’’یونس میمن 9 برس سے 4 صوبائی محکموں کو پٹے پر چلارہا تھا‘‘

امت تحقیقاتی ٹیم:
پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کے فرنٹ میں یونس میمن کی جانب سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا پٹہ سسٹم سابق ڈی جی ایس بی سی اے آغا مقصود عباس کو دینا مہنگا پڑ گیا۔ کیونکہ آغا کی وجہ سے یونس قدوائی عرف یونس میمن کا نام کرپشن کی دنیا میں ہر طرف گونج اٹھا۔ حالانکہ یونس میمن 2014ء میں اویس مظفر ٹپی کے بیرون ملک فرارکے بعد سے صوبہ سندھ کے 4 محکموں کو پٹہ سسٹم کے تحت چلا رہا تھا۔ اس دوران اس کا نام کبھی منظرعام پر نہیں آیا۔ آغا مقصود عباس کو ایس بی سی اے کا پٹہ سسٹم دینے کے بعد آغا مقصود عباس اوراس کی ٹیم کھلے عام یونس میمن کا نام لینے لگی۔ جس کے بعد یونس میمن کا نام چند ماہ میں ہی بلڈر مافیا کی زبان پر چڑھ گیا۔ آغا مقصود عباس کی غلط حکمت عملی کے سبب سندھ میں زرداری سسٹم کو بڑا دھچکا لگا جس کے بعد زرداری نے علی حسن زرداری کو ایس بی سی اے کے معاملات سپرد کرنے پرغور شروع کر دیا ہے۔

دوسری طرف آغا مقصود عباس، یونس میمن کے ساتھ سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کو بھی بدنام کر رہا ہے۔ انہیں یونس میمن سسٹم کا حصہ قرار دے کر ناصر حسین شاہ کے نام پر بلڈر مافیا کو ہراساں کر رہا ہے۔ آغا مقصود عباس نے گلستان جوہر کی 67 کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات میں ناصر حسین شاہ کا نام استعمال کیا ہے۔ جبکہ لیاری ٹائون اور گلشن اقبال ٹائون II میں بھی ناصر حسین شاہ کے نام پر غیر قانونی ہائی رائیز (کثیرالمنزلہ) عمارتیں بنانے والے بلڈروں سے عاصم خان کے ذریعے کروڑوں روپے بھتہ وصول کیا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں یونس میمن کے پٹہ سسٹم کی گونج نے سندھ سرکار کو نئی مشکلات میں ڈال دیا۔ سندھ سرکار سات سال سے یونس میمن عرف یونس قدوائی عرف یونس سیٹھ کے ذریعے سندھ میں زمینوں کے معاملات کا جو نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ وہ نیٹ ورک آغا مقصود عباس کی غلط حکمت عملی کے باعث بے نقاب ہو گیا۔ گزشتہ سات برسوں میں بلڈرز یونس میمن عرف یونس سیٹھ کا نام اگر جانتے بھی تھے تو اس کا نام لینے سے اجتناب کرتے تھے۔ یونس میمن کے سسٹم سے غیر قانونی کام کرانے والے اپنا کام نکالنے کے لیے یونس میمن کے سسٹم کے مخصوص لوگوں سے رابطہ کرتے تھے۔ کے ڈی اے ہو یا ایم ڈے یا پھر محکمہ ریونیو۔ ہر محکمہ میں ہی یونس سیٹھ کے فرنٹ مین اپنے کارندوں کے ذریعے پٹہ سسٹم چلا رہے تھے۔ لیکن کوئی ان محکموں میں یونس سسٹم کا نام نہیں لیتا تھا۔ کے ڈی اے میں جب نیب نے بعض سرکاری افسران کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس وقت بھی یونس سیٹھ کے نام کو کے ڈی اے کے سرکاری افسران نے خفیہ رکھا اور سارا ملبہ چائنا کٹنگ سسٹم کے نام پر ڈالا گیا۔ اگر تحقیقات کی جائیں تو انکشاف ہو گا کہ کے ڈی اے، ایل ڈی اے اور محکمہ لینڈ یوٹیلائزیشن سے یونس سیٹھ کو اربوں روپے پٹہ سسٹم کے نام پر وصول کر کے دیے گئے ہیں۔ مذکورہ محکموں میں ٹرانسفر پوسٹنگ سے لے کر ہر طرح کے معاملات یونس سیٹھ ہی کنٹرول کرتا آیا ہے۔ یونس سیٹھ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اویس مظفر ٹپی سے بھی زیادہ بااثر ہے۔ اس نے اپنے سسٹم کا جال اس طرح پھیلایا ہوا تھا کہ اس کے پٹہ سسٹم کے معاملات اس کی جانب سے منتخب کیے گئے لوگ ہی دیکھتے تھے اور انہی کا نام فرنٹ پر چلتا تھا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا سیٹ اپ جب منظور قادر کاکا کی مشاورت سے یونس میمن عرف یونس سیٹھ کے پاس آیا تو اس نے سابق ڈی جی ایس بی سی اے آغا مقصود عباس کو اپنا فرنٹ مین مقرر کیا۔ آغا مقصود عباس لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ایس بی سی اے میں تعیناتی کے دوران منظور قادر کاکا کا سیٹ اپ چلا چکا تھا اور کرپشن کرنے میں ماہر سمجھا جاتا تھا۔ اسی سبب منظور قادر کاکا نے اس کی سفارش کی۔
’’امت‘‘ کی تحقیقات کے مطابق آغا مقصود عباس 1980ء کی دہائی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں گریڈ 17 میں اسسٹنٹ کنٹرول بھرتی ہوا تھا۔ اس سے قبل وہ شاہراہ فیصل پر واقع ایک معروف کنسٹرکشن کمپنی میں کنسلٹنٹ تھا۔ آغا مقصود عباس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ لیکن اس کے اندر جائز اور ناجائز طریقے سے دولت کمانے اور اپنا نام بنانے کی بڑی خواہش تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایس بی سی اے میں تعیناتی کے بعد اس نے بعض افسران اور بلڈرز کی چاپلوسی کر کے ایس بی سے اے میں اپنا مقام حاصل کیا اور سندھ سرکار کے بعض وزیروں کے قریب ہو گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے عروج کے دور میں وہ متحدہ قیادت کے بھی قریب رہا۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ آغا مقصود عباس اپنے محکمے میں خوشامدی افسر مشہور تھا اور ہر غلط کام کو دھڑلے سے کرنے میں مہارت رکھتا تھا۔ ’’امت‘‘ کو معلوم ہوا ہے کہ اس کی یس سر پالیسی نے ہی اسے لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ڈی جی بنایا۔ جبکہ اس کی خواہش تھی کہ وہ ایس بی سی اے کا ڈی جی بنے۔ لیکن ایس بی سی اے میں اس کے ڈی جی بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ منظور قادر کاکا تھے۔ جو ایس بی سی اے میں براہ راست 18 گریڈ میں ملازم ہوئے تھے اور ان پر سندھ سرکار کی خصوصی کرم نوازی تھی۔ ایس بی سی اے میں رہتے ہوئے ہی آغا مقصود عباس، منظور قادر کاکا کی چاپلوسی کر کے ان کے قریب آگیا تھا اور جب منظور قادر کاکا ملک سے فرار ہوئے تو ان کی سفارش پر سندھ سرکار نے آغا مقصود عباس کو ایس بی سی اے کا ڈائریکٹر جنرل بنا دیا تھا۔ ڈی جی بننے کے بعد آغا مقصود عباس سابق ڈی جی منظور قادر کاکا سیٹ اپ کا فرنٹ مین بن گیا۔ یہی وجہ تھی کہ جب کینیڈا میں مقیم یونس میمن نے ایس بی سی اے کو پٹہ سسٹم پر لیا تو منظور قادر کاکا نے آغا مقصود عباس کو یونس میمن سیٹ اپ کا کنٹرول دلوایا۔

’’امت‘‘ کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آغا مقصود عباس کی غلط حکمت عملی سے یونس میمن کا نام کھل گیا ہے۔ ذریعے کے مطابق آغا مقصود عباس نے کراچی کے ایک بڑے بلڈر سے جب یونس میمن کے نام پر بھتہ طلب کیا تو یہ بھی کہا کہ اسے یہ رقم کینیڈا میں یونس میمن کو بھجوانی ہے۔ جس پر مذکورہ بلڈر نے سندھ کے ایک صوبائی وزیر تک رسائی کی اور ان سے درخواست کی کہ وہ یونس میمن سے ان کی جان چھڑائیں۔ اس پر مذکورہ وزیر نے اویس مظفر ٹپی کے ذریعے آصف زرداری کو پیغام بھی پہنچایا تھا۔ اس معاملے پر یونس میمن نے آغا مقصود عباس کی سرزنش کی اور کہا کہ ان کا نام اس طرح استعمال نہ کیا جائے۔ لیکن آغا مقصود عباس اپنی عادتوں سے باز نہ آیا۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ آغا مقصود عباس نے کراچی میں جو اپنا نیٹ ورک بنایا۔ ان تمام افسران کے سامنے یونس میمن کا نام لیا کہ اسے ایس بی سی اے کے پٹہ سسٹم سے حاصل ہونے والے پیسے یونس میمن کو دینے ہیں۔ جو آصف زرداری کے لیے کام کرتا ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یونس میمن کا نام لیے جانے کے بعد سندھ سرکار آغا مقصود عباس سے ناراض ہے۔ جس کے بعد آغا مقصود عباس نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ایس بی سی اے کے پٹہ سسٹم کا بھتہ سندھ کے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کو دیتا ہے۔ اس حوالے سے آغا مقصود عباس نے بعض نجی محفلوں میں دعویٰ کیا کہ اس کی ہر دوسرے دن صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ سے ڈیفنس میں ان کے بنگلے پر ملاقات ہوتی ہے اور وہاں سے ہی انہیں ہدایات مل رہی ہیں۔ نجی محفلوں میں آغا مقصود عباس نے یہ بھی بتایا کہ ناصر حسین شاہ اب اس کے مائی باپ ہیں۔

ذریعے کے مطابق یونس میمن کے پٹہ سسٹم کے دوران بھی آغا مقصود عباس نے ناصر حسین شاہ کا نام لے کر لیاری ٹائون، صدر ٹائون، گلستان جوہر اور گلشن II میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کرنے والے بلڈروں سے کروڑوں روپے بھتہ وصول کیا تھا۔ ’’امت‘‘ کی تحقیقات کے مطابق آغا مقصود عباس نے اپنے فرنٹ مین عاصم خان کو اس حوالے سے خصوصی ٹاسک دیا ہوا تھا۔ ذریعے نے بتایا ہے کہ سندھ میں یونس قدوائی عرف یونس میمن کا نام کھل کر منظر عام پر آنے کے بعد سندھ سرکار نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پٹہ سسٹم کے معاملات علی حسن زرداری کے سپرد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ مذکورہ پٹہ سسٹم عبدالغنی عرف اے جی کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ سندھ سرکار نے اگر ایس بی سی اے کا پٹہ سسٹم یونس میمن سے لے کر کسی اور کو دیا تو آغا مقصود عباس کو ایک بار پھر کھڈے لائن لگا دیا جائے گا۔
’’امت‘‘ کو ایس بی سی اے کے ذریعے نے بتایا کہ آغا مقصود عباس سے اس کے اپنے سسٹم کے لوگ بھی ناخوش ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ عاصم خان نے گلبرگ ٹائون کے پٹہ سسٹم کا کنٹرول اسسٹنٹ ڈائریکٹر کاشف سرمرو کو دلوایا تھا اور کاشف سومرو نے گلبرگ ٹائون سے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں سوا کروڑ روپے جمع کیے اور عاصم خان کے ساتھ جاکر بھتہ کے سوا کروڑ کی رقم آغا مقصود عباس کے حوالے کی۔ جس پر آغا مقصود عباس نے کاشف سومرو کو صرف 5 لاکھ روپے دے کر کہا کہ تم لوگ یہ رقم آپس میں بانٹ لو۔ اس پر کاشف سومرو دلبرداشتہ ہوا اور اس نے چھٹی کا بہانہ کر کے خود کو سسٹم سے الگ کر لیا۔ ذریعے کے مطابق سسٹم سے الگ ہوتے ہوتے بھی کاشف سومرو نے بعض بلڈرز سے 20 سے 25 لاکھ کی وصولی کی۔ جو اس نے آغا مقصود عباس کے سسٹم کو نہیں دی۔ اس بات کا علم عاصم خان کو ہوا تو اس نے کاشف سومرو کے چھٹی پر چلے جانے کے بعد گلبرگ ٹائون کے بعض بلڈرز سے خود رابطہ کیا۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ عاصم خان گلبرگ کا پٹہ سسٹم اپنے ہی کسی کارندے کو دینے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ جبکہ کاشف سومرو کا حال دیکھتے ہوئے ایس بی سی اے کے بعد پیداگیر افسران آغا مقصود عباس اور عاصم خان کے سسٹم کا حصہ بننے سے کترا رہے ہیں۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ آغا مقصود عباس کے فرنٹ مین معطل سینئر بلڈنگ انسپکٹر عاصم خان کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ حیدرآباد کے ایک ذمہ دار کی سفارش پر ایس بی سی اے میں بھرتی ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب متحدہ اور پیپلزپارٹی کے درمیان مراسم اچھے تھے اور ایس بی سی اے میں سرکاری بھرتیوں کے لیے طے ہوا تھا کہ ایس بی سی اے میں بھرتیوں کا 60 فیصد کوٹہ پیپلزپارٹی کا ہو گا۔ جبکہ 40 فیصد کوٹے پر متحدہ قومی موومنٹ اپنے لوگ بھرتی کرائے گی۔ جس پر متحدہ نے حیدرآباد سے جو نام مانگے تھے، اس میں حیدرآباد سے متحدہ ذمہ دار نے عاصم خان کا نام دیا گیا تھا۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ آغا مقصود عباس کا فرنٹ مین عاصم خان کراچی میں 67 ایسی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں میں غیر قانونی تعمیرات کرا رہا ہے۔ جہاں ایس بی سی اے کا نقشہ معطل ہے۔ ان کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں میں کھلے عام رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات ہو رہی ہیں اور تمام ڈیلنگ عاصم خان خود کر رہا ہے۔

اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ جن کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں میں غیرقانونی تعمیرات کرائی جارہی ہیں۔ ان میں ابلاغ عامہ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، اے جی ایس ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، احسن آباد کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، المدینہ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، المنظر کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، الاحمد کوآپریٹنگ ہائوسنگ سوسائٹی، الفلاح کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، الغفار ناگوری کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، الہ آباد کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، الرضوان اے پی پی ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، اتبا کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، باغ یوسف کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، برلاس ہومز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، بھوپال ہومز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، بریانی گارڈن کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، بریانی ٹائون کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، چیپل کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، چیپل لگژری ولا I، II، III کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، ایوی کیو ٹرسٹ پراپرٹی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، فردوس کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، گلستان زریں کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، گلستان بلال کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، گلشن جیون کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، گلشن قدوس کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، گلشن شیراز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، گلشن سرجانی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، گلشن توفیق کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، حمیر ٹائون کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، جمعیت پنجابی سوداگران کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، جاویداں کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، کریم ٹائون (گلشن الٰہی) کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، خیابان محمد کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، مرینہ گارڈن کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، میری لینڈ (گارڈن سٹی) کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، منسمار (ہیون پرائیڈ) کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، ماڈرن ڈبلیو پرلز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، مومن آباد فیز II کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، مسلمانان پنجاب کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پاکستان ایئر کریو کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پاکستان براڈ کاسٹنگ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پاکستان اسٹیل کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پرل ولاز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پی آئی اے ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پی آئی ڈی سی ملٹی پریس کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پی ایس سٹی فیز I اور II کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، قریشی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، کوئٹہ ٹائون کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، رفیع پرائیڈ II کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، رب راضی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، رکن الدین خان کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، سعید آباد کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، سفاری ایسوسی ایٹ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، سعود آباد کالونی ٹرسٹ کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، شاہ ولایت کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، شاہ میر ریزیڈنسی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، شیروانی رائل کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، سندھ پروونشل کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، سلطان آباد کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، ٹیلی وژن کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، وی الفلاح کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، وی جنرل کنسٹرکشن کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، وی پاک کنسٹرکشن کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی اور وی سائوتھ کنسٹرکشن کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی شامل ہیں۔

’’امت‘‘ کی تحقیقات کے مطابق آغا مقصود عباس نے ضلع جنوبی کا سارا کنٹرول گریڈ 19 کے ڈائریکٹر منیر بھنبھرو کو دیا ہوا ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ منیر بھنبھرو کی جانب سے سارے معاملات کو ایس بی سی اے کا سینئر بلڈنگ انسپکٹر ظفر سپاری کنٹرول کر رہا ہے۔ ظفر سپاری بظاہر سرکاری افسر ہے۔ لیکن اس نے اپنی تعیناتی کے بعد سے خود کو غیر قانونی تعمیرات کرانے والے سسٹم سے جوڑ رکھا ہے۔ ظفر سپاری ہر دور میں سسٹم کا حصہ رہا ہے اور اس بار اس نے عاصم خان کے ذریعے صدر ٹائون کے علاقے کا انتخاب کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ لیاری،کھارادر، رنچھوڑ لین، رتن تلائو، بولٹن مارکیٹ اور گارڈن میں ہونے والی تمام غیرقانونی تعمیراتی سسٹم ظفر سپاری کے پاس ہے۔ ظفر سپاری عاصم خان کا قریبی ساتھی ہے اور ماضی میں جمشید ٹائون میں عاصم خان کے ساتھ سرگرم رہا ہے۔

’’امت‘‘ کو معلوم ہوا ہے کہ لیاری میں غیرقانونی تعمیرات کرنے والے بلڈرز سے یونس میمن سسٹم کے نام پر کروڑوں روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ لیاری میں آغا کا سسٹم ناصر حسین شاہ کا نام استعمال کر رہا ہے۔ بہار کالونی میں 53 غیرقانونی تعمیرات کرنے والے بلڈرز سے صوبائی وزیر بلدیات کے نام پر بھتہ وصولی کی گئی۔ مذکورہ بھتہ ظفر سپاری کے ذریعے لیا گیا ہے۔ بہار کالونی میں جو غیرقانونی تعمیرات ہورہی ہیں۔ ان میں پلاٹ نمبر 257، 256 بی روڈ اسٹریٹ 5 پر رہائشی پلاٹ پر نیچے دکانیں اور اوپر غیرقانونی فلیٹ بنائے جارہے ہیں۔ پلاٹ نمبر 88 اے روڈ اسٹریٹ 1، پلاٹ نمبر 92 اے روڈ اسٹریٹ 1، پلاٹ نمبر 159، سی روڈ اسٹریٹ 2، پلاٹ نمبر 186 مسجد روڈ، پلاٹ نمبر 594 بی روڈ اسٹریٹ 14 بہار کالونی۔ پلاٹ نمبر 971 بی روڈ اسٹریٹ، 18 پلاٹ نمبر 963 ڈی روڈ اسٹریٹ 19، پلاٹ نمبر 674 ای روڈ اسٹریٹ 15 بہار کالونی، پلاٹ نمبر 829/A اسٹریٹ 17 بہار کالونی، پلاٹ نمبر 834 اسٹریٹ 17 بہار کالونی، پلاٹ نمبر 350/B اسٹریٹ 8 بہار کالونی، پلاٹ نمبر 751 مسجد روڈ اسٹریٹ 15 بہار کالونی، پلاٹ نمبر 350/B اسٹریٹ روڈ بہار کالونی، پلاٹ نمبر 158 اسٹریٹ 2 مسجد روڈ، پلاٹ نمبر 971 بی روڈ اسٹریٹ 16 بہار کالونی اور دیگر شامل ہیں۔ اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ کھارادر اور میٹھادر میں بھی بلڈر مافیا کی جانب سے ایس بی سی اے کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے غیرقانونی تعمیرات کی جارہی ہیں۔ جن سے ایس بی سی اے کا پٹہ سسٹم بھاری رقوم وصول کر رہا ہے۔

’’امت‘‘ کی تحقیقات کے مطابق ضلع شرقی کا سارا کنٹرول ڈائریکٹر محمد ضیا کے پاس ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر ضیا کو آغا مقصود عباس کی سفارش پر ضلع شرقی میں میں تعینات کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈائریکٹر محمد ضیا نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر حزب اللہ کو اسکیم 33 کی ذمے داریاں دے رکھی ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر حزب اللہ ماضی میں بھی ایس بی سی اے کے سسٹم کا حصہ رہ چکا ہے اور اس کی اسکیم 33 میں بلڈر مافیا پر مضبوط گرفت ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر حزب اللہ گوالیار کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی میں بلڈر مافیا سے ساز باز کر کے 90 گز کے CM کیٹگری کے پلاٹوں پر چار منزلہ تعمیرات کرا رہا ہے۔ اس وقت گوالیار کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی میں 10 سے زائد غیرقانونی تعمیرات چل رہی ہیں۔ جہاں حزب اللہ بلڈرز سے وصولی کرکے عاصم خان کو دے رہا ہے۔ ’’امت‘‘ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، یونیورسٹی کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی، پیلی بھیت کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر حزب اللہ حال ہی میں پلاٹ نمبر سی ایم ون 18/A پیلی بھیت کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی میں 3 منزلہ غیرقانونی تعمیرات کرا رہا ہے۔ واضح رہے کہ سوسائٹیوں میں CM کیٹگری کے کمرشل پلاٹوں پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی گرائونڈ پلس ڈھائی کا نقشہ منظور کرتی ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ آغا مقصود کا فرنٹ مین عاصم خان حزب اللہ کے ذریعے بلڈروں سے خود ڈیل کر رہا ہے۔