چین میں 16 فٹ لمبا ’آبی ڈریگن‘ دریافت

 

چین (اُمت نیوز)ماہرین حیاتیات کی ایک ٹیم نے چین میں ایک عجیب و غریب جانور کی باقیات (فوسل) دریافت کی ہیں جو تقریباً 240 ملین سال پرانی ہیں، یہ جانور ٹریاسک دور میں پایا جاتا تھا۔

چین میں پائے جانے والے اس جانور کو ’لنگوو کا ڈریگن‘ کا نام دیا گیا، اس مخلوق کی شناخت ایک نئی نسل کے طور پر کی گئی ہے جسے ڈائنو سیفالوسورس اورینٹیلس کہا جاتا ہے۔

اس جانور کی باقیات 16 فٹ سے زیادہ لمبی ہیں، اس کی صرف گردن ہی 5 فٹ لمبی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے نیشنل میوزیم کے کیوریٹر ڈاکٹر نک فریزر جنہوں نے فوسل کا مطالعہ کرنے میں مدد کی تھی، انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مخلوق کے ’فلیپر نما اعضاء اور 32 الگ الگ مہروں والی ایک انتہائی لمبی گردن ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ واقعی ایک بہت ہی عجیب جانور ہے۔‘

 

ڈاکٹر نک فریزر نے کہا کہ ’یہ دریافت ہمیں اس قابل ذکر لمبی گردن والے جانور کو پہلی بار مکمل طور پر دیکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ یہ ٹریاسک کی عجیب اور حیرت انگیز دنیا کی ایک اور مثال ہے جو ماہرین حیاتیات کو پریشان کرتی رہتی ہے‘۔

اس جانور کی اناٹومی کی بنیاد پر، محققین کا خیال ہے کہ یہ ایک ماہر تیراک تھا جس نے اپنی لمبی گردن کو سمندروں میں دراڑوں کے درمیان کھانے کی تلاش کے لیے استعمال کیا۔

اس دریافت سے پہلے، ڈائنو سیفالوسورس کی صرف جزوی باقیات کا انکشاف ہوا تھا۔

اس نئے اور مکمل فوسل نے ماہرینِ حیاتیات کو پہلی بار اس کی اناٹومی کا مکمل تجزیہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

ڈاکٹر فریزر نے نوٹ کیا، ’جب بھی ہم ٹریاسک دور کے ان ذخائر کو دیکھتے ہیں، ہمیں کچھ نیا ملتا ہے۔‘

سرکردہ محقق نے قیاس کیا کہ اس کی لمبی گردن شاید ڈائنو سیفالوسورس کو دوسرے آبی رینگنے والے جانوروں کے مقابلے میں شکار کرنے میں فائدہ دیتی ہے۔

قابل ذکر فوسل چین کے جنوبی علاقے میں قدیم چونا پتھر میں بند پایا گیا تھا۔