فائل فوٹو
فائل فوٹو

پرویز خٹک کی واپسی ۔ کیا ہونے جا رہا ہے ؟

امت رپورٹ :

پرویز خٹک کو آخر کار وفاقی کابینہ میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ اس بارے میں سب سے پہلے ’’امت‘‘ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی جو ان ہی صفحات پر قریباً دو ماہ پہلے شائع ہوئی تھی ۔ جس میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کو وفاقی مشیر داخلہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ یہ بات خود پرویز خٹک نے اپنے ایک قریبی ذریعے کو بتائی تھی ۔

پرویز خٹک کو وزیراعظم شہباز شریف کا مشیر بنایا جا چکا ہے ، تاہم ابھی انہیں کوئی قلمدان نہیں سونپا گیا ۔ ذرائع کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ پرویز خٹک کو داخلہ کا قلمدان دینے کے قوی امکانات ہیں ۔ دو ڈھائی ماہ قبل جب اس معاملے پر غور کیا جارہا تھا تو مطمع نظر یہی تھا کہ پرویز خٹک جیسا تگڑا مشیر داخلہ مقرر کرکے خاص طور پر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو کاؤنٹر کیا جائے۔ تاہم یہ پرویز خٹک کو قلمدان ملنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گا کہ کیا طے شدہ پلان کے تحت ہی انہیں وفاقی کابینہ میں لایا گیا ہے۔

اس معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک کو موجودہ سسٹم میںایڈجسٹ کرنا تو طے تھا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس ایڈجسٹمنٹ کے فوائد حاصل کرنے کے لئے انہیں کون سا قلمدان دیا جائے گا۔ اگر تو مشیر داخلہ کا محکمہ مل گیا تو اس کا مقصد یہی ہوگا کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کی ممکنہ احتجاجی تحریک سے نمٹنے کا ٹاسک انہیں سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اگر کوئی دوسرا قلمدان ملتا ہے تو پھر مقاصد تبدیل ہوسکتے ہیں۔ جہاں تک موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا معاملہ ہے تو ان کی موجودگی میں مشیر داخلہ لانا کوئی انہونی نہیں۔ ایسی باتیں بھی چل رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر انہیں صرف پی سی بی چیئرمین کے عہدے تک محدود کردیا جائے۔ تاہم فوری طور پر اس حوالے سے قطیعت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ قصہ مختصر ہم ان دو سیناریو میں سے پہلے سیناریو پر فوکس رکھتے ہیں کہ اگر پرویز خٹک کو مشیر داخلہ کا قلمدان مل جاتا ہے تو اس کے بعد کا ممکنہ منظر نامہ کیا ہوسکتا ہے۔

جیسا کہ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عید کے بعد ایک بار پھر احتجاجی تحریک کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے بطور مشیر داخلہ پرویز خٹک ایک موزوں انتخاب ہوسکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں خاص طور پر خیبرپختونخوا کے معاملات کو ان سے بہتر کوئی ہینڈل نہیں کرسکتا ۔ پھر یہ کہ اس صورت میں خیبرپختونخوا کا چیف سیکریٹری اور آئی جی ایک طرح سے ان کے ہاتھ میں ہوں گے کہ دونوں وفاق کے نمائندے ہیں۔ کس کو صوبے میں کہاں ڈی پی او لگانا ہے، کہاں نہیں لگانا۔ غرض یہ کہ صوبائی بیوروکریسی میں پرویز خٹک اکھاڑ پچھاڑ کرسکیں گے۔

یاد رہے کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک پی ٹی آئی نے وفاق پر چڑھائی کے لیے خیبر پختونخوا کو اپنے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ اگرچہ ہر بار پی ٹی آئی کو پسپا ہونا پڑا لیکن اس کی وجوہات کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندرونی سرکل میں یہ گہرا تاثر پایا جاتا ہے کہ ان ناکامیوں کے پیچھے وزیر اعلیٰ گنڈاپور کا کمپرومائز ہونا ہے کہ وہ کسی ’’اور‘‘ کے آدمی ہیں ۔ اسی لیے عمران خان نے گنڈا پور سے پارٹی کی صوبائی صدارت واپس لے کر جنید اکبر کو پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کا صدر بنایا ۔ جنید اکبر نے نیا عہدہ سنبھالنے کے بعد بڑھک لگائی تھی کہ پنجاب کی طرف جانے والے تمام راستے احتجاجاً بند کرکے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ تاہم جنید اکبر کو قریب سے جاننے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اتنے مضبوط آدمی نہیں کہ کوئی طاقتور تحریک چلالیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صوبائی صدارت کا بھاری پتھر چومنے سے انکار کردیا تھا۔

اس معاملے سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ جب عمران خان نے انہیں حکم دیا کہ اب پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت وہ سنبھال لیں تو جنید اکبر کا کہنا تھا کہ نہ ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور نہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے خوشگوار تعلقات ہیں ۔ ایسے میں وہ صوبائی صدارت لے کر کیا کریں گے۔ صوبائی صدر بننے کی صورت میں صوبے کے کارکنان ان کی طرف دیکھیں گے لیکن وہ ان کے مسائل حل کرنے سے قاصر رہیں گے کہ صوبے میں گنڈاپور کا سکہ چلتا ہے ۔

ذرائع کے بقول جنید اکبر کو اس بات کا بھی ادراک تھا کہ صوبائی صدارت سنبھالنے کے بعد احتجاج کی ساری ذمہ داری ان پر آجائے گی ، جبکہ لوگ بڑی تعداد میں اب سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار نہیں ‘ پھر یہ کہ گنڈاپور کی طرح وہ کسی احتجاج میں صوبے کی سرکاری مشینری استعمال نہیں کرپائیں گے ، خود گنڈاپور بھی جنید اکبر کو کامیاب ہوتا دیکھنا نہیں چاہیں گے۔ایسے میں ناصرف انہیں بھی ناکام قیادت کے طعنے سننے کو ملیں گے بلکہ گالم گلوچ بریگیڈ کی توپوں کا رخ بھی ان کی طرف ہو جائے گا۔ یہ وہ عوامل تھے جن کے پیشِ نظر جنید اکبر صوبائی صدارت سے کنی کترا رہے تھے۔ تاہم تمام تر عذر اور خدشات کے باوجود جنید اکبر کی نہیں سنی گئی اورانہیں عمران خان کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے صوبائی صدارت قبول کرنی پڑی ۔ صوبائی صدر بنانے کے بعد عمران خان نے ان کی ایک مشکل دور کرنے کی کوشش کے طور گنڈا پور کو ہدایت کی کہ وہ جنید اکبر سے تعاون کریں ۔ بعد ازاں جنید اکبر کی گنڈاپور کے ساتھ ملاقات کی تصویر اسی ہدایت کا نتیجہ تھی ۔ دونوں کے ایک دوسرے کے لئے میٹھے میٹھے بیان بھی آئے۔ تاہم واقفان حال کا کہنا ہے کہ ’’دلوں کی رنجشیں‘‘ برقرار ہیں ۔ اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا ۔

صوبائی صدر بننے کے بعد جنید اکبر نے اپنی قیادت میں صرف ایک احتجاجی جلسہ کیا ہے ۔ تاہم صوابی میں کیا جانے والا یہ شو ناکام رہا ۔ ایک ایسا صوبہ جہاں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے ، جنید اکبر قابل ذکر تعداد میں کارکنوں کو باہر نکالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ایک اہم سابق عہدے دار کے بقول گنڈاپور لاکھ جنید اکبر کو اپنے تعاون کا یقین دلائیں لیکن دل ملنا مشکل ہیں ۔ گنڈاپور ، جنید اکبر کو ناکام بنانے کیلئے باریک کام دکھاتے رہیں گے ۔ صوابی جلسے کی ناکامی بھی اسی باریک کام کا شاخسانہ تھی۔

جنید اکبر نے صدر بن جانے کے بعد صوبے کے تنظیمی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے ۔ یہی ان کی بڑی غلطی ہے ۔ ضلع اور تحصیل سے لے کر نچلی سطح تک تمام پارٹی عہدوں پر وہی لوگ بیٹھے ہیں ، جنہیں بطور صوبائی صدر گنڈاپور لے کر آئے تھے ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب گنڈاپور کے وفادار ہیں۔ وہ جنید اکبر نہیں گنڈاپور کے اشاروں پر چلیں گے۔ صوابی جلسے میں کارکنوں کی کم حاضری اس کی واضح مثال ہے۔

جنید اکبر کا اصل امتحان عید بعد شروع ہوگا ۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ محرم کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اسلام آباد کی طرف ایک اور احتجاجی مارچ کیا جائے۔ صوابی جلسے میں جنید اکبر دوہرا چکے ہیں کہ ’’ اس بار عمران خان جب بھی کال دیں گے تو ہم تیاری کے ساتھ آئیں گے۔‘‘ تاہم پرویز خٹک کو اگر مشیر داخلہ بنا دیا گیا تو جنید اکبر کے لیے یہ مہم جوئی اتنی آسان نہیں ہوگی ۔