فائل فوٹو
فائل فوٹو

مصطفیٰ عامر کیس میں دو خصوصی ٹیمیں بنا دی گئیں

عمران خان :
مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان، شیراز اور ساحر حسن کے حوالے سے ڈارک ویب، منی لانڈرنگ اور آن لائن منشیات سپلائی پر تحقیقات میں ایف آئی اے میں دو علیحدہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ایک ٹیم منی لانڈرنگ کی انکوائری کے لیے ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل میں قائم کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری تحقیقاتی کمیٹی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی میں بنائی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں جگہوں پر بقاعدہ انکوائریاں رجسٹرڈ کرکے انکوائری نمبر الاٹ کردئے گئے ہیں۔ جبکہ تفتیشی افسران کو بھی مامور کردیا گیا ہے۔ سندھ پولیس کی جانب سے یہ کام کرنے میں گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کئے جا رہے تھے۔ تاہم گزشتہ روز قائمہ کمیٹی کی جانب سے معاملے پر سخت نوٹس لئے جانے اور سندھ کے صوبائی ہوم منسٹری کے نمائندے کو طلب کئے جانے کے بعد آئی جی سندھ کی جانب سے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کرنے کے لئے باقعدہ خط لکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز ملزم ارمغان کے برآمد کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ اور موبائل فونز ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ تاہم ابھی ہیڈنگ اور یعنی تحریری اور عملی طور پر حوالے کرنے کا کام مکمل نہیں ہوا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے سی آئی اے کو ایک مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے جس میں وہ تمام مطلوبہ مواد اور آلات مانگے گئے ہیں جو منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کو ضروری ہیں۔

اس ضمن میں ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ سی آئی اے کی جانب سے ملنے والے شواہد اور کیس پراپرٹی ابھی عملی طور پر ایف آئی اے اور سائبر کرائمز ونگ کو موصول نہیں ہوئے ہیں۔ تاہم جیسے ہی ملیں گے فوری طور پر ان کا فرانزک شروع کردیا جائے گا۔

اس ضمن میں سائبر کرائمز ونگ کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کی تحقیقاتی کمیٹی قائمہ کمیٹی کی ہدایات پر بنی ہیں اور وہ امید کر رہے ہیں کہ جو اختیار انہیں قائمہ کمیٹی نے اس نیٹ ورک کے خلاف ڈارک ویب اور کرپٹوکرنسی کی ٹرانزیکشنز کا کھوج لگانے کے لئے دیا ہے وہ اس پر مکمل تحقیقات کے قابل ہوسکیں گے۔ اس وقت وہ صرف امید ہی کرسکتے ہیں، کیونکہ اس کیس کی تحقیقات میں کئی قسم کے دباﺅ اور مشکلات کا ابتدا ہی سے سامنا ہونے لگا ہے۔

دوسری جانب منی لانڈنگ کی انکوائری کا باقاعدہ اندراج ہونے کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ سرکل نے ملزم کے تمام اکاﺅنٹس اور پراپرٹیز کو 90 روز کیلئے منجمد کر نے کا کام شروع کردیا ہے۔ تاہم اس پر عمل اس وقت ہوگا جب ملزمان کی تمام پراٹیز ،کھاتوں اور گاڑیوں کا ریکارڈ ایکسائز، اسٹیٹ بینک اور پراپرٹیز سے منسلک اداروں اور سوسائٹیز سے مل جائے گا۔ ان تمام اداروں اور سوسائٹیز کو ملزمان کے کوائف کے ساتھ خطوط لکھے جا رہے ہیں۔ تاکہ پہلے مرحلے میں یہ معلوم کیا جاسکے کہ ملزمان کے نام پر کتنے بینک اکاﺅنٹس، گاڑیاں، جائیدادیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملزمان کے بیرون ملک موجود اثاثوں کا سراغ لگانے کے لئے ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل اوسریز پراپرٹیز سے بھی رابطے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فروری کے مہینے کے آغاز میں مصطفیٰ عامر نامی نوجوان کے اغوا، قتل، تاوان وصولی کے اس ہائی پروفائل کیس کے سامنے آنے کے بعد پولیس کا سی آئی اے کا تفتیشی شعبہ وفاقی حساس ادارے کے ساتھ مل کر ملزمان کو ٹریس کر رہا تھا اور مرکزی ملزم ارمغان سمیت بعد ازاں ملزم شیراز اور سااحر حسن کی گرفتاریاں عمل میں آتے ہی نت نئے انکشافات کا سلسلہ جاری تھا۔ جس میں منی لانڈرنگ ،منشیات سپلائی اور ڈارک ویب کے دھندے کے عالمی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہونے کے شواہد بھی سامنے آنے کے دعوے کئے گئے۔

جبکہ ملزم ارمغان کے بنگلے سے 60 کے لگ بھگ لیپ ٹاپ ، موبائل فونز ملنے کے بعد انکشافات ہوا کہ ملزمان کال سینٹر کی آڑ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے آن لائن کریڈٹ کارڈز فراڈز، منشیات کی خریداری کی ادائیگی اور منافع کی رقم کی پارکنگ کے لئے ایک بڑا نیٹ ورک بھی چلا رہے تھے۔ چونکہ سندھ پولیس ابھی تک مخبروں کے ذریعے ملنے والی امفارمیشن پر کام کرتی ہے اس لئے ملزمان کو ٹریس کرنے اور ان کے کال ڈیٹا سے رابطوں کو شامل تفتیش کرنے کا کام وفاقی حساس ادارے سے لیا گیا۔ اس کے باجود آن لائن جرائم ،منی لانڈرنگ اور کرپٹو منی لانڈرنگ کی تفتیش کا کام ایف آئی اے کو وقت پر نہیں سونپا گیا۔

اس کو ایک طویل مرحلے میں ڈال کر ایس ایس پی سی آئی اے اور ڈی آئی جی سی آئی اے کے درمیان سرخ فیتے میں ڈال دیا گیا۔ اگر یہ کام بروقت ہوجاتا تو اس دوران ملزمان کے بینک اکاﺅنٹس اور کرپٹو اکاﺅنٹس سمیت دیگر اثاثے منجمد کرکے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کو بیرون ملک جانے سے روکا جاسکتا تھا۔ اور ارمغان کی گرفتاری کے فوری بعد اس کے تمام لیپ ٹاپ اور موبائل فونز ایف آئی اے سائبر کرائمز سرکل کے حوالے سے کرکے اس کے کرپٹو اکاﺅنٹس کی منی لانڈرنگ اور منشیات سپلائی سے جڑے دیگر اہم افراد کو بھی بروقت ٹریس کرکے ملک سے فرار ہونے سے روکا جاسکتا تھا جوکہ صرف ایک ہفتہ قبل ساحر حسن کی گرفتاری کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں کراچی سمیت کئی شہروں کے منشیات اسمگلر اور ماڈلنگ سے منسلک اہم شخصیات کے علاوہ بعض سرکاری اداروں کے افراد بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز آئی جی سندھ کی جانب سے اس وقت ایف آئی اے کو اس کیس میں منی لانڈرنگ کے لئے باقاعدہ مراسلہ ارسال کرنا پڑا جب ایک روز قبل قائمہ کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر انتہائی سخت نوٹس لیا گیا اور صوبائی ہوم منسٹری کے نمائندے کو بھی طلب کرکے جواب مانگا گیا کہ ابھی تک ایف آئی اے کو اس کیس کی تفتیش میں باقاعدہ طور پر کیوں نہیں شامل کیا گیا اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے از خود ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وقار الدین کو طلب کرکے انہیں احکامات جاری کئے کہ ملزمان برسوں سے کال سینٹر کی آڑ میں منی لانڈرنگ اور منشیات سپلائی کا دھندہ ڈارک ویب کے ذریعے کر رہے ہیں اس پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کیوں تحقیقات نہیں کررہا۔

اس کے فوری بعد گزشتہ رات کو ہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وقار الدین کی جانب سے کمیٹی کو سائبر کرائم ونگ کے تحقیقات شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی جبکہ سندھ کی ہوم منسٹری کے نمائندے کی جانب سے کمیٹی کو کہاگیا کہ وہ تیاری کرکے نہیں آئے جس پر انہیں وقت دیا جائے تاہم اگلے ہی روز آئی جی سندھ کی جانب سے ایف آئی اے کو خط لکھ دیا گیا۔ جبکہ سائبر کرائمز ونگ کراچی میں گزشتہ رات ہی کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ۔