ماسکو میں پاکستانی

ماسکو میں مقیم سیکڑوں پاکستانی ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں

جدید روس کیسا ہے؟ وہاں کے شہری کیا سوچتے ہیں؟ حکومت کس منزل کی جانب گامزن ہے؟ روسی میڈیا اور تھنک ٹینکس مستقبل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ جاننے نکلے ہیں ’’امت‘‘ کےگروپ ایڈیٹر سجاد عباسی۔ 2018 میں اسلام آباد سے ماسکو جانے والے میڈیا ڈیلی گیشن میں پاکستانی صحافت کے کئی بڑے نام شامل تھے۔ جنہوں نے روس کا ایکسرے اپنی اپنی تجربہ کار نگاہوں سے کیا۔ سجاد عباسی کا سفر نامہ اس سفر کی روداد ہی نہیں۔ جدید روس کی سوچ کا تجزیہ بھی ہے۔ (ادارہ)

 

سجاد عباسی

ہماری اگلی منزل اولڈ ارباط اسٹریٹ کے کونے پر واقع ایک ریسٹورنٹ تھا۔ جہاں پاکستان کمیونٹی کے کوئی دو درجن کے قریب معززین وفد کے منتظر تھے۔ ہم آپس میں گپ شپ کرتے ٹہلتے ہوئے چل پڑے ۔ ہم نے نوٹ کیا کہ وہاں پیدل چلنا لوگوں کا محبوب مشغلہ ہے ۔ دفتر جانے، میٹرو ٹرین پکڑنے یا کسی ریسٹورنٹ پر کھانا کھانے کیلئے دو چار کلو میٹر کی واک ہنستے کھیلتے کرلی جاتی ہے ۔ جو ہم جیسوں کیلئے کسی مشقت سے کم نہیں اور پھر ہمارے ہاں تو موبائل ہاتھ میں لے کر چندفرلانگ کی واک بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ۔ مگر وہاں قانون کی عملداری کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بڑے بزرگ، خواتین اور بچے کسی بھی وقت کہیں بھی بے فکری سے جاسکتے ہیں۔

 

خیر یہ معاملہ تو تمام ترقی یافتہ ممالک کا ہے جن میں ہمارے برادر عرب ممالک بھی شامل ہیں۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ قانون کا احترام دیکھ کر جہاں دوسرے لوگوں پر رشک آتا ہے وہاں بطور پاکستانی اپنے وطن کا سوچ کر دل دُکھتا ہے ۔جہاں قانون اپنی پوری طاقت اور تمکنت کے ساتھ خود موجود ہو، وہاں اس کے محافظوں کی فوج بھی نظر نہیں آتی ۔ یہی وجہ ہے کہ روس میں  ایک ہفتہ قیام کے دوران ہم پولیس اہلکاروں کو ”باوردی درست“ حالت میں دیکھنے کو ترس گئے۔ البتہ ٹریفک پولیس کی گاڑیاں وقفے وقفے سے رواں دواں دکھائی دیتی رہیں مگر وہ بھی صرف گاڑیاں ۔ سگنلز پر شور مچاتے، وسل بجاتے یا چالان کاٹتے ٹریفک اہلکار کہیں دکھائی نہیں دئیے ۔ اس کی ضرورت اس لئے نہیں پڑتی کہ سب کچھ ٹھیک اور خود کار انداز میں ہورہا ہے ۔ یہاں پیدل چلنے والے لوگ، کار سواروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ سگنل پر ہر چند منٹ بعد راہگیر جمع ہو کر جلوس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ پیدل چلنے والوں کیلئے سبز بتی آن ہوتی ہے ۔ اور منظّم جلوس زیبرا کراسنگ پر چل پڑتا ہے ۔ اب تو کتوں اور بلیوں کی کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر عام ہیں ،جن میں وہ نہایت مہذبانہ طریقے سے بتی سبز ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور پھر سگنل آن ہوتے ہی "باوقار ” انداز سے ٹہلتے ہوئے سڑک پار کرتے ہیں۔

راہ گیروں کیلئے سبز بتی کے سرخ ہونے تک تیز رفتار کاریں یوں ساکت رہتی ہیں جیسے چلتے چلتے کسی نے روح نکال لی ہو۔ گویا کار سوار پیدل چلنے والوں کو پروٹوکول دے رہے ہوتے ہیں۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہم نے سگنل کا خیال کئے بغیر ”عادتاً“ سڑک پار کرنے کی کوشش کی تو بھی چلتی گاڑیاں رک گئیں ۔ خدالگتی یہ ہے کہ ایسے موقع پر وطن عزیز کی یاد اور زیادہ تڑپاتی ہے جہاں راہ گیروں کو سڑک پار  کرتے دیکھ کر کار سوار ایکسیلریٹر پر دباوٴ بڑھا دیتے ہیں۔ وہاں سڑکوں پر اوور ہیڈبرج موجود نہ ہونے کی وجہ سے ستر سالہ سنیاسی باواوٴں کے اشتہارات کی کمی بھی شدت سے محسوس ہوئی ۔

ماسکو کے مہنگے ترین علاقے میں پاکستان بزنس مین کا ریسٹورنٹ

ہمیں اولڈ ارباط اسٹریٹ پر تاج محل ریسٹورنٹ پہنچنا تھا ۔ماسکو کے مہنگے ترین علاقے میں یہ دو منزلہ خوبصورت ریسٹورنٹ ایک پاکستانی بزنس مین کا ہے ، یہ جان کر ہمارا سر فخر سے بلندہوگیا۔ ریسٹورنٹ کے درودیوار آرائش و زیبائش اور فرنیچر سمیت ہر چیز پر پاکستانیت کی چھاپ واضح تھی۔ جبکہ پاکستانی کھانوں کی مانوس خوشبو فرحت بخش احساس کودوچند کررہی تھی۔ کمیونٹی نے وفد کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کررکھا تھا جو اس لحاظ سے پر تکلّف تھا کہ روس جیسے ملک میں جہاں کھانے پینے کی ہر چیز میں وہ بدبخت جانور کسی نہ کسی بہانے سے در آتا ہے  جس کا بال ہمارے یہاں کسی کی آنکھ میں آجائے تو وہ بندے کو بندہ نہیں سمجھتا۔ سو ہمارے لئے اس سے بڑی عیاشی اور کیا ہوسکتی تھی کہ دیار غیر میں ایک ہم وطن کے ہوٹل میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ دیسی اور حلال کھانا نصیب ہو ۔ لہٰذا پچھلے 24 گھنٹے کی کسر نکالنے میں ہم نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔

پورے روس میں پاکستانیوں کی کل تعداد 1200 کے لگ بھگ ہے

اس دوران پاکستانی بھائیوں سے خوب گپ شپ بھی ہوئی ۔ ان میں سے زیادہ تر کاروبار سے منسلک تھے جن میں اسپورٹس،فوڈ آئٹمز، سرجیکلر اور ہوٹل انڈسٹری قابل ذکر ہے ۔ہمیں بتایا گیاکہ پورے روس میں پاکستانیوں کی کل تعداد 1200 کے لگ بھگ ہے جن میں سے پانچ سے چھ سو ماسکو میں سکونت پذیر ہیں۔ یہ سب لوگ وہاں ایک خاندان کی طرح اور ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ماسکو کا پاکستانی سفارت خانہ ان کیلئے ایک بائنڈنگ فورس ہے ۔ جہاں کا متحرک عملہ ان کے دکھ درد اور غمی و خوشی میں بھی شریک ہوتا ہے ۔ مذہبی اور قومی تہواروں پر سب لوگ ایک فیملی کی طرح جمع ہوتے ہیں۔ سفارت خانے اور کمیونٹی کا دوستانہ اور برادرانہ تعلق آج کی تقریب سے بھی عیاں ہورہا تھا ۔ جس میں قونصلر بلال وحید اور ان کے نائب اسرار احمد خان کے علاوہ ملٹری اتاشی بریگیڈئر عرفان بھی موجود تھے ۔ جبکہ تاج محل ہوٹل کے پروپرائیٹر عدنان بٹ پاکستانی کمیونٹی کے پریذیڈنٹ ملک شہباز ، وائس پریذیڈنٹ چوہدری زاہد خورشید، ڈاکٹر عقیل عباسی، ڈاکٹر ابرار، کاشف خان ، خلیل الرحمن، شاہنواز اور دیگر پاکستانی میزبانی کررہے تھے ۔

بعض پاکستانیوں نے کوہ قاف کی پریوں کو قابو کر لیا

روس کو اپنا مسکن بنانے والوں میں بڑی تعداد ان پاکستانیوں کی ہے جو 80 اور 90 کی دہائی میں تعلیم حاصل کرنے ماسکو گئے اور پھر وہیں کے ہورہے ۔ ان کی غالب اکثریت روسی حسیناوٴں کی زلفوں کی اسیر ہوئی ، یعنی ”ہم ہوئے آپ ہوئے کہ میر ہوئے ۔“ بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے کوہ قاف کی پریوں کو قابوکرلیا ،یا وہ خود پریوں کے قابو میں آگئے ،بہر حال چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر ، حال کی حقیقت یہی ہے کہ مذکورہ پریاں اب دو دو تین تین بچوں کی امّائیں اور ان کی اولادیں ” پاک روس دوستی“ کا استعارہ بن چکی ہیں۔

ایسا علاقہ جہاں بسنے والوں کا شمار دنیا کی حسین ترین مخلوق میں ہوتا ہے

کوہ قاف کو سسرال بنانے والے کم از کم دو پاکستانیوں سے ملاقات کا شرف ہمیں حاصل ہوا ۔ان میں سے ایک روس کے خوبصورت ترین ساحلی شہر سینٹ پیٹرز برگ کو مسکن بنا چکے ہیں ۔ وہاں قیام کے دوران کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کمیونٹی کے متحرک رکن آصف صدیقی نے ہمیں وہ علاقہ بھی دکھایا جہاں قفقاز یا کوہ قاف کے لوگوں سمیت سیاہ بالوں والے دیگر وسط ایشیائی باشندے بڑی تعداد میں رہتے ہیں، ان کا شمار دنیا کی حسین ترین مخلوق میں ہوتا ہے ۔کوہ قاف یا کوہ قفقاز بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کے درمیان خطہ قفقاز کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو ایشیا اور یورپ کو جدا کرتا ہے ۔ یہ علاقہ چیچنیا میں شمار ہوتا ہے۔ کوہ قاف کے شمالی دامن میں واقع 15 ہزار مربع کلو میٹر اور 10 لاکھ آبادی پر مشتمل جمہوریہ چیچنیا صدیوں سے روس سے نبرد آزما رہی ہے ۔ کوہ قاف کا یہ پوراعلاقہ سولہویں صدی سے صفوی ایران، سلطنت عثمانیہ اور  زار روس کے درمیان معرکوں کا مرکز رہا ہے ۔ لیکن چیچن عوام نے آزادی کی جنگ اس وقت شروع کی جب اٹھارہویں صدی میں عیسائی جارجیا نے ماسکو سے اتحاد کیا اور چیچنیا ایک طرف جنوب میں جارجیا اور شمال میں روس کے گھیرے میں آگیا ۔

پاکستان سے جانے والا کینو روس میں بہت مقبول ہے

خیر فی الوقت ہم کوہ قاف  سے اتر کر پاکستانی کمیونٹی کے استقبالیے میں واپس آتے ہیں جن کی آنکھیں اپنے ہم وطنوں کے لئے فرش راہ تھیں ۔ دیار غیر میں مقیم یہ پاکستانی بھی اپنے ملک کیلئے ہمیں اتنے ہی فکر مند دکھائی دئیے جس طرح دیگر ملکوں میں رہنے والے پاکستانی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بدلتے حالات میں پاک روس تعلقات کے فروغ پر بہت خوش بھی ہیں اور اس حوالے سے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کیلئے بے چین بھی۔ ان کے دل پاکستانی بہن بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ پاکستان کے مسائل کو اپنا ذاتی اور خاندانی مسئلہ تصور کرتے ہیں ۔ یہ پاکستانی روس کے ساتھ تجارت میں اضافے کیلئے بھی بے چین ہیں اور ان کے پاس مختلف تجاویز بھی ہیں جن پر عمل کر کے پاک روس تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے جس کا موجودہ حجم صرف 500 ملین یا 50 کروڑ ڈالر ہے ۔ کئی پاکستانی سیالکوٹ سے برآمد کئے جانے والے سرجیکل آئٹمز کا کاروبار کرتے ہیں، جبکہ سیالکوٹ ہی سے اسپورٹس کا سامان بھی وہاں درآمد کیا جاتا ہے مگر اس کاروبار کا حجم بہت تھوڑا ہے جسے حکومتی سطح پر اقدامات اور حوصلہافزائی  کے ذریعے بڑھایا جاسکتا ہے۔پاکستان سے جانے والا کینو روس میں بہت مقبول ہے مگر اس کو پہنچتے پہنچتے 20 سے 35 دن لگ جاتے ہیں۔

مسلمانوں کو روسی حکام سے مذہبی حوالے سے کوئی شکایت کم ہی ہوتی ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ روسی صدر پیوٹن روسیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمیونٹی میں بھی یکساں طور پر مقبول ہیں کیونکہ ان کے بقول امریکہ اور کئی مغربی یورپی ممالک کے برعکس یہاں رہنے والے غیر ملکیوں کو نہ تو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور نہ دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری کا سلوک روارکھا جاتا ہے۔ روسیوں کے حسن اخلاق کا اندازہ تو ہمیں بھی بڑی حد تک ہوگیا تھا مگر کسی غیر ملکی اور بالخصوص پاکستانی مسلمان کو کسی ”کافر ملک“ کی حکومت سے کوئی شکایت نہ ہو یہ بات کچھ ہضم نہیں ہورہی تھی۔ سو ہم نے اپنے میزبانوں میں سے ایک کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ۔” چوہدری صاحب ماسکو میں مساجد کتنی ہیں؟ داڑھی ، نماز کے حوالے سے امتیازی سلوک تو فطری سی بات ہے ۔ “ ہمارے سوال کے جواب میں چوہدری صاحب پہلے تو مسکرائے ، پھرٹھوڑی کھجاتے اور نظر کی عینک کے اوپر سے معنی خیز انداز میں ہماری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے ،ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ 16، 17 کروڑ آبادی کے روس میں دو کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں اور آرتھوڈوکس عیسائیت کے بعد اسلام روس کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ مگر مسلمانوں کو روسی حکام سے مذہبی حوالے سے کوئی شکایت کم ہی ہوتی ہے ، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ آبادی کے تناسب سے شاید مساجد کی تعداد کم ہو مگر یہ شکایت تو یورپ کے کئی ملکوں میں اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے بلکہ بعض اسلامی ملکوں میں بھی یہ مسئلہ موجود ہے ۔

یورپ کی سب سے بڑی مسجد ماسکو میں ہے

ماسکو میں جہاں 20 لاکھ مسلمان رہتے ہیں یورپ کی سب سے بڑی مسجد موجود ہے ، جس میں بیک وقت 10 ہزار افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ جمعہ کے روز تو اس کے صحن اور بیرونی احاطہ سمیت سڑک پر بھی10سے15 ہزار نمازی موجود ہوتے ہیں ۔ یہی صورتحال ماسکو کی کئی دیگر مساجد کی بھی ہے۔ یورپ کی اس سب سے بڑی مسجد کا افتتاح دو برس قبل خود صدر پیوٹن نے کیا تھا۔ افتتاحی تقریب میں ترک صدر طیب اردگان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی تھی ۔ مسجد کی تعمیر پر 17 کروڑ امریکی ڈالر لاگت آئی تھی جو روسی علماء کی تنظیم نے مختلف متمول شخصیات اور اداروں کے
تعاون سے جمع کی جبکہ قازقستان اور ترکی کی حکومتوں نے بھی مسجد کی تعمیر میں تعاون کیا تھا۔
یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ کمیونسٹ روس یا  سوویت یونین کے زمانے میں اسلام، داڑھی ،دینی کتب اور شعائر اسلام کے ساتھ بہت سفاکانہ سلوک کیا جاتا تھا اور کئی واقعات میں کسی مسلمان کو نماز پڑھتے دیکھنے کی صورت میں یا اس کے گھر سے قرآن کریم یا اس کے مقدس اوراق برآمد ہونے کی پر اسے بدترین جسمانی اذیت اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ کمیونسٹ روس کی تاریخ ایسی بدنما مثالوں سے بھری پڑی ہے مگر یہ سب کچھ اب قصہ پارینہ بن چکا ہے اور جدید روس میں مسلمانوں کو بڑی حد تک مذہبی آزادی حاصل ہے۔
پاکستانی بھائیوں کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا اور رات کے دو بج گئے۔اگلے روز وفد کی ملاقات روسی تھنک ٹینکس اور دیگر اہم شخصیات سے تھی، سو بھرپور نیند اور دماغ کا حاضر رہنا ازبس ضروری تھا  (جاری ہے)