ندیم بلوچ :
فلسطینیوں کا رمضان اس بار بھی محاصرے میں گزرے گا۔ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود بھی لوگوں کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ زیادہ تر افراد اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس بار بھی اپنا پہلا روزہ اور افطار کھلے آسمان میں کرنے میں مجبور ہیں۔
ان کے پاس نہ تو رہنے کیلئے مناسب خیمے ہیں اور نہ ہی رمضان المبارک کا راشن موجود ہے۔ بجلی اور ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے روزے داروں کو افطار اور سحری کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ غزہ کے چند فلاحی ادارے لوگوں کیلئے رمضان دسترخوان کا اہتمام کررہے ہیں جس میں کھانے میں سبزی اور افطار کیلئے کھجور اور مشروب پیش کیا جاتا ہے۔ اسرائیلی ہٹ دھرمی کے سبب غزہ بھر میں امدادی سرگرمیاں مطلوب ضررویات سے بہت کم ہے۔
دوسری جانب قابض فوج کی طرف سے عائد پابندیوں کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں نے رمضان المبارک کی پہلی تراویح مسجد اقصیٰ میں ادا کی۔ ہزاروں نمازی مسجد اقصیٰ میں بہ جماعت نماز تراویح ادا کرنے پہنچے۔ خیال رہے کہ قابض صہیونی حکام نے 55 سال سے کم عمر مردوں، 50 سال سے کم عمر کی خواتین اور 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔
مسجد اقصیٰ میں رمضان کے مہینے میں لاکھوں فلسطینی عبادت کے لیے آتے ہیں، خاص طور پر نماز جمعہ اور تراویح کی ادائیگی کے لیے بعض اقات لاکھوں فلسطینیوں کا مجمع جمع ہوتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج اورپولیس منظم پالیسی کے تحت فلسطینی نمازیوں اور روزہ داروں کو قبلہ اول تک رسائی سے روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سمیت دیگر مکروہ ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔
ادھر رفح میونسپلٹی نے وزارت بلدیات کے تعاون سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے استقبال کی تیاریوں کے حصے کے طور پر صفائی کی ٹیموں، محلہ کمیٹیوں، یوتھ کونسل اور معاشرے کے مختلف طبقوں کے رضاکاروں کی وسیع شرکت کے ساتھ غزہ رمضان مہم کا آغاز کیا۔ اس مہم میں گلیوں کی صفائی، ملبے اور کچرے کو ہٹانا، سڑکوں ہر گڑھوں کو بھرنا، دیواروں کو پینٹ کرنا اور رمضان کے حوالے سے سجاوٹ کرنا شامل تھا، جو شہر کو درپیش چیلنجوں کے باوجود رفح میں ثابت قدمی اور امید کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
رفح میونسپلٹی میں محکمہ صحت اور ماحولیات کے ڈائریکٹر مہند معمر نے کہا کہ یہ مہم غزہ کے مشکل حالات کی روشنی میں چلائی گئی ہے۔ اس مہم کے ذریعے، امید اور تنظیم کا پیغام دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ معمر نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ رفح ثابت قدمی اور استقامت کا نمونہ بنے اور دنیا کو اس بات کی عکاسی کرے کہ ہمارا شہر محبت کرنے والوں کے ہاتھوں دوبارہ آباد ہوگا۔
رفح میونسپلٹی نے تمام شہریوں سے سڑکوں کی صفائی مہم میں اپنا حصہ ڈالنے کی اپیل بھی کی ہے۔ ادھر اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں 19 جنوری کو نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا، تاہم دوسرا مرحلہ ابھی تک غیر واضح ہے۔ حماس نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں 42 دن کی توسیع کی تجویز مسترد کردی ہے۔
حماس کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ یہ جنگ بندی کے معاہدے سے متصادم ہے۔ اسرائیلی تجویز میں اضافی قیدیوں کے تبادلے کے بدلے ماہ رمضان کے دوران جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مصر کے سیکورٹی ذرائع نے گذشتہ روز انکشاف کیا تھا کہ قاہرہ میں اسرائیلی وفد نے پہلے مرحلے کو مزید 42 دن تک وسعت دینے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ غزہ کے محلوں اور بازاروں میں ماہ رمضان کی آمد کے موقع پر جھنڈیاں لگ گئیں، جہاں بچے بھی خوشی سے سرشار ہیں۔ فلسطینی فنکاروں نے ملبے پر رمضان مبارک اور دیواروں پر فلسطین کا نام لکھ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا، مغربی کنارے میں مہنگائی اور تنگ دستی میں عوام رمضان کی برکتوں کو لے کر پرامید ہیں۔ غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے پر مذاکرات کے لیے اسرائیلی، امریکی اور قطری وفود قاہرہ پہنچ گئے۔