سعودی عرب کا امریکا سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
اگر صورتحال برقرار رہی تو ایران باب المندب آبنائے کو بند کر سکتا ہے، جو خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
ریاض سعودی عرب نے امریکا پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق عائد کی گئی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
عالمی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو ایران جوابی اقدام کے طور پر باب المندب آبنائے کو بند کر سکتا ہے، جو خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اس پیش رفت پر تشویش کا شکار ہے کیونکہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل گزرتا ہے، اور کسی بھی رکاوٹ سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
پس منظر کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی، جس کے بعد ہرمز کے حوالے سے سخت اقدامات سامنے آئے۔
سعودی عرب نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی طرف واپسی اور ناکہ بندی کے خاتمے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کا استحکام اور عالمی تیل کی سپلائی محفوظ رہ سکے۔