ڈاکٹر لدمیلہ کی شُستہ اردو نے ہمیں حیران کردیا۔۔۔سفر روس کی روداد(4)

جدید روس کیسا ہے؟ وہاں کے شہری کیا سوچتے ہیں؟ حکومت کس منزل کی جانب گامزن ہے؟ روسی میڈیا اور تھنک ٹینکس مستقبل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ یہ جاننے نکلے ہیں ’’امت‘‘ کےگروپ ایڈیٹر سجاد عباسی۔ 2018 میں اسلام آباد سے ماسکو جانے والے میڈیا ڈیلی گیشن میں پاکستانی صحافت کے کئی بڑے نام شامل تھے۔ جنہوں نے روس کا ایکسرے اپنی اپنی تجربہ کار نگاہوں سے کیا۔ سجاد عباسی کا سفر نامہ اس سفر کی روداد ہی نہیں۔ جدید روس کی سوچ کا تجزیہ بھی ہے۔ (ادارہ)

 

سجاد عباسی

روسیوں کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ اپنے خول میں بند رہنے والے لوگ ہیں۔ماضی میں جینے والے پدرم سلطان بود کے "مرض” میں مبتلا خود پسند اور نرگسیت کا شکار لوگ، جنہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ باقی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔مگر اس دورے میں ہماری یہ غلط فہمی بڑی حد تک رفع ہو گئی۔ہوٹل سے ہمیں صبح گیارہ بجے ماسکو کے مرکزی علاقے میں واقع گندھارا ریسٹورنٹ پہنچایا گیا تھا۔

 

 

گندھارا ریسٹورنٹ کا بیرونی منظر

 گندھارا ریسٹورنٹ دنیا بھر سے روس آنے والے غیر ملکیوں میں لذیذ پاکستانی کھانوں کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے جبکہ روسی شہریوں کی بڑی تعداد بھی لذت کام ودہن کی خاطر یہاں کا رخ کرتی ہے۔دلنشیں عمارت میں قائم گندھارا ریسٹورنٹ نام کی مناسبت سے لکڑی کے مجسموں اور خوبصورت نقش و نگار سے مزین ہے۔ اس ریسٹورنٹ کے مالک پاکستانی بزنس مین شہزاد شیخ ہیں جو دیار غیر میں اپنے وطن کا تشخص اجاگر کرنے میں پیش پیش ہیں اور عملاً  پاکستان کے تجارتی سفیر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانے کے قونصلر ونگ نے روسی تھنک ٹینکس کے ساتھ میڈیا ڈیلی گیشن کی  ملاقات اور تبادلہ خیال کا اہتمام کیا تھا۔مہمانوں کے انتخاب اور حاضرین کی تعداد سے اندازہ ہو رہا تھا کہ قونصلربلال وحید اور ان کے معاونین اسرار احمد خان اور مجتبیٰ کی کئی ماہ کی محنت اس تقریب کے پیچھے کارفرما ہوگی۔

ان میں صحافت ،سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات سمیت مختلف شعبوں کے ماہرین اور صائب الرائے افراد شامل تھے جن کا علم ان کے ہر جملے سے عیاں ہو رہا تھا۔ پہلے سیشن میں دونوں طرف کے ارکان کو ایک دوسرے سے ذاتی تعارف اور تبادلہ خیال کا موقع دیا گیا۔کوئی چار سے چھ لوگوں کے ساتھ تو  ہمیں انفرادی طور پر تبادلہ خیال کا موقع ملا جبکہ کچھ سے ٖغیر رسمی  تعارف اور کارڈز کا تبادلہ ہوا۔تاہم بعد ازاں رسمی سیشن میں دیگر اہم شخصیات کی فکر انگیز گفتگو بھی سننے کو ملی  جبکہ  لنچ کے دوران بھی ہلکی پھلکی گپ  شپ ہوتی رہی۔

’’ان سے ملئے یہ ہیں۔   ڈاکٹر لد میلہ‘‘ ایک نامعلوم نوجوان خاتون نے ایک  بزرگ خاتون کو ہم” سے متعارف کرانا چاہامگرخود کسی اور آواز پر متوجہ ہوگئیں۔ہم نے بزرگ خاتون کا  مصافحے کے لیے بڑھا ہاتھ تھام لیا۔بوائے کٹ برائون بال ،گوری رنگت، شفیق چہرے پردلنشین  مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے ہمیں اپنے وطن میں خوش آمدید کہا۔ان کے لہجے میں گرم جوشی کے علاوہ ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ماڈرن پاکستانی خواتین جیسی شلوار قمیض زیب تن کئے ہوئے تھیں جو ہمارے خیال میں پاکستانی مہمانوں سے یکجہتی کی علامت تھی مگرجب گفتگو آگے بڑھی تو معاملہ اس سے بڑھ کر نکلا۔ ہم نے محسوس کیا کہ وہ خود انگریزی بولنے ہوئے اور ہماری ٹوٹی پھوٹی انگریزی سنتے ہوئے قدرے بے چینی محسوس کر رہی ہیں۔ہم اس حوالے سے پوچھنے کے لئے ابھی شش و پنج میں مبتلا ہی تھے کہ ہمیں نہایت شستہ اردو اور لکھنوی لہجے میں سوال سننے کو ملا۔’’مسٹر عباسی ایک بات بتائیے یہ ہمارے پاکستانی بھائی انگریزی کو اتنا سر پر کیوں بٹھاتے ہیں۔اور اردو بولتے ہوئے شرماتے کیوں ہیں یہ تو بڑی خوبصورت زبان ہے‘‘۔ہمیں لگا کسی نے گھڑوں پانی ہمارے سر پر ڈال دیا ہے۔مگر پھر ہم آئینہ دیکھتے ہی سنبھل گئے اور ڈاکٹر لدمیلہ کی شیریں گفتاری اور نستعلیق اردو کا لطف اٹھانے لگے۔

رشین اکیڈمی آف سائنسز میں مڈل ایسٹ اور پاکستان ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر نتالیہ

معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ ماسکو کی  رشین اکیڈمی آف سائنسز میں انسٹیٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کے شعبہ ادب میں لیڈنگ ریسرچ فیلو ہیں اورانہوں نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کر رکھا ہے۔پھر تو ان سے گپ شپ ایسی شروع ہوئی کہ جیسے بچھڑے ہوئے دو پاکستانی آ پس میں مل گئے ہوں اور باتیں ختم ہی نہ ہو رہی ہوں۔تب ہمیں اندازہ ہوا کہ زبان کتنی جلدی اجنبیت کی دیوار کو گرا دیتی ہے اور اس کی جگہ اپنائیت لے لیتی ہے۔ ہم نے پوچھا ڈاکٹر صاحبہ کیا آ پ پاکستان میں مقیم رہی ہیں؟بولیں جی ہاں کئی بار جانا ہوا مگر پانچ دن سے زیادہ وہاں نہیں رہی۔ان کی اردو دانی کے حوالے سے ہمارا تجسس کم نہہوا، سو  ہم نے اگلا سوال داغا ” پھرآپ یقینا انڈیا میں رہی ہون گی۔کہا جی ہاں  دور طالب علمی میں اردو کی محبت میں وہاں قیام رہا ،گئی تو ہندی پڑھنے کیلئے دہلی تھی مگر اردو کی کشش لکنئو کھینچھ کر لے گئی اور وہان کی یونیورسٹی میں پڑھتی رہی ،مگرپھر بعد میں صرف ایک بار کلکتہ میں 15دن کیلئے مقیم رہی ، ممبئی اور  دہلی سمیت تمام بڑے شہر گھومی، تاج محل بھی دو بار دیکھا۔جواب شافی تھامگرلیکن ہمارے سوال میں چھپا سوال بہرحال اپنی جگہ موجود تھا ہمارا مقصد یہ تھا کہ آپ نے  "اتنی ساری” اردو کیسے سیکھ لی ؟ڈاکٹر صاحبہ ہماری الجھن پر قہقہہ لگا کر بولیں۔طاہر ہےمیں نے اردو کو بطور مضمون اختیار کیا اور پھر زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھیں ۔غالب ،اقبال، فیض، فراز، اردو کے نثر نگار۔آپ نام لیں ،میں آپ کو تصنیفات بتاتی جاؤں  گی”

 ظاہر ہے انہوں نے اردو میں پی ایچ ڈی یوں ہی تو نہیں کررکھا تھا۔ڈاکٹر  لدمیلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کو قریب لانے کے لیے دونوں ملکوں کی قومی  زبانیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اس کے لیے دونوں ممالک کے شعبہ لسانیات کے ماہرین کا کردار اہم رہے گا۔انہیں شکوہ تھا کہ جنوبی ایشیا کے لوگ اپنی قومی و علاقائی زبانوں کو نظر انداز کر رہے ہیں جن میں اردو، پنجابی اور ہندیخاص طور پر قابل ذکر ہیں۔جبکہ  اس کے برعکس روسی  طلبہ و طالبات مذکورہ زبانیں سیکھنے میں مصروف ہیں۔مگر ان زبانوں کے وارث جب خود اپنی  زبانوں سے لاتعلق ہوتے جائیں گے تو دوسر ے ان سے کیا استفادہ کریں گے

۔ہماری گپ شپ کے دوران ہی  ایک اور باوقر بزرگ خاتوں ڈاکٹر نتالیہ نے بھی ہمیں جوائن کر لیا جو پی ایچ ڈی سکالر اور رشین اکیڈمی آف سائنسز میں مڈل ایسٹ  اور پاکستان ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ہیں۔ان سے گفتگو میں توایسا لگا کہ ہم پاکستانی  خود اپنی  سیاست اورتاریخ کے بارے میں اتنا کچھ نہیں جانتے۔ جتناکہ ڈاکٹر نتالیہ جانتی ہیں۔سیاست اور پاک روس تعلقات سے متعلق عمومی گفتگو کے دوران ان کے ایک سوال نے ہمیں چونکا دیا۔ "یہ مولانا فضل(الرحمٰن ) اپنے حلقے سے کیوں ہار گئے؟ (یہ 2018 کے انتخابات کے بعد کا ذکر ہے ) ۔ہمارے لیے یہ سوال ظاہر ہے قطعی غیر متوقع اور حیران کن تھا کہ ہمیں  صحافی ہوتے ہوئے ولادیمر پیوٹن کے علاوہ کسی روسی سیاستدان کا نام تک  نہیں آتا اور روسی خاتون ہمارے ایک نابغہ روزگار سیاسی  مذہبی رہنما کے بارے میں اس قدر فکرمند ہیں۔

سوپہلے تو ہم نے اس فضل کو مولانا فضل اللہ یعنی ٹی ٹی پی سے جوڑنے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی کے حوالے سے عالمی سطح پر’’ مشہور‘‘ ہے  مگر پھر اس احمقانہ سوال کو جھٹک دیا  کہ مولوی فضل اللہ کا الیکشن یا ہار جیت سے کیا تعلق؟اس دوران ڈاکٹر صاحبہ بھی ہماری مشکل  بھانپ چکی تھیں۔لہٰذا مزید وضاحت و صراحت کی خاطر انہوں نے کہا جے یوآئی والے فضل ۔ہم نے اپنی بساط کے مطابق مولانا کی شکست  کے اسباب پر روشنی ڈالی مگر ان کی آنکھوں میں الجھن برقرار رہی سو ہم نے جوابی سوال کردیا۔”آپ کے خیال میں مسٹر فضل کیوں ہارے؟ڈاکٹر صاحبہ قدرے توقف کے بعد بولیں۔میرا خیال ہے دو وجوہات ہیں۔ایک تو تبدیلی روایتی سیاستدانوں کو کھا رہی ہے۔دوسرا مولانا جیسے لوگوں کے پاس عوام کو دینے کے لئے کوئی پروگرام ہے نہیں ،جو کوئی کشش پیدا کر سکے‘‘۔ گویا انہوں نے دو جملوں میں دریا کو کوزے میں بند کر دیاتھا۔ہم یہ بتانا بھول گئے کہ اس دوران اردو دان ڈاکٹر لڈمیلا بھی گفتگو میں شریک رہیں البتہ انہی کی عمر کی ڈاکٹر نتالیہ اردو بولنے سے قاصر تھیں مگر پاکستان کے بارے میں ان کی معلومات غضب کی تھی۔ ہم نے محسوس کیا کہ وہ کم سے کم وقت میں پاکستان کے حالات حاضرہ سے زیادہ سے زیادہ آگاہ ہونا چاہتی ہیں اور ۔پاک روس تعلقات کے فروغ کے لیے بھی  بہت پرجوش ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان کا پاکستان آنا جانا رہتا ہے اور  وہ کراچی میں آئی بی اے سمیت کئی تعلیمی اداروں کا متعدد بار دورہ کر چکی ہیں۔جبکہ مشاہد حسین سید  اور رضا ربانی سمیت کئی پاستانی سیاستدانوں کے ساتھ ان کا رابطہ رہتا  ہے ۔

 

  ڈاکٹر صاحبہ کو اٹھارہویں ترمیم کی باریکیوں کے بارے میں بھی خاصی معلومات تھیں کہ اس سے صوبوں کے اختیارات میں کتنااضافہ ہوا ہے۔ وہ پاکستانی میڈیا ڈیلی گیشن کے دورے پر بہت خوش تھیں اور حالیہ برسوں میں پاک روس دفاعی، تجارتی او رعلاقائی معاہدوں کے حوالے سے پر امید بھی۔ ان کا یہ ایک جملہ کتاب پر بھاری تھا کہ ’’پاکستان اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے اور یہی عمل اس کے مستقبل کوسنوارنے کا سبب بنے گا‘‘۔ باتوں باتوں میں انہوں نے ایک اور معاملے پر ہماری رائے جاننا چاہی۔ بولیں یہ ایرانی وزیر خارجہ اچانک پاکستان کیوں آئے؟ ’’ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں نئی حکومت وجود میں آئی ہے ۔ ایران پڑوسی ملک ہے، سعودی عرب اور چین کے وزرائے خارجہ بھی حالیہ دنوں میں پاکستان آئے ہیں ، یہ خیر سگالی دورے بھی  ہیں اور کچھ ظاہر ہے پہلے سے طے شدہ ہوں گے ۔ ڈاکٹر صاحبہ  بولیں ۔ آپ کی بات جزوی طور پر تو درست ہے مگر ایرانی وزیر خارجہ کا معاملہ ذرا مختلف ہے وہ طے شدہ دورے پرنہیں بلکہ امریکی وزیر خارجہ پومپیواور جوائنٹ چیفس کے دورے سے قبل ،ہنگامی طو رپر  پاکستان گئے۔ در اصل یہ امریکہ کو پیغام تھا کہ خطے میں ہماری خارجہ پالیسی تمہارے تابع نہیں رہ سکتی۔ اور یہی پاکستان کا اصل کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ کہتے ہوئے ہمیں ڈاکٹر نتالیہ کی آنکھوں میں امید کی چمک  بھی نظر آئی کئی۔

 

 

دیگر روسی افراد سے ملاقات میں بھی ہم نے محسوس کیا کہ یہ لوگ جذباتی نعرے نہیں لگاتے مگر امریکہ کے دیئے ہوئے زخم ان کے دلوں پر تازہ ہیں اور ان کا حساب چکانے کیلئے وہ پر عزم بھی ہیں۔ اس دوران ڈاکٹر نتالیہ نے2011 میں ہماری سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے کا بھی ذکر کیا جس میں24 پاکستانی فوجی شہید اور 12 زخمی ہوئے  تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوموں کو اپنی خودمختاری اور وقار پرسمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، پاکستان نے اس واقعہ پرامریکہ کو یہ باور کرا کے اچھا کیا۔ ہماری گفتگو جاری تھی کہ دونوں ملکوں کے وفود کارسمی سیشن شروع ہو نے کا اعلان کردیا گیا اور ہم سب  مرکزی میز کی جانب بڑھ گئے۔ جہاں ڈائس کے دونوں طرف پاکستان ا ورروس کے قومی پرچم نصب تھے(جاری)