ماسکو کی ارباط اسٹریٹ۔ طلسمِ ہوش ربا ۔۔۔ سفرنامہ روس۔۔ قسط نمر 2

سجاد عباسی 

جدید روس کیسا ہے؟ وہاں کے شہری کیا سوچتے ہیں؟ حکومت کس منزل کی جانب گامزن ہے؟ روسی میڈیا اور تھنک ٹینکس مستقبل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ جاننے نکلے ہیں ’’امت‘‘ کےگروپ ایڈیٹر سجاد عباسی۔ 2018 میں اسلام آباد سے ماسکو جانے والے میڈیا ڈیلی گیشن میں پاکستانی صحافت کے کئی بڑے نام شامل تھے۔ جنہوں نے روس کا ایکسرے اپنی اپنی تجربہ کار نگاہوں سے کیا۔ سجاد عباسی کا سفر نامہ اس سفر کی روداد ہی نہیں۔ جدید روس کی سوچ کا تجزیہ بھی ہے۔ (ادارہ)

ہوٹل کے کمرے میں سامان رکھنے ، شاور لینے اور لباس تبدیل کرنے کے بعد ہم بہ مشکل پاکستان میں اہل خانہ کو خیریت سے ماسکو آمد کی اطلاع ہی دے پائے تھے کہ گھڑی نے پونے پانچ بجا دیئے اور پانچ بجے لابی میں پہنچنے کا حکم تھا۔ سو پندرہ منٹ آرام کی کوشش کو حماقت تصو رکرتے ہوئے ہم چھٹی منزل سے نیچے چل دیئے، البتہ اس سے پہلے ہم نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے شہر کے چند مناظر موبائل کیمرے میں محفوظ کرلئے۔ ہوٹل کے سامنے واقع سڑک اتنی کشادہ تھی کہ اس پر رن وے کا گماں ہوتا تھا۔ یہ شہر کا مرکزی علاقہ ہے جہاں قطار اندر قطار خوبصورت اور قد آور عمارتیں ایستادہ ہیں۔ ان میں سے بعض قدیم اور فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔ بیشتر عمارتوں پر بورڈ بھی نصب ہیں مگر ’’ زبان یار من روسی‘‘ والی مشکل حائل تھی۔ اگلے سات روز روس میں قیام کے دوران ہماری آنکھیں انگریزی یا کسی اور زبان میں لکھی عبارت یا الفاظ تلاش ہی کرتی رہیں مگر وائے حسرت۔


در اصل روسیوں کا قومی مزاج ہے کہ وہ اپنی زبان۔ ثقافت اور تاریخ کو بے حد عزیز رکھتے ہیں او راس پر فخر بھی کرتے ہیں- انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ باہر سے آنے والا روسی زبان میں لکھے گئے سائن بورڈ پڑھ پائے گا یا نہیں۔ کسی کو ان کے بارے میں جاننے کا زیادہ شوق ہے تو وہ روسی سیکھ لے۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ روسیوں کو انگریزی نہیں آتی -اس کا اندازہ ہمیں اگلے دو تین روز میں مختلف میڈیا گروپس کے سرکردہ افراد سے ملاقاتوں میں ہوا جہاں بطور مترجم وفد کے ساتھ جانے والی پاکستانی سفارت خانے کی روسی افسر ماریہ ” ٹک ٹک دیدم ” کی تصویر بنی رہی اور روسی حضرات فر فر انگریزی بولتے رہے۔ مگر ذاتی زندگی میں حرام شے کو حلال تصور کرنے والے روسی انگریزی کو ’’حرام‘‘ ہی سمجھتے ہیں۔ آپ کسی روسی سے انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ’’ نیزنا‘‘ کہہ کر گزر جائے گا۔ یعنی’’ مجھے نہیں معلوم‘‘ یا پھر نفی میں گردن ہلا دے گا۔ البتہ ہوٹل کا عملہ انگریزی بولنے میں تامّل سے کام نہیں لیتا کیونکہ ’’گلشن کا کاروبار‘‘ بھی چلانا ہے۔ چنانچہ آتے جاتے آپ کو گڈ مارننگ۔ گڈ ایوننگ وغیرہ کے الفاظ دلنشیں مسکراہٹ کے ساتھ سنائی دیتے ہیں۔

ارباط اسٹریٹ پر لائیو پینٹنگ کا منظر

ہمیں ارباط اسٹریٹ جانا تھا جو ہوٹل سے نصف کلومیٹر کی دوری پر تھی سوپیدل ہی جانے کا طے ہوا۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ تقریباً ایک کلومیٹر طویل اس اسٹریٹ پر سائیکل سمیت ہر قسم کی گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہ اسٹریٹ صرف واک کرنے والوں کیلئے مخصوص ہے ،سو ارباط اسٹریٹ کے احترام میں وہاں پیدل جانا ضروری تھا۔ کوئی پندرہ منٹ بعد ہم ارباط اسٹریٹ پر تھے۔ اسٹریٹ کیا تھی ایک طلسم ہوش ربا تھا۔ بھاگتے دوڑتے خوش شکل۔ خوش لباس اور خوش مزاج انسانوں کا ایک دریا جو شام پانچ بجے سے رات بارہ ایک بجے تک رواں رہتا ہے۔ کم و بیش چار سو فٹ چوڑی اور ایک کلومیٹر طویل اس سڑک کے دونوں جانب ریستوران، دکانیں اور عمارتیں ہیں جبکہ دونوں طرف فٹ پاتھ پر میلے کا سماں رہتا ہے۔ کہیں اشیائے خورد و نوش او رگفٹ آئٹمز کے اسٹال لگے ہیں تو کہیں کوئی مداری تماشا لگائے بیٹھا ہے ،کہیں آرٹ کے دلدادہ لائیو پینٹنگز بنوا رہے ہیں تو کہیں نوجوان لڑکے لڑکیاں ٹولیوں کی شکل میں میوزک کی دھن پر رقص کر رہے ہیں۔کہیں کوئی منچلا ستار کے تاروں پر دھن بکھیر رہا ہے تو کہیں کوئی شوقیہ فنکار مائیکرو فون اٹھائے تقریر کئے جا رہا ہے، اس فکر سے بے نیاز کہ کوئی سن رہا ہے یا نہیں -یعنی ہر عمر کے افراد کی تسکین ذوق کا سامان موجود ہے مگر ان سب پر غالب وہ ہجوم ہے جو مسلسل چلے جا رہا ہے۔ ہنستے مسکراتے ، دمکتے چہروں کا ایک ہجوم بیکر اں، جو زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔ کہیں نوجوان جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے’’ شخصی آزادی‘‘ کا فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں تو کہیں بینچوں پر بیٹھے بزرگ ایک دوسرے کو سہارا دیئے ماضی کی حسین یادوں میں کھوئے ہوئے ہیں، یوں لگتا ہے کہ پورا ماسکو ہی شام کو اٹھ کر چہل قدمی کیلئے ارباط اسٹریٹ آ جاتا ہے۔ دراصل ارباط اسٹریٹ کی تاریخ ذبردست سماجی ہپس منظر رکھتی ہے۔یہاں کسی زمانے میں امیروں کے محلے ہوا کرتے تھے اور ان کے ساتھ غریبوں کے ٹھکانے بھی، یہاں تاجر بھی قیام کرتے تھے اور یہ شاعروں اور ادیبوں کا بھی مسکن ہوا کرتا تھا۔یہاں کی فضا میں موسیقی کے سر بھی بکھرتے تھے اور یہاں مصور رنگوں کی کہکشاں بھی بکھیرا کرتے تھے۔ سو آج کی ارباط اسٹریٹ بھی ان سارے رنگوں کا مجموعہ ہے جو روسیوں کے جواں ہمت اور زندہ دل ہونے کی گواہی دیتی ہے۔

حاضرین کی تعداد سے بے نیاز ایک فنکار

بات ہو رہی تھی ارباط اسٹریٹ کی رونقوں کی جہاں "بزرگ لڑکیاں” بھی خوب انجوائے کر رہی تھیں۔ ٹین ایجرز کی اسکیٹنگ تو پاکستان میں بھی معمول کی بات ہے( اوراس سے مصروف شاہراہوں کو بھی استثنیٰ نہیں) مگر وہاں پچاس- پچپن برس کی دادی اور نانی امّائیں بھی ای سکوٹی یا ہاور بورڈ پر سپر سانک کی رفتار سے زمینی پرواز کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس عمر میں ہمارے ہاں کوئی خاتون ایسی حرکت کربیٹھے تو یا تو کوئی ہڈی چٹخ جائے گی اور یا پھر اہل محلہ کے طعنے مار ڈالیں گے۔
ہم ارباط اسٹریٹ پر چلے جا رہے ہیں اور ہر طرف دلچسپ اور خوش کن مناظر بکھرے پڑے ہیں۔ درمیان میں ایک اسٹال پر غیر معمولی رش دیکھ کر ہم نے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ پرانی کتابوں کا اسٹال ہے۔ جس پر ہر عمر کے افراد موجود ہیں اور دھڑا دھڑ کتابیں خرید رہے ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی نے جس طرح ہماری نوجوان نسل کو’’ یرغمال ‘‘بنا لیا ہے ویسی صورت حال روس میں نہیں۔ وہاں کی نوجوان نسل اب بھی کسی حد تک کتاب سے جڑی ہوئی ہے۔

روس ایک زمانے میں عالمی سطح پر ادب کا گہوارہ رہا ہے۔ جہاں ٹالسٹائی، دوستو وسکی۔ الیگزینڈر پشکیئن(جسے روسی شیکسپئر بھی کہا جاتا ہے)۔ چیخو ف اور مکسیم گور کی جیسے سینکڑوں شہرہ آفاق ادیب اور شاعر پیدا ہوتے رہے ہیں جن کی تحریروں نے پوری دنیا کے ادب اور سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ روسی اپنے علمی اور ادبی ورثے کو اب بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ وطن واپسی سے پہلے ماسکو کے ریڈ اسکوائر کے سامنے واقع جس ڈاکٹر ڑواگو ریسٹورنٹ پر ہم نے ناشتہ کیا وہ عظیم روسی ادیب زان پا سٹرناک کے لازوال ناول ’’ڈاکٹر ژواگو ‘‘سے منسوب ہے، جس کے بعض کردار ہوٹل کے اندر مجسموں کی صورت موجود ہیں۔ اس طرح دریائے ماسکو کے کنارے واقع گورکی پارک عظیم روسی لکھاری اورناول نگار میگسم گور کی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ہمیں بتایا گیا کہ مرکزی اولڈ ارباط اسٹریٹ سے مختلف تاریخی گلیوں کو راستے جاتے ہیں جہاں کی ایک گلی میں "روسی شیکسپیئر ” الیگزینڈر پشکین کا گھر ہوا کرتا تھا،جسے اب میوزیم کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
ارباط اسٹریٹ پر واک کرتے ہوئے ہم نے اپنے ایک ساتھی سے پوچھا۔’’ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے ہاں پارکوں اور عوامی مقامات پر بھی مطمئن اورہشاش بشاش چہرے تلاش کرنے میں خاصی دقت ہوتی ہے مگر یہ روسی عجیب مخلوق ہیں۔ مست الست ،بے فکر ے لوگ‘‘۔ ہمارے گائیڈ جو چلتے ہوئے کن اکھیوں سے ہمیں دیکھ رہے تھے ان کے کان ہماری طرف متوجہ تھے ،بولے اس کا کریڈ ٹ پیوٹن حکومت کو جاتا ہے۔ جس نے اپنے عوام کو ہر قسم کی فکروں سے آزاد کر رکھا ہے۔ ملک کتنی بھی پابندیوں میں کیوں نہ جکڑا ہوا ہو اس کی پرچھائیں عوام پر نہیں پڑنے دی جاتی۔ ہر روسی شہری اگر دو نہیں تو ایک گھر کا مالک ضرور ہے اور یہ گھر حکومت کا فراہم کردہ ہے۔ صحت او رتعلیم مفت ہے ،یوٹیلٹی بلز برائے نام ہیں۔ فوڈ آئٹمز سستے ہیں۔ آپ فوڈ اسٹریٹ چلے جائیں تو 50روبل سے ایک ہزار تک جس قسم کا کھانا چاہیں کھا لیں۔ روسیوں کا پسندیدہ مشروب(واڈکا) پانی سے بھی سستا ہے۔ لے دے کر لباس رہ جاتا ہے جس پر خرچ کرنے کیلئے ہر روسی کے پاس خطیر رقم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کسی بھی شاپنگ سینٹر پر چلے جائیں آپ کو لگے گا سارا ماسکو یہیں آ گیا ہے۔ اور واقعی ماسکو کے دو شاپنگ سینٹرز پر ہمارا جانا ہوا اور دونوں جگہ کھّوے سے کھوا چھل رہا تھا، ان میں سے ایک تو ریڈ اسکوائر پر واقع’’ گم” شاپنگ مال تھا جسے انگریزی میں یونیورسل کہا جاسکتا ہے۔

گم شاپنگ سینٹر کا اندرونی منظر
یہ مال روسی اور اطالوی مہارت اور فن تعمیر کا شاہکار ہے جسے 1890 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی چھت بیضوی شکل میں شیشے کی بنی ہوئی ہے۔ راہداریوں میں قیمتی پتھر لگے ہوئے ہیں۔ شپنگ سینٹر دو حصوں میں تقسیم ہے اور دونوں حصے لوہے کے معلق پلوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان پلوں پر ریستوران اور کافی شاپس بنی ہیں جو نچلی منزل سے بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ گم کے نام سے سابق سویت یونین کے تمام بڑے شہروں میں ڈپارٹمینٹل اسٹورز قائم کیے گئے تھے جن میں سے متعدد اب آزاد ریاستوں میں ہیں تا ہم ان میں سب سے بڑا مال یہی ہے جو مشہور سیاحتی مرکز ریڈ اسکوائر کے سامنے واقع ہے۔
یہاں موجود اشیاء کے ’’ پرائس ٹیگ‘‘ تو ہم سب نے بڑی دلچسپی سے دیکھے مگر قیمتیں دیکھ کر کسی کو بھی خریداری کی ہمت نہ ہوئی البتہ ہمارے علاوہ سب لوگوں نے ’’ کیپی چینو‘‘ کافی مزے لے لے کر پی، پی تو ہم نے بھی لی مگر اس کی ہرچسکی کسی امتحان سے کم نہ تھی اوراس دوران ہمیں مسلسل پاکستان کی دودھ پتی کی یاد ستاتی رہی۔ روس میں قیام کے دوران چائے کا حصول ہمارے لئے مسلسل چیلنج بنا رہا ۔ گرم پانی میں ٹی بیگ اور دودھ ملا کر چائے سے ملتا جلتا جو محلول ہم تیار کرتے تھے وہ ٹیبل پر آنے تک ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ البتہ کافی سے ملتی جلتی ایک چیز ہمیں وہاں قیام کے ساتویں روز کچھ سمجھ میں آئی جسے’’ کا کائو‘‘ کہا جاتا ہے مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
ہمیں بتایا گیا کہ ہوٹل کے قریب واقع یورو شاپنگ مال پر کھڑکی توڑ قسم کی سیل لگی ہے کیونکہ سمر سیزن(گرمی) جا رہا ہے۔ ہمیں ذاتی استعمال کیلئے ایک دو ٹی شرٹس لینا تھیں سو ہم فہد حسین اور حافظ طارق محمود کے ساتھ یورو مال جا پہنچے مگر بعد از خرابی بسیار ایک آدھ پرفیوم کے سوا کچھ بھی خرید نے میں کامیابی نہیں ہوئی۔سبب اس کا یہ تھا کہ کراچی کی ذینب مارکیٹ پر تین سے پانچ سو روپے تک ملنے والی ٹی شرٹ کی’’ رعایتی قیمت ‘‘تین سے ساڑھے تین ہزار یعنی چھ ساڑھے چھ ہزار پاکستانی تھی۔ مگر ٹیگ دیکھ کر شاپنگ نہ کر پانے کا ملال جاتا رہا کیونکہ بیشتر شرٹس اور جینز پر ’’میڈ ان پاکستان‘‘ لکھا تھا۔ یہاں خواتین کی بہت بڑی تعداد کی موجودگی کے حوالے سے بتایا گیا کہ روسی خواتین شاپنگ کی رسیا ہیں۔ اپنی آمدنی کا نوے فیصد شاپنگ پر خرچ کر دیتی ہیں۔یہ خواتین مہنگے ترین برانڈز کا چلتا پھرتا اشتہار ہوتی ہیں، مگر خوش سلیقہ اور خوش لباس۔ روسی مرد بھی کپڑوں، جوتوں اور جیکٹس پر بے تحاشا خرچ کرتے ہیں۔یہ صاف ستھرے اور اسمارٹ لوگ ہیں مگر کثرت شراب نوشی ان میں سے بہت سوں کی صلاحیتوں کو متاثر کر دیتی ہے۔
(جاری ہے)