سندھ کے عوام نے ہمیں نہ صرف کامیاب کرایا بلکہ ماضی سے بھی بہتر مینڈیٹ دیا، فائل فوٹو
 سندھ کے عوام نے ہمیں نہ صرف کامیاب کرایا بلکہ ماضی سے بھی بہتر مینڈیٹ دیا، فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان  پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن )کی حکومت میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ  کر لیا ۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہم ن لیگ کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے، کابینہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

پیپلز پارٹی کے یپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نےکہا کہ خود کو وزیراعظم کی دوڑمیں شامل نہیں کرتا،پیپلزپارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتی،پیپلزپارٹی کو مینڈیٹ نہیں ملا ،اس لیے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نہیں ہوں،انتخابات کے نتائج کو احتجاج کے ساتھ قبول کریں گے، وفاقی حکومت میں وزارتیں نہیں لیں گے.

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا اصولی فیصلہ ہے، پاکستان کو مستحکم کریں، پی پی پی کے پاس وفاقی حکومت بنانے کا مینڈیٹ نہیں ہے، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک کمیٹی بنائے گی جو باقی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرےگی،سیاسی استحکام کیلئے کمیٹی بنا رہے ہیں،اب عوام مزید عدم استحکام نہیں چاہتے۔پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان اور سندھ میں حکومت بنائے گی۔

انھوں نے کہا کہ میں چاہتاہوں آصف زرداری دوبارہ الیکشن لڑکر صدر بنیں،ہم صرف ایک سیاسی بحران نہیں بلکہ ایک معاشی بحران کا سامنا کررہے ہیں ،جبکہ ہم اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کا بھی سامنا کررہے ہیں ،پاکستان ایشو ٹو ایشو معاملات میں ضرور تعاون کریں گے، ہم چاہتے ہیں ملک میں جمہوریت اور سیاسی و معاشی استحکام آئے۔

انھوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے دیگر جماعتوں کیساتھ مذاکرات کیلیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ حکومت سازی کا معاملہ آگے بڑھ سکے،ہم کوشش کریں گے کہ ملک کو اس بحران سے نکالیں اور ایسی سمت میں لے جائیں جہاں قیاس ختم ہو۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پنجاب کے حوالے سے ہمارے رہنماؤں نے بہت سی شکایات سامنے رکھی ہیں،پنجاب کے رہنماؤں کے تحفظات تھے کہ گزشتہ 18ماہ میں ہمارے مسائل کو حل نہیں کیا گیا،لیول پلیئنگ فیلڈ ، دھاندلی، بے ضابطگیوں کا جہاں تک سوال ہے سی ای سی شکایات وصول کرے گی،ہم ان تحفظات کے باوجود عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں گے ،ہم سیاسی جماعتوں کیساتھ مل کر ان کوتاہیوں کی نشاندہی کرکے آگے بڑھیں گے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ کسی جماعت کے پاس مینڈیٹ واضح نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) یا پی پی پی اکیلے حکومت نہیں بنا سکتے، اگر دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں تو کوئی سیاسی جماعت نتائج قبول نہیں کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آج بھی سیاسی فیصلے نہیں کررہی، پاکستان کی عوام پیپلز پارٹی کی طرف دیکھتی ہے، آئینی عہدے لینے کا ہمارا حق یے، صدر، چیئرمین سینٹ اور اسپیکر کے لیے پیپلر پارٹی اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آصف زرداری میرے والد ہیں اور میری خواہش ہے کہ وہ صدر بنیں۔