فائل فوٹو
فائل فوٹو

جج آسمان سے نہیں اترے کہ کارروائی نہیں ہو سکتی، جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی سے متعلق کیس میں جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ موجودہ کیس کسی جج کے خلاف نہیں ہے بلکہ ایک اصول سے متعلق ہے،جوڈیشل کونسل میں جج پر مس کنڈکٹ ثابت ہو تو قانونی نتائج کیا ہوں گے؟جج آسمان سے نہیں اترے لیکن ان کو حاصل آئینی تحفظات کی بھی کچھ وجوہات ہیں۔

سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،پانچ رکنی لارجر بنچ نے وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کی،پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں کی۔

جسٹس عرفان سعادت خان نے کہاکہ کچھ ججز ایسے ہیں جو اس اپیل سے براہ راست متاثر ہوں گے،جو ججز متاثر ہوں گے تو کیا ان کو نوٹس نہیں ہونا چاہیے؟جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ کیا یہ دو حالیہ مستعفی ججز سے متعلق کیس ہے یا عمومی نوعیت کا ہے؟جسٹس عرفان سعادت خان نے کہاکہ کیا ان دو ججزکو حق دفاع دینا نہیں چاہیے؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ موجودہ کیس کسی جج کے خلاف نہیں بلکہ ایک اصول سے متعلق ہے،جوڈیشل کونسل میں جج پر مس کنڈکٹ ثابت ہو تو قانونی نتائج کیا ہوں گے؟جج آسمان سے نہیں اترے لیکن ان کو حاصل آئینی تحفظات کی بھی کچھ وجوہات ہیں۔

جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ کیس چلائیں گے تو صرف یہ نہیں دیکھیں گے کہ ججز کی زیرالتوا انکوائریز کا کیا ہوگا،اٹارنی جنرل نے کہاکہ ججز کے خلاف عادی شکایت گزاروں میں بدقسمتی سے وکلا بھی ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ججز کو فیصلہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،ججز کسی کی خواہش پر نہیں قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔

جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ بہت سے ایماندار ججز کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے پر بلیک میل کیا جاتا ہے،ججز کو بلیک میل کرنے والوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوتی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ مشکل ترین کیس ہے کیونکہ اپنی ہی قسمت کا فیصلہ کرنا ہے.

اٹارنی جنرل نے کہاکہ مخدوم علی خان، خالد جاوید خان کو معاونت کیلئے بلایا جا سکتا ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ خواجہ حارث کو کیوں نا معاون مقرر کیا جائے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ خواجہ حارث تو جسٹس مظاہر کے وکیل ہیں جو شاید اس اپیل سے متاثر ہوں،جسٹس امین نے کہاکہ عدالتی معاونت کی درخواست بھیج رہے ہیں، مزید معاون بھی تجویز کردیں،کیس میں قانونی سوالات مرتب کرکے جمع کرا دیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔