الیکشن کی رات کو 10 سے 12 فیصد نتائج آنے پر جیتنے کا شور مچا کر رائے قائم کرنا غیر منطقی بات تھی، فائل فوٹو
الیکشن کی رات کو 10 سے 12 فیصد نتائج آنے پر جیتنے کا شور مچا کر رائے قائم کرنا غیر منطقی بات تھی، فائل فوٹو

پی ٹی آئی والے اکثریت دکھائیں ہم بڑے شوق سے اپوزیشن میں بیٹھیں گے، شہباز شریف

لاہور:صدر ن لیگ شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب سارا عمل پارلیمان میں ہوگا،پی ٹی آئی والے اکثریت دکھائیں ہم بڑے شوق سے اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں  نے کہا  ہے کہ اب سارا عمل پارلیمان میں ہوگا،پی ٹی آئی والے اکثریت دکھائیں ہم بڑے شوق سے اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ اگرتحریک انصاف والے حکومت نہیں بناسکتے تو دوسری جماعتیں باہمی مشاورت سے فیصلہ کریں گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کےبعد الیکشن کمیشن پر بہت الزامات لگائے گئے ہیں، دھاندلی اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ہمیں 2018 میں جعلی الیکشنز کے ذریعے ہرایا گیا لیکن ہم نے کوئی جلاؤ گھیراؤ نہیں کیا، اب الیکشن کے رزلٹ آچکے ہیں، (ن) لیگ نمبر ون سیاسی جماعت ہے، پیپلز پارٹی دوسری سیاسی جماعت ہے، اب اگلا مرحلہ شروع ہونا ہے، پارلیمان میں اب سارا عمل ہوگا۔

صدر ن لیگ نے کہا کہ الیکشن کی رات کو 10 سے 12 فیصد نتائج آنے پر جیتنے کا شور مچا کر رائے قائم کرنا غیر منطقی بات تھی، اس الیکشن میں دھاندلی ہوتی تو خواجہ سعد کیوں ہارتے؟ گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد اور ایبٹ آباد میں ہمارے سینیئر سیاستدان کیسے ہار گئے؟ دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور ہمارے سینیئر سیاستدان ہار رہے ہیں، یہ مضحکہ خیز بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن میں آر ٹی ایس کو بٹھا دیا گیا، 2018 میں 66 گھنٹوں کے بعد رزلٹ آنا شروع ہوئے تاریخ میں پہلی مرتبہ شہروں کے رزلٹ تاخیر سے آئے اور دیہاتوں کے رزلٹ فوری آئے۔ 2018 میں جھرلو اور ہتھکنڈوں کے ذریعے ہرایا گیا تو ہم نے لانگ مارچ نہیں کیے بلکہ پارلیمان میں جا کر کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر لیول پلیئنگ فیلڈ اور دھاندلی کے الزامات لگائے گئے، 2013 میں 35 پنکچر کے الزامات کس نے لگائے پھر اس کی آڑ میں دھرنے دیے گئے اور سپریم کورٹ نے تب واضح کہا کہ کوئی 35 پنکچر نہیں لگے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پارلیمان کو آگ لگانے یا سول نافرمانی، دھرنوں، قبریں کھودنے اور کفن کی بات نہیں کی بلکہ ہم نے اپوزیشن میں رہ کر قوم کے مفاد میں فیٹف کا بل منظور کروایا اور آئینی کردار ادا کیا، جب ہم نے میثاق معیشت کی بات کی تو اسے حقارت سے ٹھکرا دیا گیا۔ نواز شریف کی قیادت میں کبھی ایسا ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر ڈے، بھارتی جہاز کے حملے اور کورونا پر مل بیٹھنے سے انکار کر دیا گیا لیکن ہم نے ان سب کو تحمل سے برداشت کیا اور اشتعال و بدمزگی سے گریز کیا، 4 سال سے وزیراعظم چور دروازے سے پارلیمان میں داخل ہوتے تھے تاکہ انہیں اپوزیشن سے ہاتھ نہ ملانا پڑے، یہ شدید فاشزم تھا۔

صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ 2022 میں متحدہ اپوزیشن نے آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ کیا تو صدر اور اسپیکر سمیت سب نے غیر آئینی اقدامات کیے، صدر نے اسمبلی توڑی جو بھیانک ماضی ہے، اب ہم نے متحد ہو کر اس سب کو سنبھالنا ہے۔ ہم نے 16 ماہ میں ریاست کو بچایا ورنہ پی ٹی آئی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ تک پہنچا دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔