انتظامیہ کی یہ اجتماعی تبدیلی کوئی اتفاق اور معمولی واقعہ نہیں۔ بلکہ کابل انتظامیہ سے وابستہ فوجی بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اشرف غنی کی رو بہ زوال انتظامیہ دفاع اور قربانی کے لائق نہیں۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ اس سے اپنی راہ کو الگ کیا جائے۔ درحقیقت اگر کوئی فوجی یا جنگجو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے وہ اقدار کے لیے ہوتا ہے۔ کوئی بھی مفت میں اپنی زندگی قربان نہیں کرتا۔ کابل انتظامیہ کا کوئی واضح ہدف ہے اور نہ ہی وہ کسی ایسے اقدار کی پابند ہے جو قربانی کا لائق ہو۔ کابل انتظامیہ کے حکام اور ایوان صدر کے حکمران طبقہ کو جان لینا چاہیے کہ اب عوام کو دھوکہ دینے کی خاطر جھوٹے نعروں اور وعدوں کا وقت گزر چکا ہے۔

حالیہ دنوں کے واقعات نے ثابت کردیا کہ اب کسی کو اس بدعنوان انتظامیہ پر اعتماد ہے اور نہ ہی اس کے دفاع اور بقا کے لئے لڑ رہا ہے۔ ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں کی یہ آگاہی اس لیے قابل ستائش ہے کہ اس طریقے سے جنگ کو طول پکڑنے سے روکا جا سکتا ہے۔ لازم ہے کہ وہ بیرونی جماعتیں بھی اس صورتحال کا بغور مطالعہ کریں جو تاحال افغانستان میں اپنی کٹھ پتلیوں کے بل بوتے پر جنگ کو طول دینے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ انہیں جاننا چاہیے کہ افغانوں کو جیسے بیرونی غاصبوں سے نفرت ہے۔ ویسے ہی ان کی جانب سے مسلط کردہ انتظامیہ کو بھی وہ تسلیم نہیں کرتے۔ ہوسکتا ہے ایوان صدر کے حکام اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مختلف دلائل بیان کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ افغان قوم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ افغانستان میں کٹھ پتلی انتظامیہ کی جگہ خودمختار اسلامی نظام قائم ہو۔ ایسی حکومت جو مذہبی اور قومی امنگوں کی ترجمان ہو اور جہاد کے اہداف کی محافظ ہو۔ امید ہے کہ اسلامی نظام کے قیام کے ہدف تک پہنچنے کیلیے تمام افغان متحد ہوکر اپنی اپنی ذمے داریاں ادا کریں گے۔