امریکا میں رہائش پذیر بیٹا لگژری لائف گزار رہا ہے، فائل فوٹو
 امریکا میں رہائش پذیر بیٹا لگژری لائف گزار رہا ہے، فائل فوٹو

صارم برنی ٹرسٹ کیس- امریکا بھیجے بچوں کا ڈی این اے ہوگا

عمران خان:
صارم برنی ٹرسٹ کی جانب سے امریکہ سمیت بیرون ملک بھجوائے گئے بچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوگا۔ تاکہ ان بچوں کے ظاہر کردہ والدین کے اصل ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔

دوسری جانب صارم برنی ٹرسٹ کے خلاف انسانی اسمگلنگ کیس میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شامل کر لی گئی ہیں۔ صارم برنی اور اہلیہ کے اثاثوں کی چھان بین شروع کردی گئی ہے۔ تحقیقات میں بچیوں کو لاکھوں روپے میں فروخت کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے انسانی اسمگلنگ کیس میں صارم برنی کو گزشتہ روز شرقی کے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تو وہاں صارم برنی نے اعتراف کرلیا کہ اس کے ٹرسٹی کی جانب سے بچوں کو امریکی شہریوں کو گود دینے کیلئے تین ہزار ڈالر فی بچی کے حساب سے رقم وصول کی گئی اوراس کے عوض غیر ملکی خاندانوں کو رسیدیں بھی جاری کی گئیں۔ تاہم یہ کام ٹرسٹ کے دو عہدیداروں کی جانب سے کیا گیا۔

اس پر عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامہ جاری کیا گیا کہ ایف آئی اے کے تفتیشی افسر صارم برنی کے خلاف مقدمہ میں کافی ثبوت لے کر آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مزید تفتیش کیلئے ان کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت تو نہیں۔ تاہم انہیں بیس جون تک جوڈیشل ریماند پر جیل بھیجنے کی ہدایت جاری کردی گئی۔ واضح رہے کہ صارم برنی ٹرسٹ کے سربراہ صارم برنی کو گزشتہ ہفتے ایف آئی اے امیگریشن کے حکام نے اس وقت کراچی ایئر پورٹ سے حراست میں لے کر ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کی ٹیم کے حوالے کیا۔ جب وہ ایک ماہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں گزارنے کے بعد واپس وطن پہنچے تھے۔

اس وقت ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ صارم برنی کے خلاف امریکی سفارتخانے کی تحریری درخواست پر انکوائری کی جا رہی تھی۔ جس میں اتنے شواہد سامنے آگئے کہ انہیں حراست میں لے کر فوری طور پر باقاعدہ مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری ظاہر کردی گئی تھی۔ ذرائع کے بقول جیسے ہی صارم برنی کو گرفتار کرکے صدر میں ایف آئی اے دفتر منتقل کیا گیا۔ اسی وقت ایف آئی اے افسران وہاں پہنچ گئے تھے۔ جب صارم برنی کے سامنے امریکی سفارتخانے کا مواد اور ایف آئی اے انکوائری کی دستاویزات رکھی گئیں تو انہوں نے اعترافات کرنے میں دیر نہیں لگائی۔

ایف آئی اے دستاویزات کے مطابق معاملہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی سفارتخانے کی امیگریشن ٹیم نے جولائی اور نومبر 2023ء میں یونیورسٹی روڈ پر واقع صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کا دورہ کیا۔ امیگریشن ٹیم نے صارم برنی اور ان کی ٹیم سے بچوں کی آڈپشن کا طریقہ کار معلوم کیا تھا۔ دورے کے دوران دو بچیوں جن کی عمریں چار اور چھ سال تھیں اور جنہیں سفارتخانے ریفر کیا گیا تھا۔ ان کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئیں تو صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ٹیم کو ایک حلف نامہ دکھایا گیا۔ جس میں دو بچیوں کے مبینہ والد محمد واصف شبیر کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس کی بیوی دو ماہ قبل گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ مبینہ والد نے دونوں بچیوں کو کسی فیملی کو گود دینے کیلیے صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے حوالے کیا ہے۔

تاہم ان بچیوں کے حوالے سے صارم برنی ٹرسٹ نے عدالت میں بتایا کہ یہ دونوں بچیاں صارم برنی ٹرسٹ کے باہر گیٹ سے ملی ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ٹرسٹ نے دونوں بچیوں سارہ فاطمہ اور زہرہ فاطمہ کے والدین کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی اور نہ ہی کسی نے ان کے والدین ہونے کا دعویٰ کیا۔ جس سے امیگرنٹ ویزہ یونٹ کے اسٹاف کے مشاہدے کی تصدیق ہو گئی کہ ٹرسٹ کی جانب سے جان بوجھ کر عدالت کو گمراہ کیا گیا اور بچیوں کے نام بھی تبدیل کیے گئے۔ اسی طرح جنوری 2024ء میں صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے لیگل ڈیپارٹمنٹ کے انچارج بصالت اے خان کی جانب سے اسلام آباد میں امیگریشن ٹیم کو ای میل موصول ہوئی۔ جس میں بتایا گیا کہ ایک اور بچی جس کی پیدائش اگست 2023ء میں ہوئی، کے والد محمد ایاز خان کی جانب سے حلف نامہ پیش کیا گیا۔ جس میں اس کی بیوی کی مرضی سے بچی کو گود لینے کے حوالے سے کسی بھی فیملی کو دینے پر کوئی اعتراض نہ کرنے کا بتایا گیا۔ اس کیس میں بھی عدالت کو گمراہ کرتے ہوئے یہی بتایا گیا کہ بچی صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے باہر گیٹ سے ملی ہے اور اس کے والدین کا نہیں پتا چل سکا ہے۔

دستاویزات کے مطابق امریکی سفارتخانہ اسلام آباد، کی جانب سے گزشتہ پانچ برسوں میں صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ریفر کیے گئے 6 بچوں کو IR-4 اڈاپشن ویزے جاری کیے گئے۔ جن کی پیدائش 2018ئ، 2021ء اور 2022ء میں ہوئی۔ ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ صارم برنی اور ان کے ساتھیوں بصالت علی خان، حمیرہ ناز اور دیگر نے جان بوجھ کر عدالت میں تینوں بچیوں زہرہ فاطمہ، سارہ فاطمہ اور حیا یاسر کو گود دینے کیلئے غلط معلومات دیں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے ان کی اسمگلنگ بیرون ملک گود لینے کے نام پر کی۔ ایف آئی اے کے مطابق صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ نے بچیوں کو امریکی فیلمیز کو دینے کیلئے فی کس 3 ہزار امریکی ڈالر چارج کیے۔

ایف آئی اے کے مطابق حیا یاسر کی والدہ افشین محمد علی جو سرجانی ٹائون یارو گوٹھ کی رہائشی ہے، نے اپنی بیٹی کو بشریٰ نامی خاتون کو مدیحہ نامی خاتون کے ذریعے 3 لاکھ 50 ہزار روپے میں فروخت کیا۔ ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمے میں سید صارم احمد برنی، بصالت علی خان اور حمیرہ ناز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جبکہ مدیحہ، محمد واصف شبیر، ایاز خان اور دیگر کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔

تحقیقات میں فنڈز کے نام پر بچیوں کے عوض ڈالرز وصول کرنے کا انکشاف ہونے پر ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔ جس میں صارم برنی اور ان کی اہلیہ کی جائیدادوں اور بینک اکائونٹس کی چھان بین شروع کی جا رہی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صارم برنی نے فلاحی کاموں کیلئے ٹرسٹ کو ظاہر کرنے کے ساتھ گھر کے اخراجات چلانے کیلئے خود کو فری لانس پراپرٹی ایجنٹ ظاہر کیا اور ماہانہ آمدنی ڈیڑھ سے دو لاکھ ظاہر کی۔ تاہم ان کا بیٹا کئی برسوں سے امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ جس کی تعلیم اور رہائش کا سالانہ خرچہ ستّر لاکھ سے ایک کروڑ تک لگایا گیا۔ اس پر بھی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ رقم کس ذرائع سے دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے بقول صارم برنی ویلفئیر ٹرسٹ کی فنڈنگ کے ذرائع معلوم کرنے کیلئے وزرات داخلہ اور محکمہ داخلہ سندھ کو خط لکھ دیئے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ برس میں 8 سے 12 بچے بیرون ملک بھیجے گئے۔ جبکہ امریکن قونصلیٹ کی جانب سے مزید چھ سے سات بچوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ جن کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ٹرسٹ کی جانب سے بیرون ملک بھیجے جانے والے بچوں میں 15 بچیاں شامل ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک امریکی فیملی جس کے پہلے ہی چار بچے ہیں، اس نے بھی دو بچیوں کو گود لینے کیلئے ٹرسٹ سے رابطہ کیا۔ صرف بچیوں کو ہی کیوں گود دیا گیا؟

اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ صارم برنی ویلفیر ٹرسٹ جس امریکی فرم کے ساتھ مل کر یہ کام کر رہا تھا۔ وہ امریکی فرم گود لینے کی خواہشمند جوڑوں سے تقریباً 9 ہزار ڈالر فی بچی وصول کرتی تھی اور ٹرسٹ کو ریفر کرتی تھی۔ جبکہ ٹرسٹ الگ سے 3 ہزار ڈالر فی کیس وصول کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق امریکی فرم کے خلاف بھی وہاں کی اتھارٹیز نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔