جب ہمار سبزی اچھے سے کٹے گی تو پھر دشمنوں کے منہ اور سر بھی اچھے سے کٹیںگے۔ بھارتی انتہا پسند خاتون پریا سنگھ ٹھاکر کی نفرت بھری تقریر کی ویڈیو وائرل
نئی دہلی : مسلمانوں کیخلاف چاقو تیز رکھو، بھارتی انتہاپسند خاتون رہنما کی نفرت انگیز تقریر کی (ویڈیو) وائرل۔تفصیلات کے مطابق بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بھوپال کی رکن پارلیمنٹ پرگیا سنگھ ٹھاکر نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دے کر ایک بار پھر میڈیا میں توجہ حاصل کر لی ہے۔
اتوار کو کرناٹک میں ایک جلسے میں انھوں نے تقریر میں کہا ’اپنے گھر میں ہتھیار رکھو، اور کچھ نہیں تو اپنے گھر میں سبزیاں کاٹنے والے چاقو ہی تیز رکھو۔‘
Terror case-accused @BJP4India MP from Bhopal Pragya Singh Thakur calls for killing of Muslims during her speech in Karnataka on Sunday during Hindu Jagarana Vedike's event. "Keep weapons at home. Keep them sharp. If veggies can be cut well, so can the enemy's head," she says. pic.twitter.com/AoDgOpNbXv
— Anusha Ravi Sood (@anusharavi10) December 26, 2022
لو جہاد کرنے والوں کو لو جہاد جیسا جواب دو۔ اپنی لڑکیوں کو محفوظ رکھو
تقریر میں پرگیا سنگھ نے مسلمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’لَو جہاد کرنے والوں کو لَو جہاد جیسا جواب دو۔ اپنی لڑکیوں کو محفوظ رکھو۔‘
واضح رہے کہ بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتوں کے حامیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر ان سے شادی کر لیتے ہیں اور ان سے جبری طور پر مذہب تبدیل کرواتے ہیں اور اسی کو انھوں نے ’لَو جہاد‘ کا نام دیا ہے۔
مسلمانوں کیخلاف چاقو تیز
پرگیا سنگھ نے مزید کہا کہ ’ہمارے گھروں میں بھی سبزی کاٹنے کے لیے ہتھیار تیز ہونا چاہیے، جب ہماری سبزی اچھے سے کٹے گی تو پھر دشمنوں کے منہ اور سر بھی اچھے سے کٹیں گے۔‘
A country where Umar Khalid rots in jail and Pragya Thakur is free to make speeches has no hope.
— Parth MN (@parthpunter) December 26, 2022
بھارت میں بھی سوشل میڈیا پر صارفین کی تنقید
پرگیا سنگھ ٹھاکر کی تقریر کے بعد خود بھارت میں بھی سوشل میڈیا پر صارفین ان پر تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک انڈین صحافی نے لکھا کہ ’ایسا ملک جہاں عمر خالد جیل میں سڑ رہا ہو اور پرگیا ٹھاکر تقاریر کے لیے آزاد ہو وہاں کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔‘ عمر خالد نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور بغاوت کے مقدمے میں جیل میں بند ہیں۔
ایک اور میڈیا پرسن سمنتھ رامن نے لکھا کہ ’یہ تشدد پر اکسانے کی واضح کال ہے، قانون کے مطابق ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔‘